
Shah Waliullah
جدہ — تاریخی روحانی و تہذیبی اہمیت کا حامل شہر
عمرہ کی سعادت حاصل کرنے اور کعبۃ اللہ کی زیارت کرنے سے قلب و جاں سرشار تھے۔ وہ لمحے جو حرمِ پاک میں گزرتے ہیں، انسان کی روح کو جیسے کسی ازلی سکون سے ہم آغوش کر دیتے ہیں۔ انہی روحانی کیفیات میں ہم واپسی سے قبل ایک دن کے لیے جدہ رُکے۔ ہمارے میزبان، مرحوم حبیب احمد خان (سابق صدر جے یو پی نارتھ کراچی) کے فرزندِ ارجمند ادیب بھائی تھے جنہوں نے اپنے خلوص، محبت اور روایتِ عربی مہمان نوازی سے اس مختصر قیام کو یادگار بنا دیا۔
یہ ایک دن محض قیام نہ تھا، بلکہ ایک روحانی و تاریخی تجربہ تھا—ایک ایسا احساس جس میں ماضی کی خوشبو اور حال کا وقار یکجا تھا۔
جدہ کو اسلامی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہے جو کسی دل کو جسم میں حاصل ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ اس شہر کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام کے عہد میں رکھی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ زمین پر تشریف لائے تو یہ خطہ اُن مقامات میں سے تھا جہاں انسانی آبادکاری کا آغاز ہوا۔
اسی شہر میں حضرت حوّا رضی اللہ عنہا کا مزار بھی واقع ہے، اور اسی نسبت سے اس کا نام “جدہ” (عربی میں دادی) رکھا گیا۔یہاں واقع مزارِ حضرت حوّا رضی اللہ عنہا پر
اگرچہ عام داخلہ محدود ہے، مگر اس مقام کی روحانی عظمت آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے آغاز کو یاد کرتا ہے—جہاں تخلیق اور تقدیر ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔یہ نسبت اسے صرف تاریخی نہیں بلکہ انسانی تمدن کے اولین باب سے جوڑتی ہے۔
بحیرہ احمر پر واقع یہ شہر ایک اہم بندرگاہ ہے، جو سعودی عرب کی تجارت و معیشت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے دور میں یہ شہر تجارت و دفاع کا محور رہا، اور بحرِ احمر کی نیلاہٹ اس کے ساحلوں کو آج بھی اُس شان کی گواہ بنائے ہوئے ہے۔
جدہ اسلامی ادوار میں ہمیشہ مکہ مکرمہ کا دروازہ کہلایا۔ کارواں یہاں سے گزرتے، سمندری جہاز یہاں لنگر انداز ہوتے، اور دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے زائرین اسی بندرگاہ کے راستے سرزمینِ حجاز میں قدم رکھتے ہیں ۔روحانی نقطۂ نظر سے جدہ ایک مقدس دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے لاکھوں زائرین حرمِ مکہ کی جانب اپنے عشقِ الٰہی کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ہوائی اڈے سے نکلتے ہی جب زائرین کی نظریں پہلی بار حجاز کی مٹی پر پڑتی ہیں، تو ان کے دلوں میں تقدیس و شکر گزاری کی لہریں دوڑ جاتی ہیں۔
یہی شہر ان قافلوں کا پہلا پڑاؤ ہے جو بیت اللہ کے طواف کی آرزو لیے آتے ہیں۔ ہر مسافر کی آنکھوں میں ایک چمک ہوتی ہے، جیسے وہ مقدس راستے کے قریب پہنچ گیا ہو۔
یوں جدہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ حرمِ پاک کی دہلیز ہے — جہاں روح کا سفر جسمانی مسافت سے بلند ہو جاتا ہے اس شہر کی آبادی تقریباً چار ملین ہے (2017ء کے سروے کےمطابق) یہ شہر دار الحکومت ریاض کے بعد سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور سعودی عرب کا اقتصادی دار الحکومت ہے
یہاں کا تاریخی علاقہ بلد ہے بلد” کےمعنی شہر، خطہ زمین، ملک، یا بستی ہے یہ علاقہ ساتویں صدی میں قائم ہوا اور اسے تاریخی طور پر جدہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے اس علاقہ کو پہلی مرتبہ ۱۹۹۱میں دیکھنے کا موقع ملاتھا جبکہ گذشتہ دنوں ایک بار پھرادیب بھائی اور انکے صاحبزادے ارسلان احمد کے ساتھ دیکھنے جاناہوا
یہ علاقہ قدیم جدہ کا دل ہے یہاں تنگ گلیاں، لکڑی کی جالیوں والے پرانے مکانات اور وہی طرزِ تعمیر ہے جو صدیوں پرانی کہانیاں سناتے ہیں ۔اسلامک میوزیم اور روایتی بازار
۔یہاں عربی ثقافت، اسلامی ورثے اور مقامی دستکاریوں کی جھلک ملتی ہے۔ بازاروں میں گونجتی ہوئی صداگوئی، خوشبو دار عود، اور سنہری روایات کا لمس—سب کچھ ایک زندہ تہذیب کی علامت ہےیہاں وقت جیسے ٹھہر سا گیا ہے، اور ماضی اپنے پورے وقار کے ساتھ حال سے ہم کلام دکھائی دیتاہے ۔اسی طرح جدہ کا سمندری علاقہ دیکھنے جانا ہوا۔اس سفر میں میرے اسکول کے دوست پپلزاسٹوڈنٹ فیڈریشن جامعہ کراچی کے سابق صدر اعجاز احمد بھی تھے جو ان دنوں پاکستان کمیونٹی اسکول جدہ کے انٹرنیشنل کیمپس میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔سمندری علاقہ کارنیش رات کے وقت روشنیوں میں نہا کر کسی خوابیدہ منظر کا تاثر دے رہا تھا۔ سرد سمندری ہوا میں ایک عجیب سا سکون تھا، لگ رہا تھاجیسے یہ ساحل زائرین کی دعاؤں کا محافظ ہے ۔یہاں دنیا کا سب سے بلند فوارہ کنگ فہد فاؤنٹین ہے جو رات کے وقت جدہ کے افق پر ایک نورانی منظر تخلیق کرتا ہے۔ یہ جدید جدہ کی علامت ہے تاریخ اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگاجدہ محض ایک بندرگاہ یا تجارتی مرکز نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی احساس، تاریخی تسلسل اور انسانی وابستگی کا حسین سنگم ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے ہر سال لاکھوں دل عشقِ الٰہی کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں، جہاں تاریخ کے اوراق سمندری ہوا کے ساتھ پھڑپھڑاتے محسوس ہوتے ہیں یہاں ان دنوں دوبئی کے برج خلیفہ سے بلند عمارت تعمیر کی جارہی ہے اسی طرح ساحل سمندر پر شہریوں کی تفریح کے لئے رنگ برنگے ٹریک بنائے گئے ہیں جن میں بچے اور بڑے ، سائیکل ، اسکوٹر اور چھوٹی گاڑیاں ڈوڑاتے دکھائی دے رہے تھے جبکہ یہاں تفریح کے لئے آنے والوں افراد کو یورپی طرز پر سمندری علاقے کی سیر کرانے کے لئے بغیر چھت کی بسیں بھی چل رہی تھیں – یہاں مچھلی کے شکاری بھی ڈوری کانٹے ڈالے بیٹھے دکھائی دئے ، جدہ میں پرانے محلے دار رئیس احمد کے گھر بھی جانا ہوا جبکہ دمام سے میرے پھوپھی زاد بھائی کے صاحبزادے سید شکیب احمد بھی ملاقات کے لئے جدہ آئے ۔اگرچہ جدہ میں ہمارا مختصر قیام محض چند گھنٹوں پر مشتمل تھا، مگر اُس میں صدیوں کی روحانی گہرائی چھپی تھی۔ جدہ نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ کچھ شہر صرف زمین پر نہیں بستے وہ دلوں میں، دعاوں میں، اور تاریخ کی سانسوں میں زندہ رہتے ہیں























