
جامشورو: شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر اربیلا بھٹو کی تقرری کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست گزار علی اصغر کی جانب سے مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل سید محمد صولت رضوی نے عدالت میں سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “وائس چانسلر کے عہدے کے لیے اشتہار میں 20 سال کے مجموعی تجربے کے ساتھ ساتھ 10 سال کے انتظامی اور مالیاتی تجربے کی شرط تھی، جو ڈاکٹر اربیلا بھٹو پوری نہیں کرتیں۔”

وکیل کے مطابق ان کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر پروفیسر کی تقرریاں بھی متعلقہ اشتہارات میں درج تجربے کی شرائط پوری کیے بغیر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرری کے وقت ڈاکٹر اربیلا بھٹو کے پاس ضروری 10 سالہ تدریسی تجربہ نہیں تھا۔
**عدالتی کارروائی کی تفصیلات**
سندھ ہائی کورٹ نے مقدمہ کی پہلی سماعت کے دوران تمام دلائل غور سے سنے۔ عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بطور فریق شامل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وکیل صولت رضوی کے مطابق عدالت نے اس بات پر بھی غور کیا کہ آیا ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس مقدمے میں ضروری فریق بنانا چاہیے۔





**جعلی دستاویزات کے الزامات**
وکیل نے عدالت میں ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اربیلا بھٹو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تقرری کے سلسلے میں سلیکشن بورڈ کے جعلی منٹس تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینڈیکیٹ میٹنگ کے مینٹس میں ایجنڈا آئٹم نمبر 26 شامل کیا گیا جو اصل ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔
**اگلی تاریخ اور مستقبل کے اقدامات**
عدالت نے جوابی بیان داخل ہونے کے بعد مقدمے کی اگلی سماعت 25 نومبر کے لیے مقرر کی ہے۔ وکیل کے مطابق اگر ان کے خلاف جوابی بیان داخل ہوا تو وہ عدالت میں ان کے تحقیقی مقالات اور پی ایچ ڈی سٹوڈنٹس کی نگرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائیں گے۔ فی الحال مقدمہ کی بنیاد ان کے تجربے کے حوالے سے غلط بیانی پر مرکوز ہے۔























