ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا مشن! وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی ( 27 ) 27

وفاقی کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا، جس میں آئین میں 27ویں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جانی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کی منسوخی کی بڑی وجہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی ترمیم پر حتمی مؤقف نہ اپنایا جانا ہے۔

آئین میں 27ویں ترمیم کا بل آج وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد سینیٹ میں ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان تھا۔

یاد رہے پیپلز پارٹی نے ترمیمی مسودے میں صوبوں کے حصے سے متعلق تجاویز مسترد کردی ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سی ای سی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی این ایف سی فارمولے میں کسی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی جبکہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دیگر حکومتی تجاویز بھی قبول نہیں کی

بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ حکومت نے آرٹیکل دوسوتینتالیس میں تبدیلیاں لانے کا سوچا ہے، نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کانیاعہدہ دینا ہے، وہ جو جنگ کے بعد فیلڈ مارشل کا نیا عہدہ ملا ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس نمازِ جمعہ کے بعد دوبارہ طلب کرلیا گیا ہے تاکہ آئینی ترمیم کے مسودے پر حتمی مؤقف طے کیا جاسکے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں نمبر گیم مکمل ہے، حکومت کو ایوانِ بالا کے 96 رکنی ایوان میں جے یو آئی (ف) کے بغیر بھی 65 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

آئینی تقاضوں کے مطابق ترمیمی بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں 336 میں سے کم از کم 224 ارکان اور سینیٹ میں 96 میں سے 64 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

بل پر بحث کے بعد اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جبکہ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ترمیم کی منظوری لی جائے گی، جس کے بعد ترمیمی بل ہفتہ یا اتوار کو منظوری کے لیے دوبارہ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

منظوری کے بعد بل صدرِ مملکت کو ارسال کیا جائے گا، اگر ترمیم صوبائی اختیارات سے متعلق ہوئی تو اسے کم از کم نصف صوبائی اسمبلیوں سے بھی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔



courtesy ary news