سائنس دو سوالوں کا جواب کبھی نہیں دے سکی

آپ کو پتہ نہیں موسم بارہ ہیں
پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ سائنس دو سوالوں کا جواب کبھی نہیں دے سکی۔ یہ سوال ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے اور جب مریں گے تو کیا ہوگا؟ ان کا جواب مذاہب میں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو دیکھتے ہیں تو کسی نے بل گیٹس اور کسی سٹیو جابز کی کتاب پکڑی ہوتی ہے۔ یہ کامیاب ماڈل ہیں۔ اسی طرح کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی کتاب پکڑتا ہے کہ پیسے کیسے کمانے ہیں مگر سب سے کامیاب انسان اللہ کے رسول تھے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی بات کہ ’سکون صرف قبر میں ہے‘ کا لوگوں نے مذاق اڑایا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے لیڈر اور اللہ کے رسول نے کہا ہے کہ جب تک قبر میں نہیں جاتے علم حاصل کرو یعنی جدوجہد کرو۔
پنڈال میں نعرے مارنے والوں کو عمران خان نے برجستہ کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جاؤ، اب اگر تم بولے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان مقصد حاصل کرنے کے لیے اپنی کشتیاں جلا دیں۔ ’جنون دل سے آتا ہے، ہمیشہ دل کی مانیں اور دماغ کو اس طرف مائل کریں۔‘
عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ان کا مشن ہے اور جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرنے والوں کو صرف جرمانہ نہیں بلکہ پکڑ کر جیلوں میں ڈالنا چاہیے۔
اتوار کو میانوالی کے علاقے کندیاں میں شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’جو جنگل انگریز چھوڑ کر گئے تھے ہم وہ بھی تباہ کر دیا۔ عوام کو جنگلات کی اہمیت کا ہی نہیں پتہ، سکولوں کے نصاب میں اس حوالے سے مضامین شامل کریں گے۔‘


عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے بارہ موسم دیے ہیں اور لوگوں کو اس کا علم ہی نہیں۔ ’ملک میں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہم کو ہر نعمت سے نوازا گیا ہے۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب وہ بچپن میں کندیاں آتے تھے تو 20 ہزار ایکڑ پر جنگلات تھے جن میں سے دس ہزار ایکڑ رقبے پر درخت تھے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چھانگا مانگا کا بڑا جنگل تھا جس پر لوگوں نے قبضے کر لیے۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کہا کہ وہ جنگلات کی زمینوں پر قبضہ کرنے کو صرف پانچ لاکھ جرمانہ ہی نہ کریں بلکہ جیلوں میں ڈالیں۔
عمران خان نے کہا کہ کندیاں میں بیری کا جنگل اگایا جا رہا ہے جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ ’دنیا میں بیری کے شہد کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ یہ جنگل آپ کو نوکریاں دے گا، خوشحالی دے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تھانے کلچر کو بدلنا یہاں کے عوام کا بڑا مطالبہ ہے۔ ’پنجاب میں آئی جی شعیب دستگیر کو لائے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالیں کیونکہ چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے چوری ختم نہیں ہوتی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنی حکومت میں بڑے ڈاکوؤں پر ہاتھ ڈالا کیونکہ ماضی میں چھوٹے کرپٹ لوگوں کو پکڑا جاتا رہا جس سے کرپشن ختم ہونے کے بجائے بڑھی۔ ’ہماری حکومت میں پہلی دفعہ ہوا کہ بڑے ڈاکوؤں کو پکڑا گیا جس سے کرپشن کم ہوئی۔‘
انہوں نے کہا کہ میانوالی کی نمل یونیورسٹی میں باہر کی دنیا سے طالب علم پڑھنے آئیں گے۔Pakistan24.tv

اپنا تبصرہ بھیجیں