
اعتصام الحق
پاکستان میں زرعی شعبہ ملکی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے. جی ڈی پی کا تقریبا 24فیصد حصہ اور ملازمت کرنے والے افراد کا بڑا حصہ زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔یہہ وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان اس شعبے میں خود کو جدیدیت کے راستے پر لے چکے تو اس معیشت پر اس کے مثبت نتائج پڑیں گے اور ملکی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہو گی ۔اسی خیال کے تئیں رواں سال حکومت پاکستان نے ملک میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، میکانائزیشن، پروسیسنگ، بیج کی افزائش اور کیڑوں اور فصل کی بیماریوں کے کنٹرول کے شعبوں میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں چین کے ساتھ ایک پروگرام ترتیب دیا ۔ اس سلسلے میں ایک حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت وزارتِ غذائی تحفظ و تحقیق نے 19 جولائی 2025 کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس پروگرام میں 1,000 زرعی گریجویٹس کو چین بھیجا جائے گا۔ اس ضمن میں چین کے ایک معتبر ادارے چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (CAAS) اور اس کے ذیلی تحقیقی اداروں کے تعاون کو ممکن بنایا گیا تاکہ جدید تحقیق اور عملی نتائج کو بروئےکار لایا جائے اور اس میدان میں ترقی کے نئے راستے دیکھے جائیں ۔یہ اقدام نہ صرف تکنیکی تبادلے بلکہ دوطرفہ زرعی تعاون کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے۔ اس پروگرام کے توسط سے پاکستان نے اپنے زرعی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کپیسٹی بلڈنگ کا راستہ اختیار کیا ہے تا کہ چین کی اس میدان میں ترقی اور تیکنیکی سوچ کو پاکستان منتقل کیا جا سکے۔
تین ماہ پر مشتمل اس پروگرام میں نظریاتی دروس ، لیبارٹری ورک ، فیلڈ وزِٹس اور عملی تربیت شامل ہے اور ان گریجویٹس کو چین کے تحقیقی مراکز میں سمارٹ ایگریکلچر مشینری، کیڑوں کے ریڈار ٹریکنگ نظام، اور زمین و مٹی کی نگرانی کے نظام پر تربیت دی جا رہی ہے۔یہ تربیت مکمل طور پر چین میں منعقد کی جا رہی ہے ۔ پاکستانی گریجویٹس چین جا رہے ہیں اور یہاں تربیت حاصل کرنے کے بعد ملک لوٹ کو اس تربیت کو پیشہ وارانہ امور میں استعمال کر رہے ہیں ۔منتخب شرکاء کا پہلا بیچ تقریباً 300 افراد کا تھا، جو چین میں تربیت مکمل کرچکا ہے ۔ تربیت مکمل کرنے والے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس تربیت سے شرکاء انہیں چینی زرعی ماڈلز کو دیکھنے کا اور ٹیکنالوجی اور مشینری کے عملی تجربہ کا موقع ملا جسے وہ اپنے وطن میں آزما سکیں گے۔اس تربیتی کورس میں میکانائزیشن، پھل و سبزی کی پروسیسنگ، بریڈنگ ، کیڑوں و بیماریوں کا کنٹرول، زمین و ماحولیاتی نگرانی، ڈیجیٹل زرعی ٹیکنالوجی وغیرہ شامل ہیں۔
شرکاء کا انتخاب مختلف زرعی یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین سے ہوا ، یعنی صرف گریجویٹس نہیں بلکہ فیلڈ انجینئیرز، سرکاری زرعی آفیسرز، خوراک کی پروسیسنگ کے ماہرین، چھوٹے پیمانے پر مشینری استعمال کرنے والے نوجوان اس پروگرام میں شامل ہیں ۔
پہلے بیچ کے تربیت یافتہ افراد نے پانی بچانے والا آبپاشی کا نظام، بیج کی پیداوار، مویشیوں کا اشتراک، پیداوار اور پوسٹ ہارویسٹ نقصان کے تدارک پر کام کیا۔ اس سلسلے کا دوسرا بیچ رواں سال اگست میں روانہ ہوا جس میں تقریباً 300 طلبہ شامل ہیں ۔انتخاب کے معیار میں یہ بات بھی شامل رہی کہ شرکاء اپنے علاقائی مسائل کے حل کی تجویز حاصل کر کے جائیں ، یعنی صرف تربیت لینے نہیں بلکہ واپس آکر مقامی سطح پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتے ہوں۔یوں اس پروگرام کو صرف تربیت سے آگے بڑھا کر عملی تبدیلی کے اہم جزو کا حامل بنایا ہے۔
اس پروگرام کے جز وقتی فوائد کی بات کریں تو تربیت یافتہ افراد پاکستان واپس جا کر جدید مشینری، سمارٹ زرعی حل، فصل کی ڈیجیٹل نگرانی، اور کیڑوں و بیماریوں کے جدید کنٹرول سسٹمز متعارف کرانے کی تیاری کر سکیں گے، جس سے پیداوار میں بہتری ا ور ضیاع میں کمی ممکن ہے۔ پھل و سبزی کی پروسیسنگ اور ویلیو چین کی بہتری کے شعبے میں تربیت ملنے سے، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کو نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گاا ور خوراک کے تحفظ اور برآمد کے امکانات بہتر ہوں گے۔ تربیت کے دوران دو طرفہ روابط سے نیٹ ورکنگ کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔یہ ایک فوری فائدہ ہے کہ شرکاء علیحدہ رہ کر بھی ماہرین سے رابطے جاری رکھ سکیں گے۔
طویل مدتی فوائد کی بات کی جائے تو اس تربیت کا اصل اثر تب ہوگا جب پاکستان میں زرعی تحقیق، میکانائزیشن اور پروسیسنگ کو “عصری خطوط” پر لایا جائے۔ اس عمل سے نہ صرف کسانوں کی پیداوار بڑھے گی بلکہ زرعی برآمدات کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔تربیت یافتہ افراد اگر “ٹرین دی ٹرینر” ماڈل اختیار کریں تو وہ دیگر کسانوں، مقامی اداروں، نوجوانوں کو بھی تربیت دے سکتے ہیں؛ اس طرح اثر کا دائرہ وسیع ہوگا۔
اس طرح کے تربیتی پروگرام سے پاکستان اور چین کے زراعت میں مشترکہ منصوبے، تحقیقی شراکت داری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر ممکن ہے ، جو دونوں ملکوں کے لیے طویل المدتی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔
زرعی شعبے کی بہتری سے عوامی سطح پر غذائی تحفظ بہتر ہوگا، کسانوں کی آمدنی بڑھے گی، اور ملک کی زرعی مسابقت میں اضافہ ہوگا ۔یہ عوامل معاشی ترقی کے لیے مثبت ہیں۔ سو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر، یہ پروگرام نہ صرف ایک تربیتی مہم ہے بلکہ پاکستان کی زرعی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک قدم ہے۔
اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار ہوں گے، بلکہ ایک طویل المدتی بنیاد قائم ہوسکتی ہے جس پر پاکستان کا زرعی ماڈل جدت اور کارکردگی کی جانب گامزن ہوگا۔ البتہ، اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ تربیت کے بعد عملی اقدامات موجود ہو، معقول سرمایہ کاری دستیاب ہو اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی اور پالیسی کا اشتراک ہو۔ اگر یہ تمام اجزاء ساتھ ہوں تو یہ پروگرام پاکستان کی زرعی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔























