جاپان کی معروف کمپنی سانتوری نے ایک نیا “فنکشنل واٹر” متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس پانی میں HMPA نامی ایک خاص مالیکیول شامل ہے جو چاول کے بھوسے کے تخمیر سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ پروڈکٹ جاپان کے صحت سے متعلق قوانین کے مطابق منظور شدہ ہے، یعنی اسے باضابطہ طور پر ایسے مشروب کے طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے جو جسم پر مثبت اثرات ڈال سکتا ہے۔
سانتوری کا کہنا ہے کہ یہ پانی خاص طور پر اُن افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے جو زیادہ تر وقت بیٹھ کر کام کرتے ہیں یا جن کا طرزِ زندگی کم متحرک ہے، اور جنہیں پیٹ کی چربی جمع ہونے کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پانی کچھ حد تک مددگار ہو سکتا ہے، مگر یہ کوئی جادوئی حل نہیں۔ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کے بغیر صرف اس پانی پر انحصار کر کے نمایاں نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔
ماہرین کے مطابق پیٹ کی چربی کم کرنے کے لیے سب سے مؤثر طریقہ روزانہ جسم کو حرکت میں رکھنا ہے۔ تیز چہل قدمی، جاگنگ یا سائیکل چلانا جسم کے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور چربی پگھلانے میں مدد دیتا ہے۔
اگر روزانہ کم از کم 30 سے 40 منٹ تک brisk walk کی جائے، تو چند ہفتوں میں نمایاں فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ساتھ ہی، پانی کا زیادہ استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ نیم گرم پانی پیٹ کے گرد چربی گھلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس ڈال کر پینا چربی کم کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
غذا میں تلی ہوئی چیزوں، کولڈ ڈرنکس اور میٹھی اشیاء سے پرہیز کیا جائے، جبکہ پھل، سبزیاں، دالیں اور ہلکی پروٹین والی غذائیں شامل کی جائیں۔
رات کا کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھانا چاہیے تاکہ جسم کو ہاضمے کے لیے وقت مل سکے۔
نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ بھی پیٹ کی چربی بڑھاتے ہیں، اس لیے روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند اور ذہنی سکون برقرار رکھنا نہایت اہم ہے۔
مختصراً، سانتوری کا یہ نیا “فنکشنل واٹر” ایک دلچسپ پیش رفت ضرور ہے، مگر پیٹ کم کرنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، مناسب خوراک، اور روزانہ کی جسمانی سرگرمی ہی اصل کلید ہیں۔























