مودی سرکار اپنے توسیع پسندآنہ عزائم میں پورے ہندوستان کو دلدل میں دکھیل رہا ہے

جدہ  (امیر محمد خان  سے ) سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے کہا ہے  کہ مودی سرکار   اپنے توسیع پسندآنہ  عزائم میں  پورے ہندوستان کو  دلدل میں  دکھیل رہا ہے، انہو ں نے کہا  پاکستان کیلئے کشمیر ا ور پاکستان کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت بہت حوصلہ افزاء تھا  جہاں ٹرمپ کا یہ کہنا کہ  وہ  کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے تیار ہیں  کا مطلب ہے کہ  بھارت جو  کشمیر کو اپنا حصہ کہتا ہے  اس سرزمین میں  بھارتی وزیر  اعظم کے سامنے صدر ٹرمپ نے  ثالثی کا ذکر  کرتے ہوئے بھارت  کے منہ پر تماچہ دیا  کہ  کشمیر  بھارت کا  حصہ نہیں بلکہ  متنازعہ علاقہ ہے  جس پر بات چیت ضروری ہے۔ سفیر پاکستان جدہ  کے مرحباء ریسٹورانٹ میں پاکستان جرنلسٹس فورم  کے ظہرانے میں  پی جے ایف کے  ممبران سے بات کررہے تھے۔ سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے کہا کہ  کشمیر پر  پاکستان کی پالیسی  صرف اور صرف  اقوام متحدہ کی قراردوں کیمطابق ہے جس میں کشمیریوں کے حق رائے دہی کا مطالبہ ہے  انہیں  حق دیا جائے  کہ وہ اپنی  قسمت کا فیصلہ کریں جبکہ بھارت اپنی روائیتی  ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے، کشمیریوں کی قربانی  اور پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آج یہ مسئلہ  عالمی اداروں کیلئے  اولین حیثیت  اختیار کرگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحادتنظیم  کشمیر پر پاکستان کے موقف کے مطابق  پالیسی رکھتی ہے۔ ہم جنگ جو نہیں  بلکہ  امن پسند لوگ ہیں  اور بھارت کو  مذاکرات کی میز پر لانے کی بات کرتے ہیں جبکہ بھارت  سرحدوں پر  تشویشنات حرکات کا  مرتکب ہے۔وہاں بھی  پاکستانی افواج کے سامنے اسے  شرمندگی  کا سامنا کرنا پڑا۔ سفیر راجہ علی اعجاز نے کہا کہ  میڈیا  آج کی دنیا میں  نہائت اہم رول رکھتا ہے  پاکستان جرنلسٹس فورم کے اراکین یہاں نہائت  محنت سے کام کررہے  اور سفارت خانہ ، قونصلیٹ اور  کمیونٹی کے درمیان ایک پل کا کام کررہے ہیں۔انہوں نے پی جے ایف کا شکریہ ادا کیا کہ  انہوں نے بات چیت کیلئے انہیں دعوت دی۔  پاکستانی اسکولوں کے حوالے سے  انہوں نے بتایا کہ سعودی قوانین کے مطابق  سفیر  پاکستان یہاں موجود تمام پاکستانی اسکولوں کے انتظامی سربراہ ہوتا ہے تیس لاکھ پاکستانی کمیونٹی ہے  سب خوش تو نہیں رہ سکتے  میری کوشش ہوتی ہے  جو معاملات مجھ تک پہنچے انہیں خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔ سفیر پاکستان نے کہاکہ ہماری ہمیشہ  اپنی کمیونٹی کو  یہ ہی  ہدائت  و مشورہ ہوتا ہے کہ  میزبان ملک کے قوانین کا بھرپور احترام کریں، سفیر پاکستان نے کہا کہ  ایک بڑی کمیونٹی کیلئے  ویلفیئر افسران کی تعداد زیادہ ہونا چاہے جسکی ہم کوشش کررہے ہیں  موجودہ افسران  نہائت ذمہ داری اور محنت  سے اپنا کام کررہے ہیں  کہ کمیونٹی کو کوئی شکائت نہ ہو۔ سفیر پاکستان نے سعودی عرب سے تجارت کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان اور سعودی  عرب کے مابین جو  تجارتی حجم ہونا چاہئے وہ فی الحال نہیں ہے۔  کمرشیل  سیکشن  اور پاکستان میں تجار کے حوالے سے اس پر کام ہورہا ہے۔ سعودی عر ب کی پاکستان میں سرمایہ کاری پر  سفیر پاکستان نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی بھی بھر پور کوشش ہے کہ  پاکستان میں زیادہ سے زیادہ  سرمایہ کاری آئے ، اس سلسلے میں  آئیندہ ماہ سعودی عرب کے اعلی حیثیتی وفد پاکستان جا رہا ہے  یہ دورہ  اس سلسلے کی کڑی ہے  جب ولی عہد  محمد بن سلمان عبدالعیزیز  نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی بات چیت کی گئی تھی۔ سفیر پاکستان نے کہا سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات  بہت مضبوط ہیں  جس پر پاکستان کو فخر ہے،  کورینا  وائرس کے متعلق بھی ظہرانے میں بات ہوئی  جسپر سفیر پاکستان نے کہا کہ سعودی  وزارت صحت  اس پر  بھر پور کام کررہی ہے حال میں  بیرون ملک سے آنے والے پر وقتی پابندی اسی وجہ سے ہے کہ  یہ موذی مرض آگے نہ پھیلے۔ پاکستان جرنلسٹس فورم کے عہدیداروں نے  سفیر پاکستان کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔  ظہرانے میں سینئر  صحافی  شاہد نعیم،  مسرت خلیل،  خالد خورشید ،  امانت اللہ،  جمیل راٹھور، خالد چیمہ، معروف حسین، انجم واڑائچ، محمد عدیل، کے علاوہ  قونصل پریس  ارشد منیر،  اور  قونصل ویزہ سیکشن  خالد عظیم نے خصوصی شرکت کی۔ 
   



اپنا تبصرہ بھیجیں