انٹارکٹیکا کی برف سے پراسرار ریڈیو سگنلز کی نشاندہی

امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کے تحقیقاتی بالون نے انٹارکٹیکا کی برف سے ایسے غیر معمولی ریڈیو سگنلز دریافت کیے ہیں جن کی موجودہ سائنسی نظریات سے وضاحت ممکن نہیں۔

ناسا کے مطابق یہ سگنلز 2016 سے 2018 کے دوران انٹارکٹیکا میں امپلسو ٹرانزینٹ اینٹینا مشن کے تحت پرواز کرنے والے بالونز نے ریکارڈ کیے، جن کا مقصد خلا سے آنے والی شعاعوں یعنی کائناتی شعاعوں (Cosmic Rays) کے اثرات کا مطالعہ کرنا تھا۔

ماہرین کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ کچھ سگنلز زمین کے اوپر سے نہیں بلکہ نیچے کی سمت سے آتے محسوس ہوئے، گویا وہ زمین کی تہوں کے آرپار گزر کر برف کی سطح تک پہنچے ہوں، یہ مشاہدہ موجودہ ذراتی طبیعیات کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تحقیق کے اگلے مرحلے میں سائنسدانوں نے ارجنٹائن میں موجود پئیری آوجر آبزرویٹری کے 15 سالہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا تاکہ ان سگنلز کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے، نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ سگنلز کسی نئی ذراتی دریافت کی بجائے کسی غیر معمولی مظہر یا فزیکل پراسیس سے متعلق ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ سگنلز واقعی زمین کے اندر سے آ رہے ہیں، تو انہیں ہزاروں کلومیٹر چٹانی تہوں سے گزرنا پڑا ہوگا، جو عام طور پر ریڈیو لہروں کو جذب کر لیتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس دریافت نے سائنسی برادری کو حیران کر دیا ہے۔

اب ناسا اور بین الاقوامی ٹیمیں ایک نیا اور زیادہ حساس نظام پیویو (PUEO) تیار کر رہی ہیں، جو مستقبل میں ان پراسرار سگنلز کی مزید گہرائی سے تحقیق کرے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق ہمارے زمین کے اندرونی ساخت اور کائناتی ذرات کے بارے میں فہم میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔