شاہ رخ خان — 60 برس کے ہو گئے، مگر جین زی آج بھی ان کے رومانس کی دیوانی

“محبت کے بادشاہ” شاہ رخ خان آج اپنی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ نئی نسل، خاص طور پر جین زی (Gen Z)، آج بھی ان کی پرانی رومانوی فلموں سے ویسے ہی متاثر ہے جیسے نائنٹیز کی دہائی میں لوگ ہوا کرتے تھے۔

جدید دور میں جہاں رشتوں کا مفہوم ڈیٹنگ ایپس، چیٹس اور شارٹ ویڈیوز تک محدود ہو چکا ہے، وہاں نوجوانوں کو پرانے زمانے کے سچے اور جذباتی رومانس میں ایک نئی کشش محسوس ہو رہی ہے — اور اس احساس کے مرکز میں اب بھی شاہ رخ خان ہی ہیں۔

فلمیں جیسے ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘، ’ویر زارا‘ اور ’محبتیں‘ آج بھی نوجوانوں کے دلوں کو چھو رہی ہیں۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور تھیٹر ری ریلیز کے ذریعے یہ فلمیں پھر سے دیکھی جا رہی ہیں، اور جین زی ناظرین شاہ رخ خان کے سادہ مگر پُراثر رومانس کو نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔

فلم ٹریڈ تجزیہ کار گِرش وانکھیڑے کے مطابق، شاہ رخ خان کی جین زی میں مقبولیت محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ ان کی خود کو بدلنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
ان کے بقول، “شاہ رخ خان ہمیشہ سے ایک وژن رکھنے والے فنکار ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ خود کو میڈیا، ٹیکنالوجی اور او ٹی ٹی کے مطابق ڈھالتے رہے ہیں — یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔”

فلمی ماہر گِرش جوہر کے مطابق، یہ نیا جنون کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں، “شاہ رخ خان ایک عالمی اسٹار ہیں، ان کے رومانس میں وہ جذبہ ہے جو ہر عمر کے لوگوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے۔ ‘دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ آج بھی دیکھو تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے — یہی ان کی فلموں کی اصل طاقت ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ رخ خان کی پرانی فلموں کے مشہور مناظر اور مکالمے آج بھی انسٹاگرام ریلز اور ٹک ٹاک پر وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ نوجوان انہیں نئے رنگ اور جدید انداز میں پیش کرتے ہیں، مگر محبت کا جذبہ وہی پرانا رہتا ہے۔

یش راج فلمز اور دیگر پروڈکشن ہاؤسز ان کلاسک فلموں کو اب خاص مواقع پر محدود ریلیز کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ نئی نسل انہیں بڑی اسکرین پر دیکھنے کا لطف اٹھا سکے۔

ڈی لائٹ سینماز کے جنرل منیجر راج کمار ملہوترا کے مطابق، “یہ ری ریلیز منافع کے لیے نہیں بلکہ ناظرین کے جذبات کے لیے کی جاتی ہیں۔ لوگ ان فلموں کے گانوں، مکالموں اور کرداروں سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے وہ دوبارہ وہی احساس جینا چاہتے ہیں۔”

اگرچہ ان ری ریلیزز سے بڑا بزنس نہیں ہوتا، مگر ان کی ثقافتی اہمیت بے مثال ہے۔ نوجوان شائقین 90 کی دہائی کے فیشن میں آتے ہیں، گانوں پر جھومتے ہیں، اور فلم کے مشہور مناظر پر تالیاں بجاتے ہیں — ہر شو ایک جشن کا روپ دھار لیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، شاہ رخ خان کی مقبولیت کا راز صرف ماضی کی یادیں نہیں بلکہ ان کی مسلسل تبدیلی ہے۔ ان کی حالیہ کامیاب فلمیں ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اب صرف رومانس کے بادشاہ نہیں بلکہ ایکشن کے شہنشاہ بھی بن چکے ہیں۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ جین زی کے لیے شاہ رخ خان صرف ایک اداکار نہیں بلکہ محبت کی علامت ہیں۔
ڈیجیٹل دور کی بے حسی میں ان کی فلمیں یاد دلاتی ہیں کہ عشق اب بھی خالص، جذباتی اور انسانی ہو سکتا ہے۔
اور شاید اسی لیے — جب تک کوئی راج اپنی سمرن کا انتظار کرتا رہے گا، شاہ رخ خان ہمیشہ محبت کے بادشاہ رہیں گے۔