امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس کے صحرا سے انسانی باقیات ملی ہیں جو جلی ہوئی راکھ کے ڈھیر کی شکل میں ہیں۔
یہ حادثہ تھا یا جرم؟ امریکا میں انسانی راکھ کے سیکڑوں ڈھیر ملنے کے بعد لوگوں میں خو ف ہراس پھیل گیا، جبکہ یہ منظر دیکھ کر پولیس بھی ششدر رہ گئی۔
اس حوالے سے متعلقہ حکام نے صحرائی علاقے سے انسانوں کی راکھ کے 300 سے زائد ڈھیر برآمد ہونے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک شخص نے سرچ لائٹ نامی قصبے کے قریب ایک کچے راستے کے کنارے تقریباً 70 مشکوک ڈھیروں کی اطلاع پولیس کو دی۔
بعد ازاں تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ ڈھیر انسانی باقیات یعنی جلائے گئے انسانی جسموں کی راکھ پر مشتمل ہیں۔
تحقیقات کے دوران قریب ہی ایک دوسرا مقام بھی دریافت ہوا، جہاں سے مزید ڈھیر ملے اور یوں مجموعی تعداد 315 تک پہنچ گئی۔
ملنے والے ابتدائی شواہد سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ راکھ کے یہ ڈھیر کسی تدفین کے کاروبار یا مردہ خانہ کی جانب سے پھینکی گئے ہوسکتے ہیں۔
ریاستِ نیواڈا کے قوانین کے مطابق شہریوں کو عوامی مقامات پر راکھ بکھیرنے کی اجازت ہے، مگر کاروباری اداروں کے لیے ایسا کرنا وفاقی قانون کے تحت ممنوع ہے، خاص طور پر جب اگر زمین بیورو آف لینڈ منجمنٹ کے زیرِ انتظام ہو۔























