کراچی کا خاموش خادم

اس ملک کا خاموش خادم خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حکومت وقت کو یہ احساس تک نہ ہوا کہ اس کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ الوداع کیا جائے۔ حالانکہ وہ ذاتی طور پر پروٹوکولز اور سرکاری سج دھج کے مخالف تھے۔ مگر جب سرکاری اعزازات کسی اچھے انسان کو دیا جاتا ہے تو اس سے اس انسان کی نہیں بلکہ سرکاری اعزاز کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب عبدالستار ایدھی اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے تب اس کو ملک کی طرف سے الوداعی پروٹوکول دیا گیا تھا۔ وہ ایک اچھی بات تھی۔ اس قسم کی اقدار سے نئی اور بہتر روایات کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبد الستار ایدھی کی سماجی خدمات کو دنیا کا کوئی شخص فراموش نہیں کرسکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے وہ اس ملک کے اکیلے انسان نہیں تھے۔ عبدالستار ایدھی سماجی خدمات کے سلسلے میں بہت مشہور ہوئے اور یہ نیک نامی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ اس ملک کی بھی تھی مگر پاکستان کے قابل فخر فرزند عبدالستار ایدھی ہی نہیں بلکہ نعمت اللہ خان بھی تھے۔ یہ بات مجھے اس وقت شدت کے ساتھ محسوس ہوئی جس وقت میں نے نعمت اللہ خان کے انتقال کی خبر سنی۔ مجھے اس بات پر افسوس ہوا کہ ان کا تعارف محض کراچی کے سابق میئر کے طور پر کروایا گیا۔ حالانکہ وہ میئر کے عہدے سے بہت بڑے شخص تھے۔ میئر کراچی کی کرسی پر تو ایسے ایسے لوگ بیٹھ چکے ہیں اور بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اس کالم میں نام لکھنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ کیوں کہ یہ کالم اس نعمت اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش ہے جو نعمت اللہ خان اکثر طور پر سفید لباس پہنتے تھے مگر ان کا کردار ان کے لباس سے زیادہ صاف شفاف تھا۔ اس لیے ملک کی بہت بڑی عوامی خدمت کرنے والی تنظیم جو جماعت اسلامی کے تعاون سے سرگرم عمل ہے؛ اس الخدمت تنظیم کے سربراہ نعمت اللہ خان رہے۔ انہوں نے وسیع نیٹ ورک رکھنے والی اس تنظیم کے معرفت کتنے نادار اور غریب لوگوں کی مدد کی، اس کا اصل ریکارڈ تو الخدمت کے دفتر میں ہوگا مگر نعمت اللہ خان کی سربراہی میں اس تنظیم پر کرپشن تو کیا کبھی اقراپروری کا الزام تک نہیں لگا۔ نعمت اللہ خان صاحب نے خدمت کے کام کو عبادت سمجھ کر کیا۔ انہوں نے کبھی کسی سے نہ رعایت کی اور نہ کسی کی حیثیت کو خاطر میں لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھا۔ ان کا دنیا سے چلے جانا نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ اس ملک کا بھی بہت بڑا نقصان ہے۔ مگر اس ملک کے مقدر میں ایسی حکومتیں آتیں رہی ہیں جنہوں نے اچھے لوگوں کو مواقع نہیں دیے۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار پر جتنی بھی تنقید کی جائے وہ کم ہے مگر بہت سارے غلط اور برے کاموں میں اگر ایک آدھ بہتر کام ہوا تو وہ کام نعمت اللہ خان کو کراچی کا میئر بنانا تھا۔ نعمت اللہ خان نے جب کراچی کے میئر کا حلف اٹھایا تو ان کے بارے میں مخالفین نے کہا کہ وہ بزرگ اپنا خیال رکھیں گے یا اس شہر کا؟ پھر نعمت اللہ خان کے مخالفین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا نے دیکھاوہ کراچی کے مثالی میئر بنے۔ جمشید نسروانجی کا نام بہت کم لوگوں نے سنا ہوگا۔ مگر اس ملک کے اہل علم اور اہل ادب افراد جانتے ہیں کہ پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والا یہ شخص کراچی کا پہلا میئر تھا؛ یہ وہ شخص تھا جس نے ماڈرن کراچی کی بنیاد رکھی۔ جنہوں نے کراچی کو ایک صاف ستھرا اور منظم شہر بنانے کے لیے بڑی محنت کی۔ جو لوگ سیکیولر سوچ والے ہیں اور جو لوگ لبرل خیالات کے مالک ہیں ان کے لیے جمشید نسروانجی بہت بڑا نام ہے مگر نعمت اللہ خان کی وفات پر سوشل میڈیا پر ان لوگوں نے بھی یہ اعتراف کیا کہ کراچی کی خدمت کرنے کے سلسلے میں جمشید نسروانجی اکیلے نہیں ہیں۔ نعمت اللہ خان نے بھی کراچی کو ایک بہتر شہر بنانے کے لیے ایمانداری کے ساتھ بڑی کوشش کی۔ حالانکہ نعمت اللہ خان اور جمشید نسروانجی کا تقابلی جائزہ لینا درست نہیں ہے۔ کیوں کہ جس وقت جمشید نسروانجی کراچی کے پہلے میئر بنے تھے اس وقت کراچی ایک مختصر اور منظم شہر تھا۔ کراچی2001 ء کے دوران کراچی کے حالات کیا تھے؟ اب تو لوگ اس دور کو یاد کرنے سے بھی ڈرتے ہیں جب یہ شہر کرفیو کی میں قید ہوجاتا تھا۔ جب اس شہر میں بوری بند لاشوں کا ملنا معمول تھا۔ اس شہر میں سیاست اور جرم نے مل کر ایسا ماحول بنادیا تھا کہ آپریشن کلین اپ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ ایک مخصوص لسانی تنظیم نے کراچی کا وہ حشر کردیا کہ کراچی کا شمار دنیا کے انتہائی غیرمحفوظ شہروں میں ہونے لگا۔جس وقت نعمت اللہ خان کراچی کے میئر بنے اس وقت مذکورہ لسانی جماعت ایک بار پھر سانس لیکر اٹھ رہی تھی اور اس نے ہر ممکن کوشش کی وہ نعمت اللہ خان کو ناکام بنائیں مگر ایسی کشمکش میں بھی نعمت اللہ خان کراچی کے کامیاب ترین میئر ثابت ہوئے ۔ ان کا نام دنیا کے 20 کامیاب اور مقبول میئرز کی لسٹ میں شامل ہوا۔ پاکستان کے لیے یہ فخر کی بات تھی اور تاریخ میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی نعمت اللہ خان نے اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کے باوجود 18 فلائی اوور 6 انڈر پاسز کے علاوہ 2سگنل فری روڈ تعمیر کیے۔ان کے دور میں گرین لائن بس پراجیکٹ شروع ہوا اور وہ بسیں سویڈن سے درآمد کی گئیں۔ انہوں نے کراچی کے ساحل سمندر کو صاف اور محفوظ رکھنے کے لیے جو محنت کی وہ ناقابل فراموش ہے۔ نعمت اللہ خان صرف جماعت اسلامی کے نہیں صرف کراچی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے ہیرو ہیں۔ انہیں ہیروز کی طرح الوداع کیا جانا چاہئیے تھا۔ مگر افسوس ہمارے اس حکومتی کلچر پر جس میں کانچ کے ٹکڑوں کو تو سینوں پر سجایا جاتا ہے مگر اصل ہیروں وہ حیثیت نہیں دی جاتی جو ان کا حق ہے۔umer-kazi-daily92

اپنا تبصرہ بھیجیں