عمر ایوب سے کہا تھا کہ ایل این جی پر کمیٹی بنا دیں، اس حکومت کے دواراکین ایل این جی سے مستفید ہوئے

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے کہا کہ آپ وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔ انکا کہنا ہے کہ مجھے تین گھنٹے تک بی کلاس میں رکھا گیا، جس سیل میں مجھے رکھا گیا وہاں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، مجھے تین گھنٹے تک بی کلاس میں رکھا گیا۔
انکا کہنا ہے کہ مجھے پیغام دیے گئے کہ آرام سے گھر بیٹھیں اور تکلیف نہ اٹھائیں، میں نے کہا کہ بطور وزیراعظم تمام ذمہ داری قبول کرتا ہوں، نیب نے مجھ سے ایک سوال آج تک نہیں کیا کہ ٹیکس دیتے ہیں کہ نہیں؟ انھوں نے کہا کہ کرپشن پکڑنے کا ایک طریقہ ہے کہ ٹیکس کتنا دیتے ہیں، عمران خان، عارف علوی اور کابینہ بھی اس سوال کا جواب دیں، میں نے نیب کی حقیقت دیکھ لی ہے، خواجہ آصف سمیت کسی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔
انکا کہنا ہے کہ میں نے عمر ایوب سے کہا تھا کہ ایل این جی پر کمیٹی بنا دیں، اس حکومت کے دواراکین ایل این جی سے مستفید ہوئے۔ واضع رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو ادیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔دونوں لیگی رہنماؤں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست جمع کروائی ہوئی تھی جس کے بعد گزشتہ روز کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک ایک کروڑ کے مچکلے جمع کروانے کے بعد دونوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔
ایل این جی ریفرنس میں گرفتار سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے مچکلے تحصیلدار سے تصدیق کے بعد احتساب عدالت میں پیش کر دیئے گئے تھے۔ شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے احتساب عدالت میں مچکلے پیش کئے جس کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جاری کر دی گئی تھی۔ شاہد خاقان عباسی کی روبکار احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے جاری کی تھی۔جبکہ دوسر ی جانب لیگی رہنما احسن اقبال کے وکیل نے ان کے ایک کروڑ کے مچکلے احتساب عدالت میں جمع کروائے تھے جس کے بعد جج محمد بشیر نے ان کی رہائی کی روبکار جاری کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں