بابائے سرائیکی میر حسان الحیدری کے ساتھ ایک شام

سرائیکی زبان کا شمار دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں ہوتا ہے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سرائیکی زبان کے ممتاز محقق، ادیب اور دانشور میر حسان الحیدری کے ساتھ کراچی پریس کلب میں ایک شام منائی گئی۔ تقریب کا اہتمام سرائیکی عوام سنگت اور سرائیکی عوامی تریمت تحریک نے کیا تھا۔ جس میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے میر حسان الحیدری کو ”بابائے سرائیکی“ قرار دیا اور کہا کہ سرائیکی کا نام میر حسان الحیدری نے دیا۔ سرائیکی نہ صرف پاکستان کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی زبان ہے بلکہ برصغیر کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ تقریب سے سرائیکی تریمت تحریک کی صدر کرن لاشاری، سینئر نائب صدر افصا ملک، نائب صدر رخسانہ حمید، جنرل سیکرٹری سعدیہ نورین ، نائب صدر نسرین گل، عابدہ بتول، ساجدہ بی بی ، شائستہ جتوئی، ممتاز ملک، نعیم فاطمہ جتوئی سرائیکی عوامی سنگت کے صدر مشتاق فریدی، سینئر صحافی نذیرلغاری، سعید خاور، شاہد جتوٙئی،خورشد انجم ، کامران لاشاری ،شہر بانو، خالد حسان چانڈیو، خورشید پہوڑ، ایاز سعید ملاح اور دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب کے شرکاء نے بابائے سرائیکی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ میر حسان الحیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ جن قوموں کی زبانیں عظیم ہوتی ہیں، وہ قومیں بھی عظیم ہوتی ہیں۔ سرائیکی ایک عظیم قوم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرائیکی برصغیر کی سب سے قدیم زبانوں میں سے ایک ہے اور اس کی شاعری کا عظیم خزانہ ہے۔ ہزاروں سال پہلے کے شعراء کا کلام سینہ بہ سینہ محفوظ رہا۔ اس عظیم خزانہ کو مزید تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہ میں اس عظیم زبان کا نام 1957 ء میں تجویز کیا تھا۔ 1962ء میں ملتان میں سرائیکی محقیقن اور دانشوروں کے ایک اجلاس میں اس نام پر اتفا ق کیا۔ انہوں نے اپنے تحقیقاتی کام سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور کہاکہ سرائیکی زبان و ادب پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دانشور نذیر لغاری نے اپنے خطاب میں کہاکہ میر حسان الحیدری نے سرائیکی زبان کے ادب اور تاریخ کی کھوج لگانے کے لیے طویل سفر کیا وہ پہلے محقق ہیں جنہوں نے ایک ہزار سال سے زائد سرائیکی شاعری کی تاریخ مرتب کی۔سرائیکی پورے پاکستان میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور رابطے کی زبان ہے۔ سرائیکی پاکستان کی سرحدوں سے پار بھارت، ایران اور افغانستان کے بہت سے علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔ سینئر صحافی سعید خاور نے کہاکہ میر حسان الحیدری کا سرائیکی قوم پر احسان ہے کہ انہوں نے ایس قوم کو اس کی تاریخی شناخت دی۔ سینئر صحافی شاہد جتوئی نے کہاکہ اس وقت دنیا کی تمام بڑی زبانوں کوبھی ہزاروں سالوں بعد موجودہ نام ملے۔ سرائیکی بھی دنیا کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔ میر حسان الحیدری نے نہ صرف اس زبان کو نام دیا بلکہ اس کی شاعری اور ادب کا عظیم خزانہ بھی تلاش کرکے دیا۔ اس طرح انہوں نے سرائیکی قوم کو شناخت کے ساتھ فحر کا بھی ساتھ دیا۔ سرائیکی تریمت تحریک کی صدر کرن لاشاری نے کہاکہ میر حسان الحیدری جیسی عظیم شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کی موجودہ تحریک ان کے تحقیقاتی کاموں کا نتیجہ ہے۔ مرکزی رہنماء سرائیکی تریمت تحریک عابدہ بتول نے کہاکہ میر حسان الحیدری کی زندگی اور ان کے تحقیقاتی کاموں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ان کی 70سال سے زائد محنت نے پاکستان کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سرائیکی عوامی سنگت پاکستان کے صدر مشتاق احمد فریدی نے کہاکہ میر حسان الحیدری جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سرائیکی قوم کا اثاثہ ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں