برطانیہ کی تاریخ کے سب سے بڑے منی لانڈرنگ کیس میں 5 ارب پاؤنڈ مالیت کے بٹ کوائن رکھنے والی ایک چینی نژاد خاتون کو ساڑھے 11 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
47 سالہ ژیمن چیان، جو خود کو ’’گاڈیس آف ویلتھ‘‘ یعنی دولت کی دیوی کہتی تھی، تقریباً 5 سال مفرور رہنے کے بعد گزشتہ برس اپریل میں یارک کے ایک ایئر بی این بی گھر سے گرفتار ہوئی۔
خاتون پر الزام تھا کہ اس نے چین میں اربوں یوان کے فراڈ کے بعد برطانیہ میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے داخل ہو کر منی لانڈرنگ کے ذریعے دولت چھپائی۔
پولیس نے 2018 میں لندن کے علاقے ہیمپسٹیڈ میں اس کے 50 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے گھر پر چھاپہ مار کر 61 ہزار سے زائد بٹ کوائن برآمد کیے، جو اس وقت تقریباً ڈیڑھ ارب پاؤنڈ کے تھے، تاہم اب ان کی مالیت 5 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہے۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق چیان نے 2014 سے 2017 کے دوران چین میں ’’برٹین نائس لائف انشورنس‘‘ کے نام سے ایک جعلی سرمایہ کاری اسکیم چلائی، جس کے ذریعے 1 لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد کو دھوکا دے کر تقریباً 40 ارب یوان (4.6 ارب پاؤنڈ) لوٹے۔ اس دوران وہ چین سے فرار ہو کر میانمار کے راستے برطانیہ پہنچی اور لندن میں ایک شاہانہ طرز زندگی گزارنے لگی۔
چیان نے لندن میں ایک چینی ریستوران کی ملازمہ جیان وین کو اپنا ساتھی بنایا، جو اس کے ساتھ ایک 17 ہزار پاؤنڈ ماہانہ کرائے پر لیے گئے گھر میں رہتی تھی۔ دونوں نے زیورات کے کاروبار کے نام پر یورپ بھر میں سفر کیا، قیمتی گاڑیاں اور مہنگے ملبوسات خریدے۔ پولیس کے مطابق وہ ایک پرتعیش طرز زندگی گزارتی تھیں، یہاں تک کہ انہوں نے 2 کروڑ 40 لاکھ پاؤنڈ مالیت کا ایک محل خریدنے کی کوشش کی۔
عدالت میں پیشی کے دوران خاتون نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور روتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہے۔ جج سیلی این ہیلز نے فیصلے میں کہا کہ ’’تم اس جرم کی منصوبہ ساز اور معمار تھیں۔ تمہارا مقصد محض لالچ تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے تاثر کو ایک مذہبی اور روحانی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کے لیے خود کو ’’گاڈیس آف ویلتھ‘‘ کہا، شاہی طرز کے لباس پہنے اور مختلف تقریبات میں 300 فیصد منافع کے وعدے کیے۔
اس کیس میں اس کے ساتھی جیان وین کو گزشتہ سال ساڑھے 6 سال قید جبکہ ایک اور مددگار سنگ ہوک لِنگ کو 4 سال 11 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
چیان کے وکیل راجر سہوٹا نے کہا کہ ان کی مؤکلہ کو ’’دنیا کی سب سے زیادہ بٹ کوائن رکھنے والی خاتون‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیان اپنے اقدامات پر شرمندہ ہے اور امید کرتی ہے کہ اس کی تخلیق کردہ دولت سے متاثرین کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔
یہ مقدمہ لندن میٹروپولیٹن پولیس کی تاریخ کی سب سے طویل اور پیچیدہ مالیاتی تحقیقات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اب برطانیہ کی حکومت اور ہزاروں چینی متاثرین کے درمیان ضبط شدہ دولت کی ملکیت پر مقدمہ زیر سماعت ہے۔























