سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرکے صنعتی علاقوں کو دیں گے

 
عوامی شکایات، مشکلات، مسائل کے حل سمیت منتخب عوامی نمائندوں سے رابطوں کیلئےکھلی کچھریاں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں، وزیر بلدیات و اطلاعات سید ناصر حسین شاہاور وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزمان
 
صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ اور مخدوم محبوب الزماں کاڈسٹرکٹ ایسٹ میں کھلی کچہری کے انعقاد کے موقع پر تمام افسران کو ترجیحی بنیادوںپر عوامی مسائل حل کرنے کی ہدایت
 
کراچی (29 فروری):صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مکمل ڈیٹا چیئرمینآفس سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ ہر دو ماہ کے بعد ہر ڈسٹرکٹ میں علیحدہ علیحدہ مقاماتپر کچھریوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اس دفعہ دو وزراء کو منتخب کیا گیا ۔ کچہری کےلیے 60 میں سے 25 مکمل ہوچکے ہیں۔ 18 ایک جیسے مسائل پیش کئے گئے۔ گھوٹوں میں  پانی، سیوریج کے مسائل پیش کئے گئے جلد کامشروع کروایا جائے گا۔ ہمارے لیڈر اپوزیشن فردوش شمیم نقوی تشریف لائے۔ JUI، PTI ، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کےنمائندے خوبصورت گلدستے کی طرح موجود ہیں۔ میرے چیئرمین کا وژن ہے تمام مسائل نوٹکرلئے گئے ہیں۔ جب تک ایک ایک شخص کی درخواست میں نہ لے لوں یہاں سے نہیں جاؤنگا۔چیئرمین بلاول سے مسائل کے حل کیلئے شارٹ اور لانگ ٹرم کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔ کراچی کا شمار روز مالکان اور رہنے کے لیے آنے والوں کا ہے۔ سندھ حکومت نے پانیسیویرج سمیت ورلڈ بینک کے توسط سے اربوں روپے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کرنے کیمنصوبہ بندی کی ہے۔ 100 ایم جی ڈی اضافی پانی کے منصوبے کا چیئرمین نے افتتاح کیا۔جس کی تقسیم منصفانہ ہوگی۔ سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرکے صنعتی علاقوں کو دیں گے۔وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی توسیع کا حکم دیا ہے۔ ہم ان علاقوں میں بھی کام کرا رہے ہیںجہاں ہمیں ووٹ نہیں ملتے ۔ چیئرمین کی وژن کے مطابق عوام کی خدمت منشور اور وژنہے۔ ایس بی سی اے نے 900 غیر قانونی ڈھانچوں کو گرایا۔ غیر قانونی تعمیرات کے باعثلوگ لٹ رہے ہیں اپنی جمع پونچی سے محروم ہورہے ہیں۔ احسن آباد کے مسائل حل کریںگے۔ پیڈ سٹریل برج کا مسئلہ حل کریں گے۔ سوداگران دلوں کا سودا کررہے ہیں۔ کامکرائیں سپورٹ کریں گے۔ غیر قانونی چارجڈ پارکنگ کو ختم کرادیا جائے گا۔ جہاں ضرورتہوگی متعلقہ ایسوسی ایشن کے تعاون سے نظام قائم کیا جائے گا۔ مافیا ز کا خاتمہکریں گے۔ نئی سبزی منڈی کا وزیر کے ساتھ وزٹ کریں گے ایگریکلچرل کے ساتھ، تعلیم کےحوالے سے سعید غنی کام کررہے ہیں خامیوں کو دور کردیا جائے گا۔ تجاوزات کے حوالےسے سخت سے ہدایات ہیں۔ چیئرمین نے وزیراعلیٰ کو تجاوزات ہٹانے سے پہلے لوگوں کوآبادکاری کا انتظام کرانے کی ہدایت کی ہے۔ کوئی بھی ادارہ ہو وہ تجاوزات قائم نہہونے کا انتظام کریں۔ کے سی آر کے حوالے سے 4700 کے قریب لوگوں کی آبادکاری کےلیے کام مکمل کرلیا گیا تھا۔ قبرستان کے حوالے سے کابینہ میں فیصلہ ہوا ہے کہ ہرڈسٹرکٹ میں قبرستان بنائے جائیں۔ تین اضلاع میں نشاندہی ہوئی ہے قبرستانوں کیلیےکئی اضلاع میں جگہ دستیاب نہیں۔ اپنی شہرت کی حامل این جی اوز کو گود لینے کے لیےپارکس کے حوالے سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے جس پر کام ہورہا ہے۔ایسٹ میں صفائی کے حوالے سے سالڈ ویسٹ کی کارکردگی سے مکمل مطمئن نہیں۔ مگر دیگراضلاع کے مقابلے میں ایسٹ میں کام بہتر ہو رہا ہے۔ سالڈ ویسٹ کے افسران کام کریںگے کارکردگی دکھائیں تو وہ رہیں گے۔ کورونا وائرس کے ھوالے سے سندھ حکومت پوری طرحآگاہ ہے اور وزیراعلیٰ سندھ اس حوالے سے اقدامات میں مصروف ہیں۔ 500 ایران سےآنے والے افراد کی اسکریننگ جاری ہے۔ عوام گھبرائے نہیں مگر احتیاطی تدابیر ضروراپنائیں۔ ہر اسپتال میں آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں۔ ماسک کی ضرورت نہیں ماسکبلیک میں فروخت کرنے والے خدا کے قہر سے ڈریں۔ مومن کا ہتھیار دعا ہے۔ یہ قوم کامسئلہ ہے تمام لوگ ایک پیچ پر ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام تر احتیاطی تدابیراختیار کی جارہی ہیں انتظامات جئے جارہے ہیں۔ ایس بی سی اے کی جہاں شکایات ہیں وہاںاچھا کام بھی کررہے ہیں افسران کی غفلت برداشت نہیں کی جائی گی۔ جو لوگ غیر قانونیتعمیرات میں ملوث ہیں ایسے تمام افسران کی فہرست مرتب کی جارہی ہے جنکے خلاف سختایکشن لیا جائے گا کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ظالم اور لوگوں کو لوٹنے والے بلڈرز کےخلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ آج کی کچھری میں پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتیں بھیہمارے ساتھ ہیں۔ سندھ کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ کراچی پاکستان کیمعیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم اور گورنر اپنا رول ادا کررہےہیں۔ وفاقی حکومت جہاں کام کرنا چاہے ہم ان کی سپورٹ کریں گے معاونت کریں گے۔وفاقی حکومت کے آئی جی کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اقدام پر سراہتے ہیں۔ پولیسفورس ہماری ہیں امن کے لیے ان کی بڑی قربانیاں ہیں پورے سندھ میں قائم کرنے کے لیےآئی جی مسئلہ کو سیاسی بنارہے تھے۔ سندھ حکومت نے پولیس کو کبھی نہیں کہا آئی جیکا حکم نہ مانیں۔ ہم اپنی پولیس فورس کا مورال ڈاؤن نہیں کرنا چاہتے۔
 کھلی کچھری میںسندھ اسمبلی مین اپوزیشن لیڈر فرووش شمیم نقوی، ممبر صوبائی اسمبلی بلال غفار،محمد علی عزیز، محمد جمال صدیقی، انتھونی نوید، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصیشہزاد میمن، صدر ڈسٹرکٹ ایسٹ (پی پی) اقبال ساند، جنرل سیکریٹری لالہ رحیم، سینئرممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز، ڈپٹی کمشنر ایسٹ احمد علی صدیقی، ایم ڈیواٹر بورڈ اسداللہ خان، میونسپل کمشنر ڈسٹرکٹ ایسٹ وسیم سومرونے شرکت کی۔
 کھلی کچھری سے خطابکرتے ہوئے صوبائی وزیر روینیو مخدوم محمود الزمان نے کہا کہ زمینوں پر قبضہ کرانےوالوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جارہا ہے۔ چاہے اسکا تعلق بلڈرز سے ہو یا سیاسی جماعتسے یا پھر سرکاری اداروں سے۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن اور بدعنوانیوں پر ریونیو کے21 افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جاچکی ہے جن میں اسسٹنٹ کمشنر، مختیارکار،اسسٹنٹ مختیارکار اور تپیدار لیول کے افسران شامل ہیں۔ اور آئندہ بھی ان تمامافسران کے کلاف سخت کارروائی کی جائیگی جوکہ زمینوں یا کسی بھی حوالے سے قبضے یاکرپشن میں ملوث ہونگے۔ وزیر ریونیو نے مزید کہا کہ کھلی کچھریوں کا مقصد عوام کوان کے دروازوں پر انصاف کی فراہمی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اوروزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کے تحت پہلے کبھی کھلی کچھریاں منعقد کی گئیں۔ اور آجبھی پورے سندھ میں منعقد کی جارہی ہیں جہاں پر بلاتفریق لوگوں کے مسائل سنے اور حلکئے جارہے ہیں لوگوں کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے کھلی کچھریاں انتہائی موثرذریعہ ہیں۔
محمد شبیہ صدیقی
ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ و تعلقات عامہ
صوبائی وزیر بلدیات، اطلاعات و جنگلات سندھ
رابطہ: 2294020-0300
 
کراچی (29 فروری): وزیر بلدیات و اطلاعات سید ناصر حسین شاہاور وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزمان ڈسٹرکٹ ایسٹ کراچی میں کھلی کچھری میں عوامیمسائل کے حل کیلیے  درخواستوں کا جائزہ لےرہے ہیں۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی مین اپوزیشن لیڈر فرووش شمیم نقوی بھی موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں