آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، مجوزہ آئینی ترمیم

آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے، مجوزہ آئینی ترمیم

آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آگئے، جس کے مطابق آرمی چیف، نیول چیف اور ایئر چیف کا تقرر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرے گا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تجویز پر پاک آرمی سے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کرے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک اور مراعات بھی تاحیات رہیں گی

آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ پارلیمنٹ کے مواخذہ سے ختم کیا جا سکے گا، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئرفورس، ایڈمرل آف فلیٹ کو صدر کی طرح عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا، کمانڈ مدت پوری ہونے پر وفاقی حکومت انہیں ریاست کے مفاد میں کوئی ذمہ داری سونپ سکتی ہے

وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا، اگر کوئی جج ٹرانسفر ماننے سے انکار کرے گا وہ ریٹائر تصور کیا جائے گا، صدر کے خلاف عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوسکے گی، گورنر کے خلاف اس کی مدت کے لیےکوئی فوجداری کارروائی نہیں ہو گی، کوئی عدالت صدر اور گورنر کی گرفتاری یا جیل بھیجنے کے لیےکارروائی نہیں کر سکے گی

courtesy jang urdu