
(29۔اکتوبر۔2025)
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورپالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین، سابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگرچہ زبردست معاشی انحطاط کے بعد ملک میں معاشی استحکام حاصل ہو چکا ہے، مگرمجموعی قومی پیداوار (GDP) کی 3 فیصد شرحِ نموقومی ترقی اورغربت میں حقیقی کمی کے لیے ناکافی ہے۔
میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مالی نظم وضبط کے باعث مہنگائی میں کمی اور پرائمری سرپلس کا حصول ممکن ہوا ہے، جس سے شرحِ نمومالی سال 2024ء میں 2.6 فیصد سے بڑھ کر 2025ء میں 3 فیصد تک پہنچی ہے تاہم اس استحکام کی قیمت عوام نے ادا کی ہے کیونکہ حالیہ موسمی آفات خصوصاً سیلاب نے زرعی پیداواراورمعیشت دونوں پرمنفی اثرات ڈالے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے مطابق آئندہ دوسالوں میں حقیقی شرحِ نموبالترتیب 3 فیصد سال 2026 اور 3.4 فیصد 2027 میں رہنے کا امکان ہے، جوملک میں روزگار اور غربت کے بحران کوکم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہرسال 16 لاکھ نوجوان روزگار کے حصول کے متلاشی ہوتے ہیں جبکہ ملازمتیں اور مواقع محدود ہیں، نتیجتاً غربت کی شرح محض 22.2 فیصد سے گھٹ کر 21.5 فیصد تک آنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے، جوانتہائی معمولی بہتری ہے۔
میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق برآمدی مسابقت میں تشویشناک کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 1990ء کی دہائی میں جی ڈی پی کے 16 فیصد کے برابرتھیں، جواب گھٹ کرصرف 10 فیصد رہ گئی ہیں۔ قرضوں اور بیرون ملک ترسیلاتِ زرپرانحصارایک خطرناک معاشی گردش کوجنم دے رہا ہے۔ ساتھ ہی مالی سال 2026ء میں متوقع 7.2 فیصد افراطِ زر (Inflation) کم آمدنی والے طبقوں کے لیے تشویشناک ہے۔
میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوٹیکس کے دائرے کووسیع کرنے، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتربنانے، زرِمبادلہ کی شرح میں استحکام لانے اور برآمدی لاگت کم کرنے پرفوری توجہ دینی چاہیے۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے بغیرپائیدارترقی ممکن نہیں۔
میاں زاہد حسین نے خبردارکیا کہ اگرفوری مطلوبہ اصلاحات نہ کی گئیں تو محض استحکام معیشت کوجمود میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزگارکے مواقع بڑھانے اورغربت میں حقیقی کمی کے لیے برآمدات پر مبنی 6 فیصد کم از کم ترقی ناگزیرہے۔
—–























