عوامی شکایات، مشکلات، مسائل کے حل سمیت منتخب عوامی نمائندوں سے رابطوں کیلئے کھلی کچھریاں

عوامی شکایات، مشکلات، مسائل کے حل سمیت منتخب عوامی نمائندوں سے رابطوں کیلئے کھلی کچھریاں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں، وزیر بلدیات و اطلاعات سید ناصر حسین شاہ اور وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزمان صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ اور مخدوم محبوب الزماں کا ڈسٹرکٹ ایسٹ میں کھلی کچہری کے انعقاد کے موقع پر تمام افسران کو ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل حل کرنے کی ہدایت کراچی (29 فروری):صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات، جنگلات و جنگلی حیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے ا?ج ضلع شرقی کراچی میں وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزماں کے ساتھ منعقدہ کھلی کچہری میں کہا ہے کہ عوامی شکایات، مشکلات اور مسائل کے حل سمیت منتخب نمائندوں سے رابطوں کیلئے کھلی کچھریاں کلیدی اور موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ انھوں نے کہ اکہ ضلع شرقی سمیت کراچی کے شہریوں کے مسائل اور شکایات سننے اور ان کے حل کیلئے آج کھلی کچھری میں ضلعی انتظامیہ ، شہری انتظامیہ سمیت سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، کے ڈی اے ، ایکسائیز و ٹیکسیشن، واٹر بورڈ، کے ایم سی، نادرا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ کچی آبادی، سندھ پولیس، کنٹونمنٹ بورڈ، اینٹی انکرونچمنٹ بورڈ ا?ف ریونیو ، ڈی ایم سی ایسٹ، ٹریفک پولیس، محکمہ صحت، زکوات ، ڈی ایم سی، تعلیم، سوشل ویلفیئر، سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے محکمہ کے افسران کو بلایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ادارے سے متعلقہ لوگوں کی شکایات ، مشکلات اور مسائل کی موقع پر ہی حل کیا جاسکے۔کھلی کچھری میں سندھ اسمبلی مین اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، ممبر صوبائی اسمبلی بلال غفار، محمد علی عزیز، محمد جمال صدیقی، انتھونی نوید، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی شہزاد میمن، صدر ڈسٹرکٹ ایسٹ (پی پی) اقبال ساند، جنرل سیکریٹری لالہ رحیم، سینئر ممبر بورڈ ا?ف ریونیو قاضی شاہد پرویز، ڈپٹی کمشنر ایسٹ احمد علی صدیقی، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان، میونسپل کمشنر ڈسٹرکٹ ایسٹ وسیم سومرونے شرکت کی۔ صوبائی وزراءنے کہا کہ آج کے روز پورے صوبہ سندھ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وڑن اور وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کے تحت پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے کھلی کچھریوں میں عوام کے مسائل سن رہے ہیں اور لوگوں کی مشکلات دور کرنے اور انھیں حل کرنے میں مصروف ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر گزشتہ ماہ میں بھی پورے صوبے میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا اور لاکھوں افراد کے مسائل سنے اور ہزاروں کے مسائل حل کئے گئے جبکہ ان مسائل کو حل کرنے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ مختلف افراد نے کھلی کچھری میں مختلف اداروں اور ان کے افسران کے خلاف شکایات کیں۔ لوگوں نے شکایت کی کہ جب ہم محکمہ میں جاتے ہیں تو افسران کا رویہ ہم سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کھلی کچہریوں کا مکمل ڈیٹا چیئرمین آفس سے مانیرا کیا جاتا ہے۔ ہر دو ماہ کے بعد ہر ڈسٹرکٹ میں علیحدہ علیحدہ مقامات پر کچھریوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اس دفعہ دو وزرائ کو منتخب کیا گیا۔ کچہری کے لیے 60 میں سے 25 مکمل ہوچکے ہیں۔ 18 ایک جیسے مسائل پیش کئے گئے۔ گھوٹوں میں پانی، سیوریج کے مسائل پیش کئے گئے جلد کام شروع کروایا جائے گا۔ ہمارے لیڈر اپوزیشن فردوش شمیم نقوی تشریف لائے۔ JUI، PTI ، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے نمائندے خوبصورت گلدستے کی طرح موجود ہیں۔ میرے چیئرمین کا وڑن ہے تمام مسائل نوٹ کرلئے گئے ہیں۔ جب تک ایک ایک شخص کی درخواست میں نہ لے لوں یہاں سے نہیں جاو ¿نگا۔ چیئرمین بلاول سے مسائل کے حل کیلئے شارٹ اور لانگ ٹرم کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔ کراچی کا شمار روز مالکان اور رہنے کے لیے ا?نے والوں کا ہے۔ سندھ حکومت نے پانی سیویرج سمیت ورلڈ بینک کے توسط سے اربوں روپے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ 100 ایم جی ڈی اضافی پانی کے منصوبے کا چیئرمین نے افتتاح کیا۔ جس کی تقسیم منصفانہ ہوگی۔ سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرکے صنعتی علاقوں کو دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی توسیع کا حکم دیا ہے۔ ہم ان علاقوں میں بھی کام کرا رہے ہیں جہاں ہمیں ووٹ نہیں ملتے۔ چیئرمین کی وڑن کے مطابق عوام کی خدمت منشور اور وڑن ہے۔ ایس بی سی اے نے 900 غیر قانونی ڈھانچوں کو گرایا۔ غیر قانونی تعمیرات کے باعث لوگ لٹ رہے ہیں اپنی جمع پونچی سے محروم ہورہے ہیں۔ احسن آباد کے مسائل حل کریں گے۔ پیڈ سٹریل برج کا مسئلہ حل کریں گے۔ سوداگران دلوں کا سودا کررہے ہیں۔ کام کرائیں سپورٹ کریں گے۔ غیر قانونی چارجڈ پارکنگ کو ختم کرادیا جائے گا۔ جہاں ضرورت ہوگی متعلقہ ایسوسی ایشن کے تعاون سے نظام قائم کیا جائے گا۔ مافیا ز کا خاتمہ کریں گے۔ نئی سبزی منڈی کا وزیر کے ساتھ وزٹ کریں گے ایگریکلچرل کے ساتھ، تعلیم کے حوالے سے سعید غنی کام کررہے ہیں خامیوں کو دور کردیا جائے گا۔ تجاوزات کے حوالے سے سخت سے ہدایات ہیں۔ چیئرمین نے وزیراعلیٰ کو تجاوزات ہٹانے سے پہلے لوگوں کو ا?بادکاری کا انتظام کرانے کی ہدایت کی ہے۔ کوئی بھی ادارہ ہو وہ تجاوزات قائم نہ ہونے کا انتظام کریں۔ کے سی ا?ر کے حوالے سے 4700 کے قریب لوگوں کی ا?بادکاری کے لیے کام مکمل کرلیا گیا تھا۔ قبرستان کے حوالے سے کابینہ میں فیصلہ ہوا ہے کہ ہر ڈسٹرکٹ میں قبرستان بنائے جائیں۔ تین اضلاع میں نشاندہی ہوئی ہے قبرستانوں کیلیے کئی اضلاع میں جگہ دستیاب نہیں۔ اپنی شہرت کی حامل این جی اوز کو گود لینے کے لیے پارکس کے حوالے سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے جس پر کام ہورہا ہے۔ ایسٹ میں صفائی کے حوالے سے سالڈ ویسٹ کی کارکردگی سے مکمل مطمئن نہیں۔ مگر دیگر اضلاع کے مقابلے میں ایسٹ میں کام بہتر ہو رہا ہے۔ سالڈ ویسٹ کے افسران کام کریں گے کارکردگی دکھائیں تو وہ رہیں گے۔ کورونا وائرس کے ھوالے سے سندھ حکومت پوری طرح ا?گاہ ہے اور وزیراعلیٰ سندھ اس حوالے سے اقدامات میں مصروف ہیں۔ 500 ایران سے آنے والے افراد کی اسکریننگ جاری ہے۔ عوام گھبرائے نہیں مگر احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں۔ ہر اسپتال میں ا?ئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں۔ ماسک کی ضرورت نہیں ماسک بلیک میں فروخت کرنے والے خدا کے قہر سے ڈریں۔ مومن کا ہتھیار دعا ہے۔ یہ قوم کا مسئلہ ہے تمام لوگ ایک پیچ پر ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں انتظامات جئے جارہے ہیں۔ ایس بی سی اے کی جہاں شکایات ہیں وہاں اچھا کام بھی کررہے ہیں افسران کی غفلت برداشت نہیں کی جائی گی۔ جو لوگ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں ایسے تمام افسران کی فہرست مرتب کی جارہی ہے جنکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا کریک ڈاو ¿ن کیا جائے گا۔ ظالم اور لوگوں کو لوٹنے والے بلڈرز کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ آج کی کچھری میں پی ٹی ا?ئی سمیت دیگر جماعتیں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ سندھ کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم اور گورنر اپنا رول ادا کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت جہاں کام کرنا چاہے ہم ان کی سپورٹ کریں گے معاونت کریں گے۔ وفاقی حکومت کے ا?ئی جی کو تبدیل کرنے کے حوالے سے اقدام پر سراہتے ہیں۔ پولیس فورس ہماری ہیں امن کے لیے ان کی بڑی قربانیاں ہیں پورے سندھ میں قائم کرنے کے لیے آئی جی مسئلہ کو سیاسی بنارہے تھے۔ سندھ حکومت نے پولیس کو کبھی نہیں کہا ا?ئی جی کا حکم نہ مانیں۔ ہم اپنی پولیس فورس کا مورال ڈاو ¿ن نہیں کرنا چاہتے۔  کھلی کچھری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر روینیو مخدوم محمود الزمان نے کہا کہ زمینوں پر قبضہ کرانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جارہا ہے۔ چاہے اسکا تعلق بلڈرز سے ہو یا سیاسی جماعت سے یا پھر سرکاری اداروں سے۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن اور بدعنوانیوں پر ریونیو کے 21 افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جاچکی ہے جن میں اسسٹنٹ کمشنر، مختیارکار، اسسٹنٹ مختیارکار اور تپیدار لیول کے افسران شامل ہیں۔ اور ا?ئندہ بھی ان تمام افسران کے کلاف سخت کارروائی کی جائیگی جوکہ زمینوں یا کسی بھی حوالے سے قبضے یا کرپشن میں ملوث ہونگے۔ وزیر ریونیو نے مزید کہا کہ کھلی کچھریوں کا مقصد عوام کو ان کے دروازوں پر انصاف کی فراہمی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وڑن اور وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات کے تحت پہلے کبھی کھلی کچھریاں منعقد کی گئیں۔ اور آج بھی پورے سندھ میں منعقد کی جارہی ہیں جہاں پر بلاتفریق لوگوں کے مسائل سنے اور حل کئے جارہے ہیں لوگوں کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے کھلی کچھریاں انتہائی موثر ذریعہ ہیں۔
ہینڈآوٹ نمبر ۔۔۔۔233 ایم ایس ایس

اپنا تبصرہ بھیجیں