امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے میں کیا کچھ طے پایا؟

امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے معاہدے میں طے پایا ہے کہ اگر طالبان معاہدے کی پاسداری کریں گے تو 14 ماہ کے اندر تمام امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی۔
اردو نیوز کو دستیاب معاہدے کی دستاویز کے مطابق ھفتے کو قطر میں طے پانے والے معاہدے کے چار حصے ہیں۔
پہلا حصہ:
معاہدے کے تحت یہ ضمانت دی گئی ہے کہ افغانستان میں ایک ایسا مکینزم لایا جائے گا جس کے تحت افغانستان کی سرزمین کسی بھی گروہ کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
دوسرا حصہ:
اس معاہدے کے تحت ضمانت دی گئی ہے کہ تمام غیر ملکی افواج ایک طے شدہ مدت میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔تیسرا حصہ:
بین الاقوامی گواہوں کی موجودگی میں ان دونوں امور پر دونوں فریقین کی طرف سے اعلانات ہونے کے بعد امارت اسلامی افغانستان (جنہیں امریکہ کی طرف سے ریاست تسلیم نہیں کیا گیا اور جنہیں طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے) وہ افغانستان کے مختلف فریقوں سے 10 مارچ 2020 سے بین الافغان مذاکرات شروع کریں گے۔


چوتھا حصہ:
بین الافغان مذاکرات کے دوران افغانستان میں مستقل اور جامع جنگ بندی ایک اہم جزو ہو گا۔ فریقین اس جنگ بندی کی تاریخ اور تفصیلات مذاکرات کے دوران طے کریں گے جس کا اعلان افغانستان کے مستقبل کے سیاسی روڈمیپ کے ساتھ ہی کیا جائے گا۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ امارت اسلامی افغانستان کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا بلکہ انہیں طالبان کے نام سے ہی پکارتا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ چاروں نکات ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں اور پہلے دو نکات پر عمل سے ہی اگلے دو پر عمل کا راستہ ہموار ہو گا۔
امریکہ کی ذمہ داریاں
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ 14 ماہ میں افغانستان سے اپنی اور اتحادیوں کی تمام افواج بشمول تمام غیر سفارتی سول افراد، نجی کنٹریکٹرز اور ایڈوائزرز کے انخلا کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرے گا۔
پہلے ساڑھے چار ماہ کے دوران امریکی افواج کی تعداد کم کر کے 8 ہزار 600 کی جائے گی اور اسی تناسب سے اتحادی افواج کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔
اسی عرصے میں امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں موجود پانچ فوجی اڈوں سے تمام افواج کو نکال لیں گے۔
اگر طالبان اس دوران معاہدے کی پاسداری کرتے رہے تو امریکہ اور اس کے اتحادی اگلے ساڑھے نو ماہ میں تمام افواج کو افغانستان سے نکال لیں گے اور افغانستان کے باقی تمام فوجی اڈوں کو بھی خالی کر دیں گے۔
معاہدے کے تحت امریکہ 10 مارچ تک اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت طالبان کے 5ہزار قیدی رہا کرے گا جبکہ دوسرا فریق بھی ایک ہزار قیدی 10 مارچ کو رہا کر دے گا اور اسی دن بین الافغان مذاکرات کا آغاز بھی ہو گا۔


دونوں فریقین اگلے تین ماہ میں تمام قیدیوں کو رہا کرنے کی کوشش کریں گے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ قیدیوں کو رہا کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے جبکہ طالبان اس عمل کو یقینی بنائیں گے کہ رہا کیے گئے قیدی امریکی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔
بین الافغان مذاکرات کے شروع ہوتے ہی امریکہ طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کا انتظامی جائزہ لے گا تاکہ 27 اگست 2020 تک یہ پابندیاں ختم کی جا سکیں۔
بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے بعد امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ممبران سے بات چیت شروع کرے گا تاکہ طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے 29 مئی 2020 تک نکالا جا سکے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں