عہد حاضر میں مارکسزم کی معنویت (حصہ دوئم )

مارکسزم کے بارے میں طے شدہ مائنڈ سیٹ سے نکلنے کے لیے بھی مکالمے کی ضرورت ہے اور گزرے سو سال کی جدوجہد سے سیکھنے کے لیے بھی مکالمہ ہی ایک مناسب راستہ ہے

ڈاکٹر توصیف احمد خان
============

اسی طرح محض سوویت یونین کے آخری صدرگوربا چوف پر تنقید کرنے کے بجائے اس وقت کی سوویت ریاست میں پیدا ہونے والے تضادات کی طرف توجہ دینی چاہیے، یوں درست حقائق کے قریب جایا جاسکتا ہے۔

مصنف نے اس باب میں ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ’’ ہم مکالمے سے خوفزدہ کیوں ہیں؟‘‘ یہ تو حقیقت ہے کہ فری مارکیٹ نے دیگر جماعتوں کے ساتھ ٹریڈ یونین کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ سوویت یونین کے انہدام سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی۔ اس صورتحال میں مکالمہ ہوگا تو مڈل کلاس کے مفادات کی بات ہوگی۔ مارکسزم کے بارے میں طے شدہ مائنڈ سیٹ سے نکلنے کے لیے بھی مکالمے کی ضرورت ہے اور گزرے سو سال کی جدوجہد سے سیکھنے کے لیے بھی مکالمہ ہی ایک مناسب راستہ ہے۔ اس کتاب کا ایک اور عنوان ’’ انقلاب کا راستہ ہی اہم‘‘ میں مصنف کا کہنا ہے کہ سوویت یونین کے بعد باقی ممالک میں انقلاب قائم ہے جیسے چین، ویتنام اور کیوبا وغیرہ۔ تاریخ شاہد ہے کہ کیوبا کے علاوہ ویتنام اور چین کی معیشت بنیادی طورپر مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے۔

ان ممالک میں کمیونسٹ پارٹی کی آمریت موجود ہے مگر چین کا ایک ایسا ماڈل ہے، جس میں فری مارکیٹ کے باوجود غربت ختم ہوچکی ہے۔ آبادی کا بیشتر حصہ خوشحال ہوچکا ہے۔ یہی صورتحال ویتنام کی ہے۔ ان ممالک کے ماڈلز پر بہت تحقیق کی ضرورت ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکی ممالک اور نیپال وغیرہ میں انتخابات کے ذریعے تبدیلی پائیدار ثابت نہیں ہوئی۔

نیپال میں سوشلسٹ حکمرانوں کے خلاف نوجوانوں کی حالیہ بغاوت اس سال کا ہی واقعہ ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران اور چلی وغیرہ میں انتخابات کے ذریعے ہونے والی تبدیلی کو امریکی سامراج نے کچل دیا۔ پھرکچھ ممالک میں انتخابات کے ذریعے برسر اقتدار آنے والی جماعتوں کو عالمی اور مقامی اسٹیبشلمنٹ سے سمجھوتہ کرنا پڑا، مگر مصنف نے بھی اس سوال کو کھلا چھوڑ دیا کہ بلوچستان میں ایک مسلح جدوجہد کے ذریعے تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے مگر تبدیلی کا حقیقی راستہ کیا ہے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔

کتاب کا ایک باب الٹرا رائٹ پاپولر ازم کی ابھرتی ہوئی لہر کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ مصنف کا استدلال ہے کہ سوویت یونین کے انقلاب کے بعد امریکا اور برطانیہ میں ایک اسٹرٹیجک اتحاد بھی بننے لگا تھا۔ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک باٹم لائن بنائی تھی۔ اخبار فنانشل ٹائمز نے 7 ستمبر 2024 کو خبر شایع کی تھی۔

اس خبر میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور برطانیہ کی خفیہ سروس کے سربراہ کی ملاقات کا ذکر تھا۔ ان ایجنسیوں میں تعاون کا آغاز 1909میں ہوا تھا جو پہلی جنگ عظیم سے لے کر دوسری جنگ عظیم اور پھر سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد تک جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ ان ایجنسیوں نے پاپولر ازم کے سیاسی نظریہ کے تحت مخالفین کو کرپٹ وطن دشمن قرار دیا اور دوسرے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس پاپولر ازم کو حاصل کرنے والی شخصیات صدر ٹرمپ، مودی وغیرہ کے ماڈل نے پاپولر ازم کی آڑ میں جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاپولر ازم سے کیسے لڑا جائے۔

میرے ناقص خیال میں مظلوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کر کے ہی پاپولرازم کے نظریہ کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے مگر اس نظریے کا مقابلہ کرنے کے لیے شفاف قیادت اور مکمل جمہوری رویہ ہونا ضروری ہے، اگر مظلوم طبقات کی جدوجہد کرنے والی جماعتوں کی قیادت عوام میں سے ہوگی اور معاشی سیاسی استحصال کے خاتمے کو بنیادی ایجنڈا بنایا جائے گا تو پھر کامیابی ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں بورژوا جماعتیں غیر شفاف نظام کو قائم رکھنا چاہتی ہیں اور عوام سے بہت دور ہیں۔ پاپولر ازم کے نظریے کی کامیابی کی وجوہات میں کامریڈ نے بائیں بازو کی سیاست اور مشکلات کے بارے میں تفصیلی لکھا ہے۔

انھوں نے اس باب کے آغاز میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے قیام کی حمایت کا ذکر نہیں کیا جب کہ کمیونسٹ پارٹی کی دوسری 1948 کی کلکتہ کانفرنس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سجاد ظہیر کے کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سے لے کر راولپنڈی سازش کیس اور کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کا ذکر سے لے کر حسن ناصر کی شہادت اور گزشتہ صدی میں بائیں بازو کے مختلف گروپوں میں تقسیم کا ذکر ہے مگر مصنف کو ضرور ان وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے تھا جس میں بائیں بازو کے رہنما کم ازکم پروگرام پر ایک بڑی جماعت میں متحد نہیں ہوتے اور اگر متحد ہوتے ہیں تو کچھ عرصے بعد یہ تجربہ ناکام ہوجاتا ہے۔

جب بھی یہ تجربہ ہوا، اس کے نتائج مثبت نہیں ہوئے۔ مصنف نے ’’ یورپی مارکسٹوں کے المیہ ‘‘ کے عنوان سے گرامچی کے نظریہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب کے فلسفہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کیا آج واقعی انقلاب کا امکان ہے۔ وہ تمام ناانصافیاں جو ماضی کے انقلابات کی وجہ محرک بنیں وہ نہ صرف مضبوطی سے موجود ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ گرامچی نظریہ کے مطابق دو انقلابی منظرنامہ میں ایک مورچہ بندی کی جنگ دوسرے مؤقف کی جنگ جس کو اشتہاری کمپنیوں کے ذریعے بیانیے کی جنگ کہا جاتا ہے۔ مورچہ بندی کی جنگ کے دائرے میں آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری ہے۔ گلوبلائزیشن انفارمیشن کے اس عہد میں بڑی ہوشیاری سے مورچہ بندی کی جنگ کے ذریعہ انقلابات کے امکان کی جنگ کے ذریعے ہوگا۔

ابلاغیات کے طالب علم کی حیثیت سے میری ناقص رائے یہ ہے کہ مؤقف کی جنگ کی بنیاد مزدور،کسانوں اور نچلے متوسط طبقے کے حالات زار کی عکاسی ہو۔ پرامن سیاسی جدوجہد کی جائے تو سماج میں تبدیلی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے دکانداروں، وکیلوں، صحافیوں اور بائیں بازو کے کارکنوں کی مشترکہ جدوجہد کی کامیابی سے یہ مفروضہ درست ثابت ہوسکتا ہے۔

رانا اعظم صاحب نے بلوچستان کے مسئلہ کو قبائلیت اور جاگیرداری سے منسوب کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میر غوث بخش بزنجو جیسے لوگ قبائلی نظام کو توڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کی 76 سالہ تاریخ میں قوم پرستوں کی حکومتوں کے اقتدار کی مدت مجموعی طور پر تین سال سے زیادہ نہیں ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ اس صوبے کو نوآبادیاتی قرار دینے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ برصغیر کے ممتاز مارکسٹ دانشور اور تاریخ دان ڈاکٹر پروفیسر عرفان حبیب نے ایک لیکچر میں کہا ہے کہ ہر آئیڈیالوجی میں امپروومنٹ ہوتی ہے۔ کوئی مذہب نہیں، جس میں تبدیلی نہ ہوسکے۔ مارکس کے فریم ورک میں بہت ساری چیزیں گھٹائی اور بڑھائی جاسکتی ہیں۔ مارکس کو بھی بہت سارے سیاسی کلچر سے واقفیت نہیں تھی۔ اس لیے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جو مارکس نے کہا وہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔ یہ بات مارکس نظریے کے خلاف ہے۔ جیسے جیسے انفارمیشن ملتی ہے، انسان کا امیجی نیشن بڑھتا ہے۔ رانا صاحب کی یہ کامیابی ہے کہ انھوں نے اس کتاب کے ذریعے نوجوانوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔

https://www.express.pk/story/2784968/ahd-e-haazir-mein-marxism-ki-manawiyat-hissa-doem-2784968