امریکی تجارتی وفد کے سامنے پاکستان نے تین مطالبات رکھے -امریکہ نے ایک بار پھر سے پاکستان کے ساتھ چال چل دی

اینکر پرسن اسامہ غازی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر سے پاکستان کے ساتھ چال چل دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے اسامہ غازی نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ اسی سلسلے میں امریکی وزیر تجارت نے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا ۔
امریکی تجارتی وفد  کے سامنے پاکستان نے تین مطالبات رکھے ۔ پہلے مطالبے میں کہا گیا کہ فری ٹریڈ کی جائے گی، دوسرا مطالبہ کیا گیا کہ جی ایس ٹی پلس سے پاکستانی مصنوعات کو آسانی سے رسائی دی جائے گی ۔ جبکہ تیسری مطالبے میں ٹریڈا ینڈ انوسٹمنٹ معاہدے  پر  بات ہوئی۔ جس میں سے کوئی مطالبہ بھی تسلیم  نہ کیا گیا ۔ مگر امریکا نے صرف اپنے حق میں فیصلہ کیا اور کہا کہ  امریکی  کمپنیاں  پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی۔جس  سے  فائدہ  پاکستان  کو تو  ہوگا  ہی مگر امریکی کمپنی یہاں سے منافع اپنے ملک لے کر جائیں گی جس سے امریکا کو فائدہ ہوگا۔ امریکی صدر نے بھارت کا دورہ کیا ، اس دورے کو متوازی کرنے کے لئے امریکی وزیرتجازت نے پاکستان کا دورہ کیا۔ امریکہ نے چال چلی اور پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں بڑھائی۔ اسامہ غازی کا کہنا ہے کہ تمام ملک اپنے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں پاکستان بھی یہی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کی ہر مشکل میں مدد کرتا ہے ۔ اب چین نے پاکستان کو ایک لاکھ بتخیں دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ٹڈی دَل کے فیصلوں پر حملے کو روکا جا سکے ۔ پاکستان بھی چین کے شانہ بشانہ چلتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں