نواز شریف کے میڈیکل ٹیسٹ مشکوک تھے

پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری اور لندن میں ان کے قیام پر سوال اٹھا دیا ہے۔
منگل کو کی گئی ٹویٹ میں انہوں نے نواز شریف کے پاکستان میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آخر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ سے کیوں نہیں بھجوائی جا رہیں؟
نواز شریف کی بیماری کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے کی گئی ٹویٹ میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے لکھا کہ ’بظاہر اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے ٹیسٹ پاکستان میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ سے مختلف ہیں اور برطانوی ڈاکٹر نواز شریف کو شدید بیمار قرار دینے سے ہچکچا رہے ہیں‘۔

Ch Fawad Hussain

@fawadchaudhry

آخرنواز شریف کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ سے کیوں نہیں بھجوائ جارہیں؟ بظاہر اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ہونیوالے ٹسٹ پاکستان میں ہونیوالے میڈیکل ٹسٹ سے مختلف ہیں اور برطانوی ڈاکٹر نواز شریف کو شدید بیمار قرار دینے سے ہچکچا رہے ہیں،

8,242
9:10 AM – 25 فروری، 2020
Twitter Ads info and privacy
1,972 people are talking about this

چند روز قبل فواد چوہدری نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے لندن میں قیام کی وجہ سے اسمبلی سے غیرحاضری پر بھی ٹویٹ کی تھی جس میں انہوں نے سپیکر کو خط لکھ کر معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ صحت اور ڈاکٹر صاحبان نے شریف خاندان سے ملی بھگت کرکے میڈیکل رپورٹس تیار کیں۔

Ch Fawad Hussain

@fawadchaudhry

 25 فروری، 2020
آخرنواز شریف کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ سے کیوں نہیں بھجوائ جارہیں؟ بظاہر اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں ہونیوالے ٹسٹ پاکستان میں ہونیوالے میڈیکل ٹسٹ سے مختلف ہیں اور برطانوی ڈاکٹر نواز شریف کو شدید بیمار قرار دینے سے ہچکچا رہے ہیں،

Ch Fawad Hussain

@fawadchaudhry

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جو میڈیکل ٹسٹ کروائے وہ مشکوک تھے، ان حالات میں پنجاب حکومت کو ایک انکوائری بٹھانی چاہئے جو محکمہ صحت، لیبارٹری اور ڈاکٹر صاحبان کی شریف خاندان سے ملی بھگت کے معاملے کا جائزہ لے اور عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھے۔

3,855
9:10 AM – 25 فروری، 2020
Twitter Ads info and privacy
997 people are talking about this

اپنی ٹویٹ میں انہوں نے مزید لکھا ’ان حالات میں پنجاب حکومت کو ایک انکوائری بٹھانی چاہیے جو محکمہ صحت، لیبارٹری اور ڈاکٹر صاحبان کی شریف خاندان سے ملی بھگت کے معاملے کا جائزہ لے اور عوام کے سامنے مکمل حقائق رکھے‘۔
نواز شریف نومبر 2019 میں اس وقت لندن پہنچے تھے جب حکومت نے انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ قبل ازیں عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو چار ہفتے تک بیرون ملک رہنے کی اجازت دی تھی تاہم ان کی وطن واپسی ان کی صحت کی بحالی سے مشروط ہے۔
چار ہفتوں کی مہلت ختم ہونے کے بعد نواز شریف نے 23 دسمبر کو اپنے بیرون ملک قیام میں توسیع چاہی تھی۔ اپنی درخواست کے ساتھ نواز شریف کی جانب سے میڈیکل رپورٹس بھی بھجوائی گئی تھیں۔urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں