سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے پیر سے کھل جائیں گے،

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے پیر سے کھل جائیں گے،  دو روز کی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی وجہ ان اسکولز میں احتیاطی تدابیرکو مکمل کرنے اور ساتھ ہی ساتھ کراچی ایران سے آنے والوں اور ان سے ملنے والوں کی اسکرینگ کے عمل کو مکمل کرنا ہے۔ کراچی میں 600  جبکہ سندھ بھر میں 2000افراد ایران سے ان دنوں میں آئے ہیں ان کا مکمل ڈیٹا مرتب کرکے ان کی اسکرینگ کا کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ یحیٰ نامی جس طالبعلم میں اس کے مثبت اثرات پائے گئے ہیں ان کے اہلخانہ اور 14 دوستوں کے ٹیسٹ بھی مکمل کرلئے گئے ہیں۔ سندھ بھر کی اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے ساتھ ساتھ تمام صنعتی زونز، فیکٹریوں، کارخانوں اور ان مقامات پر جہاں مزدور طبقہ کام کرتا ہے وہاں ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کرونہ وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کے بینر اور پینافلیکس فوری طور پر آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کی شب سندھ سیکرٹریٹ میں صوبے بھر کے محکمہ تعلیم اور محنت کے اعلیٰ افسران کا اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکریٹری یونیورسٹریز محمد ریاض الدین، سیکرٹری کالجز محمد رفیق، سیکرٹری اسکولز سید خالد حیدر شاہ،، سیکرٹری محنت رشید سولنگی، ڈی جی پرائیویٹ اسکولز منصوب صدیقی، ایڈیشنل سیکرٹریز، تمام اضلاع کے محکمہ تعلیم کیڈائریکٹرز، ڈپٹی و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، کراچی کے تمام ٹی ای اوز، محکمہ محنت میں سیسی، ورکر ویلفئیر بورڈ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں کرونہ وائرس کے حوالے سے جو خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے خدانخواستہ پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں تمام احتیاطی تدابیر کو مکمل کرلیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس بھی قائم کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت سندھ نے صوبے کے تمام اضلاع میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی فوری اسکرنگ کے لئے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں اور تمام اسپتالوں میں بشمول محکمہ محنت کے اسپتالوں میں بھی آئیشولیشن وارڈز قائر کردئیے گئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ آج کے اس ہنگامی اور رات گئے اجلاس بلانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے تمام تعلیمی اداروں میں اس وائرس سے بچاؤ کے لئے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان سے آگاہی حاصل کریں اور ہم پیر سے جب تمام صوبے کے تعلیمی ادارے کھلیں تو ان احتیاطی تدابیر کے بینر  اور پینا فلیکس وہاں آویزاں کئے جاچکیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ رات گئے دو روز اسکولز بند رکھنے کا فیصلہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل مشاورت کے بعد کیا کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح کے کسی اقدام سے لوگوں اور طلبہ اور ان کے والدین میں کسی قسم کا کوئی خوف و ہراس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم اور صحت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ 10 لاکھ سے زائد بچے، مزدور اور دیگر وابستہ ہیں، اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ ہم ان تمام تک احتیاطی تدابیر کی آگاہی فراہم کرسکیں۔ سعید غنی نے کہا کہ تمام پرنسپلز اسکول کے بچوں کو ہاتھ دھونے اور صاف صفائی سے متعلق آگاہی کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں اور خصوصاً صبح اسکول کی اسمبلی میں اس کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہیڈ ماسٹرز، پرنسپل مکمل طور پرضلعی ہیلتھ افسران سے رابطے میں رہیں گے، اور اگر خدانخواستہ کسی بھی طالب علم کو نزلہ، زکام یا کھانسی کی14 روز سے شکایات ہوں تو فوری طور پر قریبی ضلعی ہیلتھ انتظامیہ کو آگاہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسکول یا کالج میں اگرکسی بھی طالب علم کو نزلہ، زکام کی شکایت ہونے پر اسے رخصت دے کر اس کا علاج کرایا جائے اور اسکول، کالجز میں صبح اسمبلی کے اوقات میں کورونا وائرس سے بچاؤ اور روک تھام کیلئے احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ صحت ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے جو رپورٹ دی گئی ہے اس کے مطابق کراچی میں ایران سے آنے والے افراد کی تعداد 600 جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع میں 1400 ہے اور تمام کا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ جبکہ جس طالبعلم میں کرونہ وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان کے اہلخانہ اور 14 دوستوں کے بھی ٹیسٹ کروالئے گئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور کسی قسم کی منفی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلے ایسی خبروں اور پوسٹ سے دور رہنا چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ میں عوام سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ سوشل میڈیا پر کرونہ وائرس کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو بلا تصدیق آگے نہ پھیلائیں، بلکہ اس کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے زیادہ فوکس کریں۔سعید غنی نے کہا کہ تمام اساتذہ اپنے اسکولز، کالجز اور جامعات میں طلبہ کو بھی اس حوالے سے آگاہی دیں کہ سوشل میڈیا پر اس وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہیں اور یہ کوئی ایسی وبا نہیں کہ اس کے لگتے ہی لوگ مرجاتے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طالبعلم میں کرونہ وائرس مثبت آیا ہے اس کا تعلق جامعہ کراچی سے ہے لیکن گذشتہ رات کے تعطیل کے اعلان کے باوجود بھی صبح جامعہ کراچی کو بند نہ کیا گیا، جس میں سیکرٹری جامعہ کراچی کو میں نے ہدایات دی کہ فوری جامعہ کو بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نجی اسکولز بھی شاید رات دیر سے اعلان کے باعث کھلے تھے تاہم ڈی جی پرائیویٹ اسکولز نے انہیں فوری بند کروایا اور یہ تمام اقدامات طلبہ کے تحفظ کی غرض سے لئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی سوشل میڈیا میں تعلیمی اداروں کو لے کر غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں لیکن میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے بشمول جامعات پیر سے کھل جائیں گی اور انشاء اللہ ہمارے اساتذہ، ہمارے افسران، طلبہ و طالبات کے والدین اور ہم سب مل کر نہ صرف اس وائرس سے آگاہی کی مہم میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ عوام میں خوف و ہراس کی بجائے انہیں روزمرہ زندگی میں احتیاط سے آگاہ کریں گے۔  جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ، وزیرتعلیم و محنت سندھ سعید غنی، فون 03333788079 وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم اور محنت کے اعلیٰ افسران کا اجلاس، اجلاس میں کرونہ وائرس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر پر غور و خوض کیا گیا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں