فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی کے 250 متاثرین نے سندھ ہائیکورٹ میں لاء سوٹ دائر کرتے ہوئے پاکستان ایئر فورس سے 1 ارب کے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا

فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی کے 250 متاثرین نےفضائیہ ہاؤسنگ سکیم کی مینیجمنٹ پاکستان ایئر فورس اور اس کی شراکت دار کمپنی میکسم پراپرٹیز کےخلاف سندھ ہائیکورٹ میں لاء سوٹ دائر کرتے ہوئے پاکستان ایئر فورس سے 1 ارب کے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا۔  لاء سوٹ ممتاز قانون دان محمد نعمان جمالی ایڈوکیٹ کی معرفت سے دائر کیا گیا  سول لاء سوٹ نمبر 329/2020 سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس  محمدجنید غفار کی عدالت میں دائر کیا گیا  فوری سماعت کی درخواست منظور ہونے پر جسٹس محمد جنید غفار نے کیس کی فوری ابتدائی سماعت کی،  پاکستان ایئر فورس کے افسران نے میکسم پراپرٹیز کے مالک چوھدری تنویر اور بلال تنویر کےساتھ ملکر فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی کے نام پر 6000کے قریب اندرون ملک اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں سے فراڈ اور بددیانتی کے ذریعے 18ارب روپے سے زیادہ رقم وصول کی۔ متاثرین کا اپنے وکیل کے ذریعے موقف منصوبہ شروع کرنے سے قبل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کسی بھی قسم کا این۔او۔سی یا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا۔ وکیل متاثرین پاکستان ایئر فورس کی طرف سے 2015 میں منصوبے کے آغاز پر غیر قانونی طریقے سے پاکستان کے تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا چینلز پر منصوبے کی بھرپور کوریج کی گی۔ وکیل متاثرین منصوبے کی ہر قسم کی تشہیری مہم میں پاکستان ایئر فورس کی جانب سے منصوبے کی مکمل ذمہ داری لی گئی۔ وکیل متاثرین ایئر وائس مارشل محمد حسیب پراچہ سے منصوبے کی گارنٹی دلوائی گئی۔ وکیل متاثرین  متاثرین نے صرف اور صرف افواج پاکستان اور پاکستان ایئر فورس کے نام پر بھروسہ کرتے ہوئے اندرون اور بیرون ملک اس منصوبے میں بھرپور سرمایہ کاری کی۔ وکیل متاثرین منصوبہ جس زمین پر شروع کیا گیا وہ زمین بھی غیر قانونی نکلی۔کچھ زمین سندھ گورنمنٹ اور کچھ زمین کے۔فور پراجیکٹ کے لئے مختص ہے۔ وکیل متاثرین  متاثرین کو زمین کے غیر قانونی ہونے، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منصوبے کی زمین اور تعمیرات سے متعلق کسی بھی قسم کے اجازت نامے اور این۔او۔سی کےنہ لینے سے متعلق بتائے بغیر اکتوبر 2015 سےجون 2019 تک متاثرین سے اقساط اور دیگر مدات میں دھوکہ دہی کے ذریعے رقوم مسلسل وصول کی جاتی رہیں۔ وکیل متاثرین منصوبے میں مختلف اقسام کے اسٹینڈرڈز اور لگژری فلیٹس کے علاوہ بنگلے بھی شامل تھے جو کہ بالترتیب 2020 اور 2022 میں مکمل کر کے متاثرین کے حوالے کرنے تھے لیکن عملی طور پر منصوبے پر 02% بھی کام مکمل نہیں کیا گیا، اور ایک بھی فلیٹ یا بنگلہ مکمل طور پر نہ بن سکا۔ وکیل متاثرین منصوبہ پر 2017 میں کام مکمل طور پر رک گیا لیکںن متاثرین کو انتظامیہ کی جانب سے کچھ بھی نہیں بتایا گیا اور اقساط پھر بھی مسلسل وصول کی جاتی رہیں۔وکیل متاثرین چند متاثرین کو منصوبے میں 2018 کے آخر اور 2019 کے شروع میں دھوکا نظر آ گیا، جس پر انھوں نے انتظامیہ سے اپنی رقوم کی واپسی کے لئے رابطہ کیا، جس پر تحریری یقین دہانی کے باوجود آج دن تک ایک بھی متاثرہ فریق کو اس کی اصل رقم بھی واپس نہیں کی گئی۔ وکیل متاثرین متاثرین نے 4 سال گزرنے کے بعد 2019 میں فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی کے آفس واقع مین شاہراہِ فیصل پر منصوبے پر کام بند کرنے اور متاثرین کو درست معلومات نہ دینے سے متعلق جب احتجاج شروع کیا تو اس وقت انکشاف ہوا کہ یہ منصوبہ پاکستان ایئر فورس نے بذات خود اکیلے نہیں بلکہ میکسم پراپرٹیز کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے شروع کیا۔ وکیل متاثرین متاثرین نے جب مختلف ذرائع ابلاغ اور فضائیہ ہاؤسنگ کے  دفتر پر بھرپور احتجاج شروع کیا تو 29نومبر 2019 کو نیب نے ایکشن لیتے ہوئے فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی سے متعلق انکوائری کرنے کا اعلان کیا۔ وکیل متاثرین  بعد ازاں نیب نے اخبارات میں اشتہار شائع کر کے متاثرین سے درخواستیں طلب کیں۔ وکیل متاثرین  بعد ازاں نیب نے میکسم گروپ کے دو افراد چوہدری تنویر اور بلال تنویر کو حراست میں لیکر مشترکہ اکاؤنٹس کو ان میں موجود 13ارب روپے سے زائد کی رقم سمیت منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ وکیل متاثرین نیب کی جانب سے ڈھائی مہینے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان ایئر فورس کے کسی بھی ذمہ دار افسر کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی، اور نیب کی جانب سے متاثرین کو اب تک صرف دلاسہ ہی دیا جا رہا ہے۔ وکیل متاثرین متاثرین نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف دلوایا جائے اور ان کی زندگی بھر کی جو جمع پونجی اس سکیم میں  ان کی طرف سےانویسٹ کی گئی وہ 100% رقم بمع جرمانہ بمطابق اس وقت سے لیکر آج تک کے ڈالر ریٹ اور 1 (ایک)ارب روپے ہرجانے کی مد میں رقم تمام درخواست دہندگان کو فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کراچی کی مینیجمنٹ سے دلوائی جائے۔وکیل متاثرین اس فراڈ منصوبے کے تمام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انکے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لاکر نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آہندہ کوئی بھی شخص یا ادارہ پاکستانی عوام سے اس قسم کا فراڈ اور بددیانتی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ وکیل متاثرین دلائل سننے کے فوری بعد عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کاحکم سنادیا۔  پاکستان ایئر فورس بزریعہ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ پراجیکٹس، ایئر ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد تنویر احمد اور بلال تنویر، میکسم پراپرٹیز(شراکت دار)،  فیڈریشن آف پاکستان بزریعہ سیکریٹری وزارت دفاع، حکومت پاکستان۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی،  ڈپٹی کمشنر ملیر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،  ایڈوکیٹ جنرل سندھ مذکورہ بالا تمام کوبحیثیت فریق نوٹس جاری حبیب بینک لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ، عسکری بینک لیمیٹڈ اور مسلم کمرشل بینک لمیٹڈ کو بحیثیت پروفارمافریق نوٹس جاری  کیس کی مزید سماعت 2020-03-05 بروز جمعرات تک ملتوی

اپنا تبصرہ بھیجیں