ابھی نند ن نے جہازکریش ہونے کے بعد اپنی جیب سے کاغذ نکال کر نگل لیا تھا

گزشتہ سال 27 فروری کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو کر ٹینشن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد پاکستان فضائیہ کے جوانوں نے ایک بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نند ن کے جہاز کو گرا کر اسے گرفتار کر لیا تھا۔ گزشتہ روز اس واقع کو ایک سال گزر چکا ہے جس کے بعد عینی شاہدین نے سارا واقع بتایا ہے۔
بی بی سی کے ایک انٹرویو میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ جب ابھی نند ن کا جہاز گرا تھا تو پہلے اسے ہم نے بتایا کہ وہ بھارت میں ہے۔لیکن جیسے ہی اسے پتہ چلا کہ وہ پاکستان میں ہے، اس نے اپنی جیب سے دو کاغذ نکالے، ایک اس نے پھاڑ کو پھینک دیا لیکن دوسرا اس نے نگل لیا تھا۔عینی شاہدین کی جانب سے سارا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے ابھی نند ن کے جہاز گو گرتے ہوئے دیکھا او ر گرنے کے بعد ابھی نند ن نے کس طرح بھاگنے کی کوشش کی۔

انٹرویو میں دکھایا گیا ہے کہ کس جگہ ابھی نندن کا جہاز گرا اور کہاں سے اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال پیدا ہونے والی ٹینشن کے بعد بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد اگلے دن ہی پاکستا ن نے خیر سگالی کی مثال قائم کرتے ہوئے اسے بھارت کو واپس کر دیا گیا تھا۔ابھی نندن کا جہاز اور اس کا یونیفارم ابھی تک پاکستان میں موجود ہیں جبکہ اسے پاکستان کی جانب سے نئے کپڑوں کا تحفہ دے کر بھارت بھیج دیا گیا تھا۔
کچھ د ن قبل میڈیا نمائندگان کو بھی ابھی نندن کا جہاز دکھایا گیا تھا جس میں بھارت کے کئے گئے دعوے کو بھی رد کر دیا گیا تھا۔بھارت نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی ایف 16 کو مار گرایا ہے جبکہ ابھی نند ن کے جہاز میں اس کے چاروں میزائل ابھی تک نصب ہیں۔ اب عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ گرنے کے بعد ابھی نندن کے پاس دو کاغذ تھے جس میں سے ایک اس نے پھاڑ دیا تھا جبکہ دوسرا وہ نگل گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں