
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ زور و شور سے جاری
جو لوگ نفرت کے سودا گر ہیں انہیں بتائیں کہ کراچی والے کتنے زندہ دل انسان ہیں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
بلوچی فنکار استاد نور بخش نے بینجو کی دھنوں پر عوام کو ناچنے پر مجبور کردیا
امریکہ، ایران، ترکیے، فلسطین، انڈونیشیا، فرانس اور Benin کے فنکاروں کی Conference of the Birds میں شاندار تھیٹریکل پرفارمنس
کراچی ;;آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ زور و شور سے جاری ہے، فیسٹیول کے آٹھویں روز فلم اسکریننگ و نشست، ورکشاپ تھیٹریکل پرفارمنس Conference of the Birds اور معروف بلوچی فنکار استاد نور بخش نے بینجو کی دھنوں پر عوام کو ناچنے پر مجبور کردیا،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آپ سب نے اس فیسٹیول کو دوسروں تک پھیلانا ہے جو لوگ نفرت کے سوداگر ہیں انہیں بتائیں کہ کراچی والے کتنے زندہ دل ہیں، آٹھویں روز ہم نے فرید الدین عطار کی نظم پر مبنی ایسا تھیٹر پیش کیا جس میں چھ مختلف ممالک کے فنکاروں نے ایک ہی چھت تلے پرفارم کیا، اس فیسٹیول کا انعقاد ہمارے لیے بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔ فیسٹیول کے آٹھویں روز پاکستانی فلم ”چِکر “ دکھائی گئی جس کی کہانی دیہی پاکستان میں ماحولیاتی اورطبقاتی جدوجہد کے گرد گھومتی نظر آئی، فلمی نشست میں ڈائریکٹر سید ظہیر الدین اور عثمان مختار نے گفتگو کی جبکہ عمیر احمد خان نے نظامت کے فرائض انجام دیے، ڈائریکٹر سید ظہیر الدین نے موضوع سے متعلق گفتگو میں کہاکہ ہم نے دستاویزی فلم اور فیوژن کو یکجا کردیا ہے، ”چِکر“ ایک سنجیدہ فلم تھی اس میں لوگ اتنا ہنسے تو سوچیں مزاحیہ فلم کا کیا عالم ہوگا، میں ایک مزاحیہ فلم پر کام کررہا ہوں، ہم کچھ نیا کرنے سے ڈرتے ہیں جب تک ہم کریں گے نہیں تو ڈرختم نہیں ہوگا، عثمان مختار نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کے پیغام کو پھیلنے میں وقت لگے گا، چِکڑ جیسی فلمیں اور بننی چاہئیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو ہماری سو سائٹی کے دماغ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ فیسٹیول میں ”Men with the Pen“ کے عنوان سے آرٹ ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا جس میں کوموروس کے مصور یاز اور تنویر فاروقی نے طلباءکو فن مصوری کے گر سکھا ئے، کوموروس کے مصور یاز بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر بھی بنائی جو پذیرائی کا مرکز بنی رہی۔ امریکی تھیٹر ڈائریکٹر Wendy Jehlenکی جانب سے تھیٹر Conference of the Birds پیش کیاگیا جس میں امریکہ، ایران، ترکیے، فلسطین، انڈونیشیا، فرانس اور Benin کے فنکاروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، تھیٹر پلے معروف صوفی شاعر فرید الدین عطار کے شہرئہ آفاق منظوم قصے سے ماخوذ تھا۔ آخر میں معروف بلوچی فنکار استاد نور بخش نے بینجو کی دھنوں پر شائقین کو ناچنے پر مجبور کردیا جبکہ آرٹس کونسل کی فضاءسندھی اور بلوچی ثقافتی میوزک کے فیوژن سے گونج اٹھی۔
Load/Hide Comments























