نعمت اللہ خان صاحب کی تنخواہ کہاں گئی

پاکستان کے ارب پتی ارکان پارلیمنٹ ان دنوں پریشان ہیں کہ ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں.. وزیراعظم بھی یہ جتاتے نہیں تھکے کہ 2 لاکھ روپے ماہانہ میں مشکل سے ہی ان کا گزارہ ہوتا ہے… ایسے میں ہمیں کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان یاد آئے… وہ اگست 2001 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ناظم بنے تو ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے تھی.. ساڑھے 12 ہزار روپے ہاؤس رینٹ ملتا تھا… یوں لگ بھگ ماہانہ37500روپے ان کے اکاؤنٹ میں جاتے تھے… چار سال ان کی یہی تنخواہ رہی….ہمارا خیال تھے کہ ناظم شہر یہ رقم ہر ماہ خرچ کردیتے ہوں گے مگر ایسا نہیں تھا۔
دوہزار پانچ میں جب نعمت اللہ خان صاحب کی نظامت ختم ہوئی تو اسی سال اکتوبر میں آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا.. جماعت اسلامی نے نعمت اللہ خان صاحب کو ریلیف ورک کا سربراہ مقرر کیا… نعمت اللہ خان صاحب سب سے پہلے بینک کی اس برانچ میں گئے جہاں ان کی تنخواہ آتی تھی… بیلنس معلوم کیا تو چار سال کی تنخواہ کم و بیش 18 لاکھ روپے بنتی تھی… نعمت صاحب نے تمام کی تمام رقم زلزلہ َزدگان کے فنڈ میں جمع کرادی… ایک روپیہ بھی لینا گوارا نہ کیا.. یہ اس شخص کا حال تھا جس نے کراچی کا بجٹ 6ارب سے 42ارب تک پہنچا دیا تھا… مگر کسی کو خبر بھی نہ لگی کہ تنخواہ خرچ کہاں کی….

پاکستان میں حالیہ سالوں میں گورنر ہاؤسز گرانے اور یونیورسٹیاں بنانے کی باتیں ہوئیں مگر آج ایوان صدر بھی آباد ہے.. اور وزیراعظم ہاؤس بھی یونیورسٹی بننے کا منتظر ہے… نعمت اللہ خان کو سٹی ناظم کے طور پر لیاقت نیشنل اسپتال کے قریب ایک بڑی سرکاری رہائش گاہ ملی تھی مگر آپ نے وہاں رہنے کے بجائے نارتھ ناظم آباد میں واقع ذاتی مکان میں رہنے کو ترجیح دی… نہ صرف یہ بلکہ سرکاری رہائش گاہ میں شہر کا جدید ترین ڈایگنوسٹک سینٹر بنانے کا منصوبہ بنایا.. اپنے ہاتھوں سے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا.. بجٹ میں فنڈز بھی مختص کئے مگر نئے ناظم نے یہ منصوبہ ختم کردیا…
یونیورسٹیوں سے یاد آیا نعمت اللہ خان صاحب نے شہری حکومت کے تحت خاتون پاکستان کالج اور سرسید گرلز کالج کا طالبات کی جامعات بنانے کا فیصلہ بھی کیا تھا… روزنامہ جنگ کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کی زیر سربراہی نو رکنی کمیٹی بناکر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا…. مگر نعمت اللہ خان صاحب کے بعد یہ منصوبہ بھی ختم ہوگیا… بلکہ ایسے جیسے شہر کا مینڈیٹ رکھنے والے پوری طاقت میں آکر بھی2005سے2010 کے درمیان K-4 واٹر پراجیکٹ نہیں بناسکے….. حالانکہ منصوبے کی فزیبلیٹی K-3 واٹر پراجیکٹ کامیابی سے بنانا والا بوڑھا ناظم بنوا کر گیا تھا…
آج کراچی میں
فی الفور.. K-4.. کے بینر لگا کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں