
تحریر: سہیل دانش (سینئر جرنلسٹ )
تو یوں قومی اخبار کا 37 سالہ سفر مکمل ہوا۔ لیکن سچ پوچھیے تو ہمارے باکمال دوست الیاس شاکر آج اگر بقیدِ حیات ہوتے تو وہ اپنے صحافتی سفر کی 50 سالگرہ منارہے ہوتے۔ یہ وہی دور تھا جب ہم سب حیدرآباد میں رہتے تھے۔ محسن اور شعور باشنے والا شہر، شام کو اپنی جھلملاتی روشنیوں اور گنگناتی ہواو¿ں سے لوگوں کو سکون اور راحت بخش دینے والا، اس شہر کی نہ جانے کتنی خوشگوار اور دلکش یادیں آج بھی ہمارے وجود میں زندہ ہیں۔
سچ پوچھیں تو جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں کہ کیسے کیسے لوگ ایسے ویسے ہوگئے اور ایسے ایسے لوگ کیسے کیسے بن گئے۔ ان پچاس برسوں کی ہزاروں داستانیں اور مناظر ذہن میں گردش کرتے ہیں۔ 50 برس پہلے جب ہم کالج میں پڑھا کرتے تھے، دنیا آج کہاں سے کہاں آگئی، مگر حیدرآباد کو یاد کرکے ایسا لگتا ہے جیسے بات کل کی نہیں آج کی ہے۔
اس وقت دوستی کے جو ساز ہم نے اس شہر سے جوڑے تھے وہ آج بھی گنگنا رہے ہیں۔ صحافتی کیرئیر میں تاریخ کے حوالے سے 35 ملکوں کی سیر کی۔ جگمگاتے شہر دیکھے، میدانوں میں کھلاڑیوں کے ناقابلِ یقین کرتب اور مہارت دیکھنے کا موقع ملا، لیکن حیدرآباد کی یاد کبھی دل و دماغ سے محو نہ ہوئی۔

برادرم الیاس شاکر سے تعلق کی ڈور اس شہر میں اس طرح بندھی جو ا±ن کی آخری سانس تک محبت اور تعلق قائم رہا۔
37 سال قبل درحقیقت قومی اخبار کا اجراءایک چیلنج تھا۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار قیوم نے صدر ضیاء الحق سے خصوصی تعلق کے حوالے سے قومی اخبار کے ڈیکلریشن کی خصوصی اجازت لی تھی۔ میرے لیے یہ بڑی حیرانگی کی بات تھی کہ ڈیکلریشن کی دستاویز موصول ہوتے ہی شاکر صاحب نے بلا جھجک فوراً اپنا استعفیٰ تھمایا اور ادارہ نوائے وقت کو خیر باد کہہ دیا۔
شاکر صاحب سے محبت و پیار کا رشتہ تھا، اس لیے ہم دوست فکر مند تھے کہ اگلے مرحلے میں وہ اتنا بڑا ٹاسک کس طرح نبھاتے ہیں۔ قومی اخبار کا دفتر ایک کمرے سے شروع ہوا، جس کی چابی کرائے پر محترم حاجی حنیف طیب نے عنایت کی تھی۔
پھر روزنامہ جنگ میں قومی اخبار کے اجراءکے حوالے سے اشتہار دینے کا مرحلہ آیا، لیکن میر صاحب کی زبانی یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ کسی بھی روزنامے کے حوالے سے اشتہار چھاپنا جنگ اخبار کی پالیسی نہیں۔
پھر نائین زیرو کا رخ کیا۔اور ان لمحات الطاف حسین بھائی کی سفارش کام آئی۔
یہاں سے یہ سفر شروع ہوا۔ پھر قومی اخبار کی بلند پرواز شروع ہوئی۔ مقبولیت اور قبولیت کے لیے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ان 37 سالوں کی کہانی بہت طویل اور دلچسپ ہے۔ اس میں محنت، لگن اور شب و روز نت نئے آئیڈیاز کی فراوانی رہی۔
قومی اخبار نوجوان صحافیوں کے لیے ایک نرسری کا درجہ رکھتا تھا، جس میں نہ جانے کتنے ایسے پھول کھلے جن سے صحافت کا چمن مہکا۔ برادرم مختار عاقل اس پورے سفر میں شاکر صاحب کے ہمرکاب رہے۔ ابتدائی 10 سال تو ا±ن کا اوڑھنا بچھونا بس قومی اخبار کو سجانا اور سنوارنا رہا۔
شاکر صاحب کی یہ خوش قسمتی رہی کہ انہیں ایسے بہت سے باصلاحیت اور تجربہ کار ساتھیوں کا ساتھ ملا جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے اسے چار چاند لگانے میں اپنا حصہ ڈالا۔
شاکر صاحب کی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ شخصیات سے میل ملاپ رکھتے، ہمیشہ چاق و چوبند و مستعد انداز میں شہر کی زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتے۔ وہ خبر حاصل کرنے کے لیے اپنا مشاہدہ، تجربہ اور ریڈار جیسی صلاحیت استعمال کرتے اور تحقیق سے چونکا دینے والی خبریں ڈھونڈ لاتے۔ ا±ن کی اس خوبی نے انہیں انتہائی سخت مقابلے کے دور میں بھی ہمیشہ صفِ اوّل میں رکھا۔
یہ عجیب اتفاق تھا کہ اپنے آخری دنوں میں ناسازیِ طبع کے سبب جہاں وہ پوری توانائی کے ساتھ سرگرم نہ رہے، وہیں یہ وہ دور تھا جب الیکٹرانک، سوشل اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کی آمد نے پرنٹ میڈیا کی چمک دمک اور مقبولیت کو دھندلا دیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر زندگی شاکر صاحب کو مہلت دیتی تو وہ آج کے دور میں پرنٹ میڈیا کو اپنی جادوگری سے زندہ رکھنے کا کوئی نہ کوئی فارمولا ضرور ایجاد کر لیتے، کیونکہ ا±ن کے پاس وسائل بھی تھے، فہم اور دماغ بھی۔ ا±نہیں معلوم تھا کہ نئے دور کا قاری مختلف ہوتا ہے، ا±سے دیکھنے اور سننے کے ساتھ پڑھنے کی طرف کیسے مائل کیا جا سکتا ہے۔
اللہ پاک شاکر صاحب کی مغفرت فرمائے اور قومی اخبار کو ماضی کی طرح چمک دمک عطا کرے۔ آمین۔























