
مور خہ 06نومبر 2025
کراچی 06نومبر۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو کی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری( کاٹی ) کی جانب سے مشہور صنعت کار ایس ایم تنویر کے اعزاز میں دئیے جانے والے عشایئے میں بطور مہمان خصوصی شرکت ۔ اس موقع پر صنعت کاروں کو درپیش مسائل سمیت صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقعوں اور حکومت سندھ کے صنعتی ترقی کے لئے کئے اقدامات بھی زیر بحث آئے ۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے
پر تکلف عشائیہ دینے اور صنعت کاروں کو ایک جگہ مل بیٹھ کر مسائل پر تبادلہ خیال کا موقع دینے پر کاٹی کے عہدیداران کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ صوبہ سندھ میں صنعتی ترقی کے لئے صوبے کے صنعت کاروں ، سرمایہ کاروں اور حکومت سندھ کے مابین بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم رہے گی
ہینڈآؤٹ نمبر 1236۔۔۔
کراچی
مور خہ 06نومبر 2025
درخواست برائے ٹکرز
· سندھ حکومت کی جانب سے شہری سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم ترین فیصلہ
· سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس کے ان ڈور اور آئؤٹ ڈور کیمراؤں کو سیف سٹی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا بڑا فیصلہ
· پیپلز بس سروس اور ای وی ٹیکسی سروس میں نصب انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (ITS) کو سیف سٹی پروجیکٹ سے جوڑا جائے گا، شرجیل انعام میمن
· فیصلے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو محفوظ بنانا ، شہری علاقوں میں سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، شرجیل انعام میمن
· کیمروں کے انضمام کے بعد کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی مانیٹرنگ، اور عوامی تحفظ کے اقدامات میں نمایاں بہتری آئے گی، شرجیل انعام میمن
· حکومت سندھ دسمبر میں جدید ای وی ٹیکسی سروس کے آغاز کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، شرجیل انعام میمن
· کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت حاصل ہوگی، شرجیل انعام میمن
· کراچی میں سرمایہ کاروں کے ایک وفد کی سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات
· ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو سمیت دیگر حکام بھی شریک
· نجی سرمایہ کاروں نے ای وی ٹیکسی منصوبے کے ڈھانچے، چارجنگ اسٹیشنز کے قیام اور آپریٹنگ ماڈلز سے متعلق تجاویز پیش کیں
· سندھ، خصوصاً کراچی جیسے بڑے شہر میں جدید سفری نظام کی اشد ضرورت ہے، شرجیل انعام میمن
· حکومت سندھ چاہتی ہے کہ دسمبر تک ای وی ٹیکسی سروس شروع کر دی جائے تاکہ شہریوں کو روایتی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ایک بہتر اور جدید متبادل فراہم کیا جا سکے، شرجیل انعام میمن
· ای وی ٹیکسی سروس سے شہریوں کو کم کرایوں میں آرام دہ سفر میسر آئے گا ، شرجیل انعام میمن
· ای وی ٹیکسی سروس سرمایہ کاروں کے لیے یہ منصوبہ ایک پرکشش موقع ثابت ہوگا، شرجیل انعام میمن
· ابتدائی مرحلے میں یہ سروس کراچی میں شروع کی جائے گی، بعد ازاں دیگر بڑے شہروں تک اس کا دائرہ بڑھایا جائے گا، شرجیل انعام میمن
· حکومت خواتین کے لیے پنک ای وی ٹیکسی سروس بھی متعارف کروا رہی ہے، جس سے خواتین مسافروں کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کی جائے گی، شرجیل انعام میمن
· سروس کی کارکردگی، شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ای وی ٹیکسی سروس میں انٹیلی جنٹ (ITS) سمیت جدید ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ سسٹم شامل ہوں گے، شرجیل انعام میمن
· سندھ حکومت پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتی ہے، شرجیل انعام میمن
· ای وی ٹیکسی سروس کا منصوبہ نہ صرف عوامی سہولت بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، شرجیل انعام میمن
ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ 06نومبر 2025
عثمان آباد کراچی میں سینیٹری ورکرز کی گٹر میں صفائی کے دوران ہلاکت کا واقعہ
صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کے زیر صدارت سماعت منعقد
سماعت میں ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن احمد علی صدیقی، چیف انجینئر، متعلقہ ایکسئین، لواحقین، وکلاء و دیگر شریک
گٹروں کی صفائی کے دوران سینیٹری ورکرز کو فراہم کردہ سہولیات پر تفصیلی گفتگو
کراچی 06نومبر۔ صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت کے زیر صدارت عثمان آباد کراچی میں سینیٹری ورکرز کی گٹر میں صفائی کے دوران ہلاکت کے واقعہ کے خلاف درخواست پر صوبائی محتسب سندھ صدر دفتر میں سماعت منعقد ہوئی۔ جس میں ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن احمد علی صدیقی، چیف انجینئر آفتاب، متعلقہ ایکسئین، رجسٹرار مسعود عشرت، لواحقین، وکلاء و دیگر شریک ہوئے۔ سماعت کے دوران صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے گٹروں کی صفائی کے دوران سینیٹری ورکرز کو فراہم کردہ سہولیات، سیفٹی کٹس اور انکے معیار سے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور سخت سوالات کیے اور سینیٹری ورکرز کی موجودہ سیفٹی کٹس کا براہ راست معائنہ بھی کیا۔ انھوں نے آخری بار خریدی گئ حفاظتی کٹس اور افسوسناک واقعے کی انکوائری رپورٹ فوری فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ سینیٹری ورکرز کی سیفٹی کراچی اینڈ واٹر سیوریج کارپوریشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، کے ڈبلیو ایس سی انتظامیہ سینیٹری ورکرز کے لیے بہترین حفاظتی کٹس خریدے۔ صوبائی محتسب سندھ کی سینیٹری ورکرز کی تعداد اور دوران ڈیوٹی ان کی حفاظت سے متعلق ایس او پیز آئندہ سماعت میں پیش کرنے کی ہدایت کی اور ہلاک سینیٹری ورکرز کے غمزدہ لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔ یاد رہے کہ کراچی کے علاقے عثمان آباد میں 21 ستمبر کو گٹر کی صفائی کے دوران تین سینیٹری ورکرز ہلاک ہوگئے تھے اور افسوسناک واقعے میں غفلت کے خلاف فریقین کی جانب سے صوبائی محتسب سندھ میں شکایت درج کروائی گئی تھی۔
ہینڈآؤٹ نمبر 1237۔۔۔ ایس۔اے۔بی
ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ 06نومبر 2025
کراچی06نومبر ۔وزیر برائے یونیورسٹیز و بورڈز سندھ اسماعیل راہو نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں آٹزم بحالی مرکز اور پیڈی ایٹرک ڈینٹسٹری یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے، جسے مستقبل میں مزید وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شارع بھٹو پر 70 ایکڑ زمین اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مختص کی گئی ہے اور سندھ حکومت جامعات کو درپیش مالی بحران سے نکالنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیل آؤٹ پیکیج جاری کر رہی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل متاثر نہ ہو اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سندھ میں پرائمری اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں اور اس پیمانے پر اساتذہ کی بھرتی پاکستان میں کہیں اور نہیں ہوئی۔ ایم ڈی کیٹ کے شفاف نتائج اس امر کا ثبوت ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی ترجیحات میں صحت، تعلیم اور صاف پانی شامل ہیں۔ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ اس پر فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم جمہوری قوتوں کی کامیابی ہے، اور صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہیں یقین ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت اور آئین کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گی،بلاول بھٹو زرداری بااختیار ہیں، وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر انہوں نے بہتر سمجھا ہے کہ اس اہم معاملے پر پارٹی خود فیصلہ کرے،” انہوں نے کہا. تقریب میں معزز مہمانانِ گرامی کی شرکت تقریب میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر نگہت شاہ، رجسٹرار ڈاکٹر اعظم خان، پرنسپل ایس ایم سی پروفیسر عنبرین عثمانی، پرنسپل ایس آئی او ایس ایچ پروفیسر ساجد حنیف، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ناصر سِدَّل، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سہراب زمان، اور سی-آرٹس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ارم رضوان نے بھی شرکت کی. جے ایس ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے ایم او یو کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جے ایس ایم یو، این آئی سی ایچ اور سی-آرٹس مل کر آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) کے شکار بچوں کے لیے ایک جامع بحالی مرکز قائم کریں گے، جو کلینیکل خدمات کے ساتھ ساتھ تربیت، تحقیق اور کمیونٹی آؤٹ ریچ کے شعبوں میں بھی کام کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ جے ایس ایم یو اپنی مالی وسائل سے این آئی سی ایچ کے احاطے میں تین منزلہ عمارت بھی تعمیر کرے گا جس میں ایک سائیکو سوشل ویلنیس سینٹر سمیت تمام خدمات فراہم کی جائیں گی۔اس موقع پر پیڈی ایٹرک ڈینٹسٹری یونٹ میں چھ نئے ڈینٹل اسٹیشنز کی توسیع کا بھی افتتاح وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے کیا، جس سے بچوں کے دانتوں کے علاج کی جدید اور بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
ہینڈآؤٹ نمبر 1238۔۔۔آئی۔ایس
ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ 06نومبر 2025
سندھ کی دھرتی امن، محبت اور رواداری کی علامت ہے۔ضیاء الحسن لنجار
ہمیں صوفیاء اکرام کے طرزِ زندگی کو اپنانا ہوگا۔وزیر داخلہ سندھ
کراچی 06 اکتوبر ۔پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF)،جو ملک بھر میں غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا قومی ادارہ ہے، نے آج کراچی میں “غربت کے خاتمے کے لیے سندھ سی وی ای سینٹر، پی پی اے ایف اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مشاورتی مکالمہ” کا انعقاد کیا۔اس مکالمے کا مقصد حکومتِ سندھ کے سینٹر آف ایکسی لینس برائے کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (CVE) اور پی پی اے ایف کے درمیان اشتراکِ عمل کو فروغ دینا تھا تاکہ شمولیتی، کمیونٹی پر مبنی اور شواہد پر مبنی طریقوں کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ (PCVE) کیا جا سکے۔ اس موقع پر حکومتِ سندھ کے اعلیٰ حکام اور پی پی اے ایف و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ترقیاتی منصوبے چلانے والی سندھ کی سول سوسائٹی تنظیموں کے سربراہان شریک ہوئے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر داخلہ، قانون، پارلیمانی امور و کریمنل پراسیکیوشن،حکومتِ سندھ ضیاء الحسن لنجار تھے دیگر معزز شرکاء میں محمد اقبال میمن، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم)، آزاد خان ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ)، منتظر مہدی، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، اور نوید آرائیں، ڈپٹی سیکریٹری ہوم ڈپارٹمنٹ شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ حکومتِ سندھ اور پی پی اے ایف کا یہ اشتراک پُرامن اور مضبوط معاشروں کی تشکیل کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ہم ایسی سول سوسائٹی تنظیموں کو شامل کرتے ہیں جو واقعی عوام کی نمائندگی کرتی ہیں، تو ہم غربت کے اسباب اور انتہاپسندی کے محرکات دونوں کو دور کر سکتے ہیں۔ پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب عوام کو احساسِ شمولیت، بااختیاری اور سُنے جانے کا موقع ملے۔”انکا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے حکومتِ سندھ نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔ سماجی و فلاحی اداروں کو روزگار کے فروغ اور عوامی ترقی کے لیے سنجیدہ اور مربوط کاوشیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے کمیونٹی کی شمولیت حکومتِ سندھ کی اولین ترجیح ہے۔غربت کا خاتمہ دراصل قومی سلامتی اور سماجی استحکام سے جڑا ہوا ہے، اس کے لیے شفاف پالیسی، عوامی شمولیت اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سندھ کی دھرتی امن، محبت اور رواداری کی علامت ہے۔ہمیں صوفیاء اکرام کے طرزِ زندگی کو اپنانا ہوگا کیونکہ صوفی ازم اس دھرتی کا اثاثہ اور تمام مسائل کا حل ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی رجحانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں مثبت طرزِ فکر اپنانی ہوگی۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے حکومتِ سندھ نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔ سماجی و فلاحی اداروں کو روزگار کے فروغ اور عوامی ترقی کے لیے سنجیدہ اور مربوط کاوشیں کرنا ہوں گی۔”انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے کمیونٹی کی شمولیت حکومتِ سندھ کی اولین ترجیح ہے۔غربت کا خاتمہ دراصل قومی سلامتی اور سماجی استحکام سے جڑا ہوا ہے، اس کے لیے شفاف پالیسی، عوامی شمولیت اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 71 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے، جو حکومتِ سندھ کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ہم نے ہتھیار ڈالنے والوں ڈکیتس کے لیے خصوصی ری ہیبلیٹیشن پیکج کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ معاشرے کا مثبت حصہ بن سکیں۔وزیر داخلہ سندھ نے مذید کہا کہ غربت، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی اکثر جرائم کی بنیادی وجوہات ہوتی ہیں، اس لیے ان شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومتِ سندھ تمام شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر جامع لائحہ عمل پر مبنی متفقہ سفارشات تیار کرے گی، تاکہ غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے قابلِ عمل اقدامات کیے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو پرامن، خودمختار اور ترقی یافتہ ہو یہی سندھ کی اصل پہچان ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم، محمد اقبال میمن نے سینٹر آف ایکسی لینس کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے غربت اور انتہاپسندی کے باہمی تعلق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی اے ایف کے سول سوسائٹی پارٹنرز کمیونٹی کو متحرک کرنے اور پائیدار اثرات کے لیے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے سی ای او پی پی اے ایف،نادر گل باریچ نے سینٹر آف ایکسی لینس کا شکریہ ادا کیا اور امن و استحکام کے فروغ میں کمیونٹی کی قیادت میں ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کمیونٹیز کو اپنے ترقیاتی عمل کی قیادت دی جاتی ہے تو وہ امن اور ترقی کے سب سے مضبوط محافظ بن جاتے ہیں۔ پی پی اے ایف کا شراکتی ماڈل یقینی بناتا ہے کہ ہر منصوبہ کمیونٹی کی ملکیت پر مبنی ہو، کیونکہ پائیدار تبدیلی اندر سے ہی آتی ہے۔ امن اور غربت کے خاتمے کا آپس میں گہرا تعلق ہے — کوئی ایک دوسرے کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔”مکالمے میں پی پی اے ایف کے سول سوسائٹی پارٹنرز کی وسیع تجربہ کاری اور ان کی نچلی سطح پر سماجی شمولیت، ہم آہنگی اور روزگار کے فروغ کے لیے طویل مدتی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔ ان تنظیموں کا مقامی کمیونٹیز سے گہرا تعلق انہیں انتہاپسندی کے معاشی و سماجی اسباب کے انسداد میں کلیدی شراکت دار بناتا ہے۔ ان کی تحقیق اور زمینی حقائق پر مبنی تجاویز کو پالیسی سازی میں شامل کر کے حکومتِ سندھ اور پی پی اے ایف دونوں اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ مداخلتیں مؤثر، حقیقت پسندانہ اور پائیدار ہوں۔پی پی اے ایف اپنے شراکت دار اداروں کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وہ ایسی کمیونٹی پر مبنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں جو سماجی ہم آہنگی، لچک اور امن کو فروغ دیں،جو پائیدار غربت کے خاتمے کی بنیادی شرائط ہیں۔ یہ مکالمہ حکومتِ سندھ اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع اور دیرپا ترقی کے لیے اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 1239۔۔۔ ایس۔ اے۔جے























