افغان امن معاہدہ ۔۔۔ امارات اسلامیہ کو درپیش چیلنجز ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

16مہینے کے مذاکراتی عمل کے بعد بالاآخر امریکا کے ساتھ18 برس کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کی توقعات ہیں، تاہم دوحہ قطر میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان افغان مفاہمتی عمل پردستخط کے باوجود امارات اسلامیہ افغانستان کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کی جزویات صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ برس مذاکرات ”مردہ“ قرار دیئے کے بعد سامنے آچکی تھی،تاہم 28ستمبر 2019تا 18فروری2020تک مذاکرات میں تشدد میں کمی پر اتفاق رائے کی بعد دوحہ میں افغان امن معاہدے پر دستخط کئے جانے کا باقاعدہ اعلان کیاگیا۔ امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد دونوں فریقین کے قیدیوں کی رہائی اور اس کے بعد ملک کے سیاسی مستقبل، نظام حکومت اور دیگر ملکی معاملات پر افغان حلقے باہمی مذاکرات کریں گے۔  افغانستان کے مختلف طبقات، گروہ، سیاسی جماعتوں اورکابل انتظامیہ میں شامل نمائندے (غیر سرکاری حیثیت) میں امارات اسلامیہ کے ساتھ بین الافغان مذاکرات میں مملکت کے نظام و انصرام پر اتفاق رائے سے افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ امریکا اور امارات اسلامیہ کے درمیان معاہدے پر دستخط سے دونوں فریقین آگاہ تھے، تاہم ڈرامائی طور پر افغانستان الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا، حسب توقع اشرف غنی کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں کامیاب قرار دے دیا گیا، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے نتائج قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے متوازی حکومت بنانے کا اعلان کیا، افغان طالبان نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، لیکن اس کے باوجود عارضی جنگ بندی پر تیار ہوگئے، دوسری جانب 26فروری کو افغان طالبان کے دباؤ پر اشرف غنی کی صدارتی تقریب حلف برداری  ملتوی کردی گئی، جس کا امریکا سمیت تمام حلقوں نے خیر مقدم کیا، اس سے قبل امارات اسلامیہ اپنے مسلح مزاحمت کاروں کو احکامات جاری کرچکے تھے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے، مخالف کے زیر کنٹرول علاقوں میں حملہ نہ کریں، عہدے داران کے احکامات کے مطابق اپنے علاقوں میں محفوظ رہیں اور ایسے گروپوں پر نظر رکھیں، جن کا تعلق حکومت یا امریکا سے نہ ہو اور وہ کوئی ناخوشگوار واقعہ یا علاقے پر قبضے کی کوشش نہ کریں۔ کابل انتظامیہ اور امریکا نے بھی امارات اسلامیہ  کے خلاف آپریشن روکنے کا اعلان کیا تاہم القاعدہ و داعش کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے بھی عارضی سیز فائر میں اعتراف کیا کہ معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔  ا مارات اسلامیہ نے ثابت کردیا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں (اضلاع) میں ان کی مکمل عمل داری ہے، افغان طالبان کے درمیان کوئی گروپ بندی نہیں اور یہ اَمر بھی نمایاں رہا کہ افواہوں کے برعکس افغان طالبان کے کسی گروپ یا فرد کی جانب سے امریکا کے ساتھ طے پائے جانے والے معاہدے پر اعتراض سامنے نہیں آیا، یہ امارات اسلامیہ کی مضبوط گرفت کا واضح اشارہ تھا کہ وہ اپنے عسکری ونگ کے ساتھ سیاسی دفتر بھی ایک صفحے پر ہیں۔ امارات اسلامیہ کے برعکس امریکی صدر و حکام سمیت کانگریس اراکین کے اختلافات منظر عام پر آتے رہے ہیں،جس کی واضح دلیل ا س سے قبل امریکی صدر کی عجلت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحے پر موجود نہ ہونے کے باعث ”ڈیوڈ کیمپ“ طرز پر دستخط کرائے جانے کی صدر ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہونا ہے، گذشتہ برس ماہ ستمبر میں نائن الیون واقعے کے مناسبت سے امریکا میں تقریبات کے انعقاد کئے جا رہے تھے، امریکی صدر چاہتے تھے کہ افغان طالبان نائن الیون کے بڑی تقریب میں اصولی معاہدے پر اتفاق رائے ہوجانے کا اعلان کردیں، لیکن امارات اسلامیہ کی قیادت نے قطر مذاکرات کے دوران ہی اس اقدام کی سختی سے مخالفت کردی تھی کہ جب تک کسی غیر جانبدار مملکت میں معاہدے پر دستخط نہیں ہوجاتے، اُس وقت تک کسی وفد کا امریکا جانا مناسب نہیں۔  کابل انتظامیہ کے صدر اشرف غنی اور دوحہ قطر سیاسی دفتر کے نمائندوں کے ساتھ تاریخی ٹوئن ٹاور پر فوٹو سیشن صدر ٹرمپ کی خواہش ہی رہی اور غیر ملکی افواج کے خلاف امارات اسلامیہ کے خلاف حملوں کے تسلسل میں ایک واقعے کوبنیاد بنا کر صدر ٹرمپ نے طے پانے والے مذاکرات کی دستاویزات کو منظوری دینے سے انکار کردیا۔اُس وقت امریکا کے سامنے دو آپشن موجود تھے کہ افغان طالبان کیمپ ڈیوڈ طرز پر صدر ٹرمپ کو فتح مند قرار دینے کے لئے سیاسی حکمت عملی کو کامیاب بنادیں یا پھراشرف غنی اپنے دعوؤں کے مطابق صدارتی انتخابات میں عوام کو ووٹ دینے کے لئے متحرک کرکے ثابت کردیں کہ افغانستان کی عوام کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے۔ صدارتی انتخابات جو بار بار ملتوی کردیئے جاتے تھے، بالاآخر امریکا سے فنڈ ملنے پر کرادیئے گئے، امارات اسلامیہ نے افغان عوام کو صدارتی انتخابات سے دور رہنے کی تاکید کی۔ صدارتی انتخابات میں دیگر امیدوار وں نے گرم جوشی کا مظاہرہ دو وجوہ کی بنا پر نہیں کیا، جس میں افغان طالبان و امریکا کے درمیان معاہدہ طے پائے جانے کی زیر گردش اطلاعات تھی۔ دوم افغان انتخابی عمل میں شفافیت و دھاندلی کے الزامات تھے، جس میں تحفظات ظاہر کئے گئے تھے کہ اشرف غنی کو دوبارہ صدر منتخب کرانا امریکی مفادات کے لئے ضروری ہے اس لئے آزاد الیکشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ افغانستا ن کے تاریخ میں کم ترین سطح پر ووٹ ڈالے گئے، افغانستان کی ساڑھے تین کروڑ آبادی میں اشرف غنی کو 9 لاکھ کے قریب ووٹ پڑے جو کل آبادی کا پانچ فیصد بنتا ہے،انتخابی فہرستوں میں نوے لاکھ افراد کے نام درج ہیں، نوے لاکھ میں سے محض 18 لاکھ افراد نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں سے پچاس فیصد ووٹ اشرف غنی نے حاصل کیا، جبکہ ستر لاکھ افراد نے الیکشن  میں ووٹ ہی نہیں ڈالے۔دوسری جانب حساس موقع پر سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ امریکہ نے پانچ مہینوں کے بعد نازک وقت پر متنازعہ انتخابات کے نتائج کے اعلان کی اجازت کیوں دی؟۔  افغانستان کے موجودہ حالات سنگین ہیں،اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران افغانستان میں ایک لاکھ سے زائد عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے، اس لڑائی کو شروع ہوئے 18 سال ہو چکے ہیں۔جبکہ افغانستان میں سوویت یونین کے بعد سے40 برسوں میں سے 37سال جنگ و خانہ جنگیوں کے سبب افغان عوام بدترین تباہی کا شکار ہوچکے ہیں، دوحہ قطر میں امریکا کے ساتھ اصولی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد اصل مسائل اٹھنے کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات کے لئے ایک ایسا سازگار ماحول ملنے کی توقع کم ظاہر کی جا رہی جو صدارتی انتخابات سے قبل ستمبر2019کو تھا۔ دوحہ میں ستمبر کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن مذاکراتی دور میں بین الافغان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لئے سیاسی و سول سوسائٹی سمیت کابل انتظامیہ میں شامل وفد نے غیر سرکاری سطح پر امارات اسلامیہ کے سیاسی رہنماؤں سے افغانستان کے انتظام و انصرام پر متفق ہونے کے لئے ایک غیر اعلانیہ حکمت عملی تیار کرلی تھی، لیکن صدر ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعات کے سبب دوسرے بین الافغان مذاکرات کے ایجنڈے کو بھی نقصان پہنچا،  اشرف غنی، اس وقت باقاعدہ الیکشن کمیشن کی جانب سے صدر جبکہ ان کے مخالفین متوازی حکومتیں قائم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، جس کے باعث افغانستان کی سیاسی صورتحال کافی گنجلگ ہے اور امارات اسلامیہ کے لئے اپنے مسلح مخالفین جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی فریقوں کے درمیان تلخ معاملات پیدا ہونے کے یقینی خدثات موجود ہیں، تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امارات اسلامیہ کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس قسم کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا گیا تاکہ افغان طالبان ایک طرف جنگجوؤں، داعش کے خلاف صف آرا ہوں تو دوسری جانب سیاسی عدم استحکام کی ذمے داری بھی ان پر ڈالی جاسکے۔  افغانستان کی صورتحال میں بے یقینی کا عنصر غالب رہنے کے تحفظات سامنے آتے جارہے ہیں کہ بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے کابل انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی وہ ایک ٹیم بنانے پر متفق ہو سکتے ہیں، اگر ایک متفقہ ٹیم بن بھی گئی تو یہ اختلاف جاری رہے گا کہ ٹیم کی سربراہی کون کرے گا، بین الافغان مذاکرات کی ناکامی اور رکاوٹوں کے بعد امریکہ یہ جواز پیش کرسکتا ہے کہ ہم نے افغان طالبان کے ساتھ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا اور فوجی انخلا کا سلسلہ بھی شروع کر دیا لیکن افغان حلقے آپس میں متفق نہیں ہو سکتے ہیں اور مکمل فوجی انخلا کی صورت میں ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے اس لئے ہم مجبور کریں کہ اس ملک میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھے، ممکن ہے کہ ان حالات میں کچھ افغان اور دیگر ممالک بھی امریکہ سے مطالبہ کریں کہ وہ افغانستان میں مسائل کو حل کرنے تک اپنی موجودگی برقرار رکھے، امارت اسلامیہ نے امریکہ سے بجا مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کرے کہ امارات اسلامیہ کے ساتھ افغانستان کے موجودہ نظام اور کابل انتظامیہ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں ایک ایسا شخص جو عوام کی اکثریت اور تمام سیاسی جماعتیں اس کی مخالف ہو جبکہ ملک کے ستر فیصد رقبے پر حاکم اور سیاسی اور فوجی لحاظ سے سب سے بڑی منظم قوت اس کے وجود سے انکار کر رہی ہو ان حالات میں موجودہ نظام کی حیثیت کیا ہوگی؟۔ دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی کے امکانات ہیں، کیونکہ افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر امریکا و نیٹو افواج فضائی حملوں میں ایسے علاقوں، جگہوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بے گناہ افغانوں کی ہلاکتوں میں تشویش ناک اضافہ ہوا۔ داعش و دیگر چھوٹے جنگجو گروپوں کے درمیا ن زیر قبضہ علاقوں پر عمل دراری قائم رکھنے کی خانہ جنگی ختم ہونے میں وقت لگے گا، جس طرح سوویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور ملا عمرمجاہد نے ملکی حالات کے پیش نظر مدارس کے طلبا کے ساتھ، ملک بھر میں امن قائم کیا تھا، اُس وقت سے موجودہ حالات کئی اعتبار سے بہتر ہیں، کیونکہ امارات اسلامیہ افغانستان کو ایک اسٹیک ہولڈر کے حیثیت سے عالمی برادری تسلیم کرچکی ہے۔ جب کہ ماضی میں افغان طالبان کو صرف سعودی عرب، متحدہ امارات او رپاکستان نے ہی تسلیم کیا تھا۔ افغان طالبان، امارات اسلامیہ افغانستان کے نام سے اپنا تشخص منوا چکی ہے، دنیا بھر نے اعتراف کرلیا ہے کہ افغانستان میں امریکا فاتح بن کر نہیں بلکہ ایک ایسے شکست خوردہ ملک کی حیثیت سے باہر انخلا کررہا ہے، جہاں لاحاصل جنگ میں کھربوں ڈالرز پھونک ڈالے، ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ امریکا سمیت عالمی برداری کو ادارک ہوچکا ہے کہ افغانستان، دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے خطرہ نہیں۔ افغان طالبان نے 40برسوں کی جنگ میں صرف اپنی سرزمین پر موجود جارحیت پسندوں کے خلاف مسلح مزاحمت کی، اس دوران بھی دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی کسی بھی ملک میں دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کی ذمہ داری قبول کی، بلکہ شروع سے امارات اسلامیہ کا واضح موقف رہا کہ وہ اپنی سرزمین پر جارح قوتوں کے خلاف ہیں، عام عوام سمیت کسی دوسرے ملک میں شدت پسندی کی کوئی کاروائی کو جائز قرار نہیں دیا، بلکہ افغانستان میں اپنے مخالفین کے علاقوں میں عوامی مفاد عامہ کے منصوبوں کی حفاظت کی بھی یقین دہانی کراتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امارات اسلامیہ افغانستان اور امریکا کے درمیان مصالحت کے لئے تاریخی کردار ادا کیا۔ افغان عوام کو اپنی مرضی کے مطابق حکومت سازی و مستقبل کے فیصلے کرنے کی یقین دہانی کرائی، جب کہ بھارت نے پاکستان مخالفت میں افغان عوام و پاکستانی عوام کے درمیان نفرتوں کی فصل بڑھانے کی آبیاری کو فروغ دیا۔ بھارت نے افغانستان کے معدنی و قدرتی وسائل پر کرپٹ کابل انتظامیہ کی مدد سے غیر قانونی ٹھیکے حاصل کئے، قیمتی نوادارت سمیت قدرتی وسائل کے خزانوں سے فائدہ اٹھایا۔ کرپٹ انتظامیہ کے ساتھ م کر افغان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی، افغان طالبان کے خلاف مسلح کاروائیوں میں کرپٹ کابل انتظامیہ کا ساتھ دیا اور نسل پرستی، قومیت و فرقہ واریت کی فضا قائم کرنے کی سازشیں کیں، کئی بار بھارت کی ایما پر افغان امن عمل میں پاکستان کی سہولت کاری کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندیاں کیں جو امریکا سمیت عالمی برداری کے سامنے آشکارہ ہوئیں۔ پاکستان نے تحمل و بردباری ے ساتھ، افغان امن کو واپس لانے کے لئے امریکا اور عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ کابل انتظامیہ و افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا۔ اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان نے سینکڑوں برسوں سے ایک ثقافت و روایت جڑے عوام میں امن کو فروغ دینے کے ساتھ چالیس برس سے زیادہ دنیا میں طویل عرصے تک مہاجرین کی میزبانی کی، اب بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں امن و سکون کے ساتھ نہ صرف پاکستانی شہری کے طرح آزاد زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ افغان مہاجرین نے پاکستان کی جانب سے سہولیات فراہم کرنے پر کاروبار میں بھی ترقی کی، انتہائی بُرے حالات میں آنے والے لاکھوں افغان برداری کو اپنے بھائیوں کی طرح گلے سے لگایا اور آج ان گنت ایسے افغان مہاجر تاجر ہیں جن کا شمار پاکستان کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے اور ان کا پاکستانی معیشت میں بڑا حصہ ہے۔ایسی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی کہ مہاجرین کو اپنے ملک کی شہریوں کی طرح آزادنہ نقل و حرکت سمیت تجارت کرنے کی بھی مکمل آزادی دی گئی ہو۔ امید کی جاسکتی ہے کہ افغانستان میں پائدار امن کے شروعات سے افغانستان و پاکستان کے درمیان بردارانہ تعلقات کا نیا دور شروع ہوگا۔ اسلام دشمن عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والوں کی سازشوں کو ناکامی ہوگی۔ دونوں ممالک امن کے قیام کے لئے مثبت اقدامات سے شدت پسندی کے خلاف مشترکہ بیانہ اختیار کریں گے کیونکہ دوسرے ملک کی جنگوں سے دونوں ممالک کی عوام کو نقصان پہنچا ہے۔ دونوں ممالک، امن کی قیمت کو سمجھتے ہیں اور شدت پسندی و بیرونی جارحیت سے پہنچے والے ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان سے بخوبی آگاہ ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی امارات اسلامیہ و امریکا کے درمیان معاہد ے کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان نے اپنے اس عزم کا بارہا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں امن سے خطے کے تمام ممالک کی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے اسلامی و بردارنہ تعلقات ہیں، اس لئے پاکستان نے افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد افغان عوام پر ذمے داری عائد ہوگی کہ وہ امریکی انخلا کے بعد میسر مہلت میں بین الافغان مذاکرات میں تمام فریقوں کے لئے قابل قبول نظام پر متفق ہوجائیں۔ اگر ا ن کے درمیان اختلافات رہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہی ہوگا، کیونکہ امریکا سمیت کوئی بھی ملک افغانستان کی خانہ جنگی میں فریق بن کر اپنے ملک کا مستقبل تباہ کرنے سے اجتناب کرے گا، اُس کے سامنے امریکا کی صورتحال سامنے ہوگی کہ واحد سپر پاور ہونے کا زعم میں مبتلا امریکا کس قدر بے بس و شرمندگی کا شکار رہا اور18برسوں کی جنگ میں کھربوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود اُس کے حصے میں شکست ہی آئی، اگر افغانستان کے چھوٹے بڑے گروپ بین الافغان مذاکرات میں یکجا نہیں ہوئے اور لچک دار رویہ اختیار نہیں کیا تو وہ ایسی جنگ کا ایندھن بن جائیں گے جس کے نتائج سے سب بخوبی آگاہ ہیں۔دوحہ معاہدے پر دستخط کے بعد افغان عوام اپنے فیصلوں میں آزاد ہونگے کہ وہ اپنے ملک کے لئے کس قسم کا نظام چاہتے ہیں اوردین و دنیا کے ساتھ، ساتھ چلنے کے لئے عاجلانہ ماضی کی غلطیوں کو دوہرا

اپنا تبصرہ بھیجیں