صوبائی حکومت کو وفاقی محصولات کی منتقلی میں 144 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہوئے ہیں

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو وفاقی محصولات کی منتقلی میں 144 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے ، اس لئے پورے سندھ میں کیے جانے والے ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے مٹیاری ، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہ یار کے ضلعی ترقیاتی پورٹ فولیو کا جائزہ لینے کیلئے جمعہ کو وزیراعلی ہاؤس میں تین مختلف اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، صوبائی وزراء ، نثار کھوڑو ، سید ناصر شاہ ، شبیر بجارانی ، سعید غنی ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، سیکرٹری آبپاشی سعید منگنیجو ، سیکرٹری ورکس عمران سومرو ، سیکرٹری کالجز رفیق بڑرو ، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن خالد حیدر شاہ ، کمشنر اور ڈی آئی جی حیدرآباد ڈویژن ، متعلقہ اضلاع کے تمام ایم این ایز ، ایم پی ایز اور دیگر منتخب نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انکی حکومت کو اپنے 522.1 ارب روپے کے شیئرز کے مقابلہ میں 378.3 ارب روپے موصول ہوئے ہیں جس میں آج تک 143.8 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکے باوجود انکی حکومت جاری ترقیاتی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہے اور آئندہ مالی سال میں نئی اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔

مٹیاری:
مٹیاری ضلع میں 1.6 ارب روپے کی 48 اسکیمیں جاری ہیں۔ محکمہ خزانہ نے مجموعی طور پر مختص رقم کا 58 فیصد یعنی 929.6 ملین روپے جاری کیے ہیں اور اس میں سے استعمال 593.5 ملین روپے ہوئے ہیں جو ریلیز کا 64 فیصد ہے۔ 166.5 ملین روپے کی 13 اسکیمیں ہیں جن کیلئے 96 فیصد فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں لہذا وزیر اعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ رواں مالی سال کے اختتام تک انہیں مکمل کریں۔ مٹیاری ضلع میں محکمہ اوقاف نے 23.7 ملین روپے کی تین اسکیمیں ، ثقافت کی ایک اسکیم پر 42.7 ملین روپے ، اسکول ایجوکیشن کی پانچ اسکیموں پر 312.1 ملین روپے، کالج ایجوکیشن کی تین اسکیموں پر 17 ملین روپے ، یونیورسٹی اینڈ بورڈ کی ایک اسکیم پر 150 ملین روپے، صحت کی ایک اسکیم پر 40 ملین روپے ،محکمہ داخلہ کی ایک اسکیم پر 15 ملین روپے، محکمہ اطلاعات کی ایک اسکیم پر3.43 ملین روپے، محکمہ آبپاشی کی پانچ اسکیموں پر 237.8 ملین روپے، محکمہ قانون کی دو اسکیموں پر 27.64 ملین روپے، اہم کینالوں کی لائننگ کی ایک اسکیم پر 134.1 ملین روپے ، محکمہ بلدیات کی 84.4 ملین روپے کی دو اسکیمیں ہیں اور دونوں سڑکوں کی اسکیمیں ہیں۔ اقلیتوں کی 2 ملین روپے کی اسکیم ہے، پی ایچ ای کی 184.1 ملین روپے کی سات اسکیمیں ہیں، دیہی ترقی کی 10 ملین روپے کی ایک ایک اسکیم، اسپورٹس کی 20.7 ملین روپے کی ایک اسکیم اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی 290 ملین روپے کی 12 اسکیمیں ہیں۔

ٹنڈو محمد خان:
ضلع ٹنڈو محمد خان کی 1.1 ارب روپے کی 45 اسکیمیں ہیں جسکے لیے حکومت نے 677.4 ملین روپے جاری کردیئے ہیں جوکہ مختص کردہ فنڈز کا 59 فیصد ہے جبکہ 441.2 ملین روپے استعمال کئے گئے ہیں جوکہ جاری کئے گئے فنڈز کا 65 فیصد ہے۔ ضلع میں134.4 ملین روپے کی 13 اسکیمیں ہیں جوکہ جون 2020 کے آخر تک مکمل ہوجائیں گی جبکہ 209.1 ملین روپے کی 7 دیگر اسکیمیں آئندہ تین ماہ کے اندر مکمل ہوجائیں گی۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 8 اسکیمیں، داخلہ نے 2، ایریگیشن نے 4، بلدیات نے 11، پی ایچ ای نے 6 اور محکمہ ورکس نے 8 اسکیمیں شروع کی ہیں۔

ٹنڈو الہیار:
ضلع ٹنڈوالہیار نے 1.7 ارب روپے کی 42 اسکیمیں ہیں جس کے لیے حکومت نے 1.2 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جوکہ مختص کردہ فنڈز کا 71 فیصد ہے اور 1.02 ارب روپے استعمال کئے گئے ہیں جوکہ جاری کردہ فنڈز کا 84 فیصد بنتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ ضلعی پانچ جاری اسکیمیں جن پر لاگت کا تخمینہ 271.2 ملین روپے ہے 20-2019 کے آخر تک مکمل ہوجائیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف محکموں کو ہدایت کی کہ وہ 119.1 ملین روپے کی 12 اسکیمیں مکمل کریں جس کے لیے حکومت نے مختص کردہ فنڈز کا 91 فیصد جاری کردیئے ہیں۔ ٹنڈو الہیار میں اسکول ایجوکیشن نے 6 اسکیمیں، محکمہ بلدیات نے 5، پی ایچ ای نے 7 اور محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے 15 اسکیمیں شروع کی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں