کچھ سال پہلے تک سورج مکھی کے بیجوں کو زیادہ تر پرندوں کی خوراک سمجھا جاتا تھا

کچھ سال پہلے تک سورج مکھی کے بیجوں کو زیادہ تر پرندوں کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔
سورج مکھی کے بیج آج کل پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، اور سردیوں میں تو ان کا استعمال اور بھی بڑھ جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ چین میں ان بیجوں کی خاص کاشت کی گئی، جن میں ذائقہ اور ساخت دونوں بہتر ہوئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا استعمال صرف جانوروں تک محدود نہ رہا، بلکہ انسانوں نے بھی ان کی قدر جانی۔
مارکیٹ میں اگر دیکھیں تو ہول سیل پر یہ تقریباً ساڑھے تین سو سے چار سو روپے فی کلو میں مل رہے ہیں، جبکہ پرچون میں یہ ریٹ پانچ سو سے چھ سو روپے تک جا پہنچتا ہے۔
یہ قیمتیں دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ سورج مکھی کے بیج اب مونگ پھلی جیسے روایتی خشک میووں کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ ان کی غذائیت ہے۔ مجھے بھی کچھ عرصہ پہلے جب ان کی افادیت کا پتہ چلا تو روز مرہ زندگی میں ان کا ہلکا پھلکا استعمال شروع کر دیا۔
سورج مکھی کے بیج میں وٹامن ای پایا جاتا ہے، جو جلد کے لیے مفید مانا جاتا ہے۔ اس میں موجود اچھے چکنائی والے اجزاء دل کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
ان بیجوں میں قدرتی پروٹین بھی موجود ہے، جو سبزی خور افراد کے لیے خاص طور پر کارآمد ہے۔
اس کے علاوہ ان میں زنک، سیلینیم، میگنیشیم، اور کئی ایسے غذائی اجزاء ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی دیتے ہیں اور قوتِ مدافعت بہتر کرتے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں ایک مٹھی بیج شام کی چائے کے ساتھ یا ناشتے کے وقت کھانا نہ صرف ذائقے میں اچھا لگتا ہے، بلکہ صحت کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بیج وزن بڑھاتے نہیں بلکہ متوازن خوراک میں شمار کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال اعتدال سے کیا جائے۔ برطانیہ میں بہت سے لوگ ان کا استعمال باقاعدگی سے کرتے ہیں۔
اس سردی اگر مونگ پھلی کا بجٹ ہاتھ سے نکل رہا ہو تو سورج مکھی کے بیج ایک مناسب اور صحت بخش متبادل بن سکتے ہیں۔ ڈر صرف اس بات کا ہے کہ ان کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے ان کی قیمت کہیں بڑھ نہ جائے۔ اگر آپ میں سے کسی نے ٹرائی نہیں کیے تو ٹرائی ضرور کیجئے۔
پوسٹ اچھی لگے تو لائک اور شیئر ضرور کیجئے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن