گلیڈی ایٹرز میچ سے 3 گھنٹے قبل سی 130 سے ملتان پہنچے

اسلام آباد سے ملتان روٹ پر ہفتے کے روز فلائٹ کی عدم دستیابی کے باعث پاک فضائیہ کے خصوصی فلائٹ آپریشن کی وجہ سے کوئٹہ کی ٹیم ملتان کے میچ سے ساڑھے 3 گھنٹے پہلے ملتان پہنچی اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فائیو کے بارہویں میچ کا انعقاد ممکن ہوسکا۔

ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ پی ایس ایل کو کامیاب بنانے میں ایئر فورس نے ہماری درخواست قبول کی اور صبح 9 بجے سی ون تھرٹی کے ذریعے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم ملتان پہنچی۔

ذرائع کے مطابق اسی فلائٹ سے کراچی کنگز کو ملتان سے اسلام آباد لایا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پی سی بی پاک فضائیہ کا شکر گزار ہے جس نے قومی فریضے میں پی سی بی کی درخواست پر ہمیں سی ون تھرٹی فراہم کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے تعاون کے بغیر میچ کا انعقاد خطرے میں تھا، کیونکہ جمعے کی شب خراب موسم کی وجہ سے قومی ایئر لائن کی چارٹرڈ فلائٹ ملتان کے لیے منسوخ ہوگئی تھی۔

اس موقع پر کوئٹہ کی ٹیم کو کئی گھنٹے اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر انتظار کرنے کے بعد واپس ہوٹل آنا پڑا تھا، ہفتے کو فلائٹ کے ٹیک آف کرنے کے بعد اسلام آباد میں ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

جمعے کی شام کوئٹہ کی ٹیم کی فلائٹ اڑ نہ سکی اور کھلاڑی اسلام آباد میں فلائٹ کے منتظر رہے، ملتان میں ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا میچ ہفتے کو دوپہر 2 بجے شیڈول تھا۔

پی ایس ایل کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب اسلام آباد اور ملتان کے خراب موسم کی وجہ سے اے ٹی آر کی چارٹرڈ فلائٹ ملتان نہ جا سکی اور کھلاڑی مایوس کن انداز میں دوبارہ ہوٹل آگئے تھے۔

آج صبح کوئٹہ کی ٹیم ملتان ہوٹل میں چیک ان ہونے کے فوراً بعد ملتان اسٹیڈیم روانہ ہوگئی، کھلاڑیوں نے جمعرات کی شب میچ کھیلا تھا جبکہ جمعے کو دن بھرسفر کے انتظار میں رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز چارٹرڈ فلائٹ نے شام 7 بجے روانہ ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے فلائٹ اسلام آباد ایئرپورٹ سے نہ اڑ سکی کھلاڑی 3 گھنٹے سے زائد وقت ایئرپورٹ پر انتظار کرنے کے بعد دوبارہ اسلام آباد کے ہوٹل منتقل ہوگئے تھے۔

پی سی بی انتظامیہ نے کوئٹہ کو اوپر تلے میچ مختلف سینٹرز میں کھلانے کی پالیسی اپنائی، لیکن موسم کو مدِنظر نہیں رکھا گیا، جمعے کو کھلاڑی دن بھر ہوٹل میں ملتان جانے کا انتظار کرتے رہے حالانکہ سڑک کے راستے سفر کیا جا سکتا تھا۔

دوسری جانب کوئٹہ کے مالک ندیم عمر ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے شیڈولنگ پر اعتراض کرچکے ہیں، انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ ہفتے کی دوپہر 2 بجے کوئٹہ اور ملتان کا میچ ہونا ہے لیکن منتظمین نے کھلاڑیوں کے آرام کو بھی مدنظر نہیں رکھا ہے۔

ندیم عمر کہہ چکے ہیں کہ ان کی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں زیادہ تر جہازوں میں رکھا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں