فاطمہ بھٹو: عام لوگوں کی ترجمان بن جائیں

سہیل دانش
25-10-2025
آپ اگر سیاست میں قدم رکھنا چاہتی ہیں تو آپ کو وطن عزیز کے چند حقائق سے آگاہی ضرور ہونی چاہیے۔آپ کو یقیناً وہ رات ایک ڈرائونے اور بھیانک خواب کی طرح ڈراتی ہو گی اور رلاتی بھی جب آپ کے گھر 70کلفٹن کے دروازے کے سامنے آپ کے والد کو گولیاں مار کر اس طرح گھائل کر دیا گیا کہ وہ ہسپتال پہنچ کر جانبر نہ ہو سکے۔ آپ کے والد اور چاچا دونوں کو پراسرار انداز میں مارا گیا ۔آپ کے دادا کو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا۔ آپ کی پھوپھی بھی دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ آج آپ کے پھوپھا دوسری مرتبہ صدارت کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں۔آپ کے کزن ملک کی بہت بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ انہیں کس انداز میں چیلنج کریں گی۔ یا پھر اپنے بھائی کی طرح آپ کی سیاست کا محور سندھ کی نیشنلسٹ سیاست ہو گی اور وہ بھی ان کی طرح دھیمے سادہ اور محتاط انداز میں۔ اگر آپ جان جوکھم کی تیاری کے ساتھ ایک ہیوی ویٹ مقابلے کے لئے تیار نہیں۔اگر آپ اپنے بھائی کا ہاتھ تھامنا چاہیں گی یا پھر آپ کا ارادہ فرنٹ سے لیڈ کرنے کا ہے کیونکہ آپ کا پہلا مقابلہ سندھ کے اکھاڑے میں ہو گا۔سندھ میں نیشنلسٹ سیاست کو ہم 50سال سے سر اٹھاتے دیکھ رہے ہیں۔ شائد آپ کے دادا کے دور سے۔ لیکن یہ شاید آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ ایک ایسے دور میں عملی سیاست میں قدم رکھیں گی جب سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ شہری علاقوں میں ایم کیو ایم مقبولیت اور شہرت کی کمائی اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی دیہی سندھ کے لوگوں کو ترغیبات کے تمام کارڈز شو کر کے بھی کوئی چمتکار نہیں دکھا سکی ۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے حوالے سے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔عمران خان کی پی ٹی آئی شہری سندھ میں قدم جمانے کی کوشش کے بعد اب پینترے بدل بدل کر پنجہ آزمائی کے ناقابل فہم انداز سے بقاکی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایسے میں دیہی سندھ کے مفلوک الحال لوگوں کے چہروں پر اڑتی ہوائیاں کسی خوشگوار اطمینان اور مسکان میں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔غربت ہے جو پورے ملک میں کراچی سے کشمیر تک گہرے بادلوں کی طرح چھائی ہوئی ہے۔ طاقت‘اقتدار اور اختیار ہی سب سے بڑا شجرہ ہے۔حکمران‘ سیاستدان ‘ بیورو کریسی اور مافیاز کی موج لگی ہوئی ہے ۔جرائم ہیں جن کے پھیلائو کی کوئی حد نہیں۔ پولیس کی مہارت اور چابکدستی کا عالم یہ ہے کہ وہ ایک جرم کو دوسرے جرم سے ڈھانپ دیتی ہے۔ اس کا ہر ایک کے ساتھ دوستی کا رشتہ بڑا پکا ہے۔ دیہی سندھ ہی کیا شہری سندھ بشمول کراچی ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کراچی جیسے شہر میں جگہ جگہ تعفن زدہ کچرا کنڈیاں کیسے بن گئی ہیں۔جگہ جگہ لوگ پانی نہ آنے کی دہائی دے رہے ہیں۔ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں۔ بدحالی‘ پریشانی‘ پشیمانی کسی کو احساس ہی نہیں، پورے ملک کی یہی کہانی ہے، جو فلم کی طرح چلے جا رہی ہے۔1971ء میں انٹرویل ہوا تو بنگالی روٹھ کر علیحدہ ہو گئے۔ ملک کی پوری کہانی میں جگہ جگہ تکلیف دہ سکرپٹ منہ چڑا رہا ہے۔ یہ کیسی تاریخ ہے اگر آپ اس میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہیں تو لوگوں کو کوئی امید دلائیں۔ مسائل کی نشاندہی کریں، انہیں اجاگر کریں ۔آپ کی خوش بختی یہ ہے کہ اس انٹری میں آپ کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ نامور شناخت کا ٹیگ آپ کی شخصیت پر چسپاں ہے۔ ابتدا میں آپ ایک تھنک ٹینک کے طور پر کام کریں۔ اپنی بات مدلل انداز میں بیان کریں۔ اپنے دادا کی طرح کوئی جے اے رحیم، مبشر حسن اور معراج محمد خاں ڈھونڈیں، لوگوں کو راستہ دکھائیں۔ کوئی حوصلہ مند قدم اٹھائیں۔ آپ کے دادا نے بھی 56سال پہلے قوم سے روٹی‘ کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے پنجاب میں کھڑے ہو کر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو دمادم مست قلندر کا چیلنج دیا تھا اور پنجاب نے انہیں کندھوں پر اٹھا لیا تھا۔خود وڈیرہ ہو کر سندھ میں فیوڈلز کو للکارا تھا۔ کراچی کو مستقبل میں آج کا دبئی جیسا بنانے کا خواب دکھایا تھا ۔غریب کی جھونپڑی میں امید کا چراغ جلایا تھا۔ وہ سیاست کو ڈرائنگ روموں سے نکال کر میدانوں اور جلسہ گاہوں میں لے آئے تھے۔ ایک عوامی لہر تھی۔ انہوں نے ایک نئے طرز کی سیاسی دھوم مچا ئی۔وہ کیا کر سکے اور 20دسمبر 1971سے لے کر 5جولائی 1977تک وہ کامیابیوں اور ناکامیوں کے کتنے کھاتے سمیٹے رخصت ہو گئے۔ نصف صدی گزر گئی لیکن غریب کے مقدر میں آج بھی سردیوں میں ٹھٹھرنا اور گرمیوں میں جھلسنا رہ گیا ہے۔ آج ایسا لگتا ہے ہمارا معاشرہ مصنوعی تنفس پر چل رہا ہے۔ ذرا اندازہ کیجیے ہمارا پورا نظام خواہ وہ معاشی ہو یا مالیاتی ادھار پر چل رہا ہے۔ جو حکومت آتی ہے ایک سے بڑھ کر ایک قرضے لیتی ہے۔ ترقی و خوشحالی کی دعویدار بنتی ہے اور ملک ہے کہ اس پر سے موسم خزاں ختم ہونے کا نام ہی لے رہا۔ ایک ہیجان برپا ہے جس کے تلے پوری قوم دب کر رہ گئی ہے اور ہم ڈھلوان پر لڑھک رہے ہیں۔ ایک عام آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ملک کی ایکسپورٹ اور امپورٹ میں توازن کیسے برقرار رکھا جائے اسے نہیں معلوم کہ افراط زر اور کساد بازاری کسے کہتے ہیں۔سٹاک ایکسچینج کے اعداد شمار کیا ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی قدر کیوں کھو بیٹھا ہے۔ وہ صرف یہ دیکھ رہا ہے کہ حکومت کے اقدامات سے اس کی زندگی میں سکھ اور سکون کے اعتبار سے کیا تبدیلی آئی ہے۔ نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کے لئے ملازمتوں کے کتنے مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ کوئی تو وجہ ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں سرپٹ دوڑتے ہوئے وطن عزیز سے نکل رہے ہیں۔ یہ کیسا معاشرہ ہے کہ جو آپ کے دل میں ہو وہ زبان پر نہیں لا سکتے۔ ایسا لگتا ہے ہم اندھیروں میں گم ہو رہے ہیں کیونکہ انصاف ہی معاشرے کو زندہ رکھنے کی بیسک ریالٹی ہے۔ میں سمجھتا ہوں فاطمہ بھٹو ضرور میدان میں آئیں، پنجہ آزمائی نہ کریں۔ لوگوں کے مسائل کو شدومد سے بیان کریں انہیں راستہ دکھائیں۔ امید دلائیں۔ لوگوں کے جذبات اور آرزوئوں کو پوری قوت سے بیان کریں۔ انا‘ غرور ،ضد اور ہٹ دھرمی کو اپنے قریب نہ بھٹکنے دیں۔ ایسے ہی جیسے شاید آپ کو یاد ہو اپنے والد کی ناگہانی وفات کے بعد آپ نے انگریزی زبان میں بے شمار اشعار کہے تھے جن میں دکھ بھی تھا خود کو حوصلہ دینے کی خواہش بھی اور صحیح کو درست کہنے کی جرات بھی۔ اس وقت یہ اشعار کتابی شکل میں آپ کی والدہ نے مجھے دیے تھے اور مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کا ترجمہ اخبار میں شائع کیا تھا جب میں اس کا کراچی کا ایڈیٹر تھا۔ سیاست میں آپ کی آمد ہوا کا تازہ جھونکا ہونی چاہیے۔ یہ بامقصد ہونی چاہیے بے مقصد نہیں۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو۔

https://www.youtube.com/watch?v=hQrgXHyloa0

https://www.youtube.com/watch?v=3TYKCHHyWLE

https://www.youtube.com/watch?v=Og1oCCN140c

https://www.youtube.com/watch?v=WQhlhKgdnoc

https://www.youtube.com/watch?v=zF992qgrdRg