گھر کی ملکہ اصل میں نوکروں کی طرح کام کرتی ہے تب ہی گھر کی ریاست چل پاتی ہے

ہم نے مل کر گھر میں رہنے والی عورت کو ناکارہ اور سست قرار دے دیا ہے-“تم کرتی کیا ہو سارا دن” یہ وہ جملہ ہے جو عورتوں کو کبھی نہ کبھی زندگی میں ضرور سننا پڑتا ہے۔ مگر جو مرد یہ جملہ نہیں کہتے وہ واقعی میں ایک گولڈ میڈل دیئے جانے کے مستحق ہیں۔ عورت کی زندگی خاص طور پر، اس عورت کی جو گھر کی چار دیواری میں رہتی ہو اس کے لئے تو خاص طور پر “کیا کرتی ہو؟” کے جملے کے حصار میں زندگی رہتی ہے۔
عورت سارا دن کرتی کیا ہے؟ بہت سوں کو لگتا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھتی رہتی ہے کچھ کو لگتا ہے کھاتی رہتی ہے اکثریت کو لگتا ہے سوتی رہتی ہے ایک اچھی خاصی تعداد کو یہ بھی گواہیاں دیتے دیکھا گیا ہے کہ صرف فون پر پیکج کروا کو گپیں لگانے میں رہتی ہے اور اب تو واٹس ایپ نے زندگی مزید آسان کر دی ہے۔
عورت یہ سب کام بھی کرتی ہے مگر وہ بے شمار ایسے کام بھی کرتی ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتے اور خاتون خانہ کی بیماری کی صورت میں جب وہ کام نہیں ہوتے تب بھی منہ پر تو اسکی خوبیوں اور کاموں کا اعتراف کم ہی کیا جاتا ہے ہاں اگر دل میں کیا جا رہا ہو تو اللہ جانے۔
ہم نے مل کر گھر میں رہنے والی عورت کو ناکارہ اور سست قرار دے دیا ہے۔ اب کچھ تو معاشی مجبوریوں اور کچھ کام کرنے کے شوق کی بنا پر بے شمار خواتین ملک کی خدمت کرتی نظر آرہی ہیں ۔ مگر جو خواتین ملک کی نہیں صرف گھر کی خدمت پر مامور ہیں انکے لئے کیا کرتی ہو جیسے جملوں نے انکو کہیں نہ کہیں احساس کمتری میں ضرور مبتلا کیا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گھر جیسا ادارہ چلانا بھی آسان کام نہیں ہے۔ اچھا گھر چلانا ہر گھر کے فرد پر کتنا اچھا اثر ڈالتا ہے یہ آپ کسی پھوہڑ خاتون کے گھر والوں سے پوچھیں تو پتہ چلے۔ مگر پھوہڑ کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں کو بھی طعنے دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ گھر چلانا بھی کسی ادارے کو چلانا جیسا ہی ہے۔ جہاں پر آپ وقت کی پابندی کرتے ہیں تب ہی سکول کالج آفس کو نکلنے والے لوگ گھر سے وقت پر نکل پاتے ہیں۔
گھر کو گھر اصل میں بناتی ہی ایک گھر والی ہے۔ اسکو ذٰیادہ کچھ چاہیئے بھی نہیں دوسروں کی خدمت کر کے اور تھوڑی سی تعریف پا کر وہ خوش بھی ہو جاتی ہے اور دوبارہ سے سب کو سنبھالنے کے لئے تازہ دم بھی ہو جاتی ہے۔ اسکوبہت ذیادہ کی خواہش بھی نہیں ہاں اپنے جیسی دوسری عورتوں سے ممتاز نظر آنے کے لئے برینڈڈ سوٹ کی فرمائش کرتی ضرور نظر آئیگی۔
مگر گھر کی ملکہ اصل میں نوکروں کی طرح کام کرتی ہے تب ہی گھر کی ریاست چل پاتی ہے۔sana-lahore

اپنا تبصرہ بھیجیں