آزاد کشمیر میں نیا سیاسی موڑ !!!

آزاد کشمیر میں نیا
سیاسی موڑ !!!

✍️ نعیم اختر

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے سیاسی موڑ پر کھڑی ہوچکی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ دورہ کشمیر محض ایک سیاسی وزٹ نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے یہ اعلان ہے کہ اب پیپلز پارٹی اس خطے میں محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پچھلے دنوں آزاد کشمیر میں کئی روز قیام کیا۔ مظفرآباد سے لے کر وادی کے علاقوں تک اُن کی سیاسی سرگرمیوں نے وہاں کی فضا بدل کر رکھ دی ان کے جلسے، پارٹی اجلاس سینئر قیادت سے مشاورتیں اور عوامی رابطہ مہم اس امر کا مظہر ہیں کہ پیپلز پارٹی نے اب کشمیر کو اپنی عملی سیاست کا اگلا مرکز بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے قیام کے دوران نا صرف اتحادیوں سے ملاقاتیں کیں بلکہ اسمبلی کے اندر ممکنہ “ان ہاؤس تبدیلی” کے خدوخال بھی طے کیے جس کے نتیجے میں اطلاعات ہیں کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے جا رہی ہے حتمی فیصلہ صدر مملکت صدر آصف علی زرداری کریں گے پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر اسمبلی کی اکثریت کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے۔یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت شدید عوامی دباؤ اور داخلی انتشار کا شکار ہے وزیراعظم آزاد کشمیر یقیناً ایک شریف النفس اور نیک نیت انسان ہیں لیکن ان کی وزارتِ عظمیٰ ایک غیر سیاسی تجربہ ثابت ہوئی نا وہ کسی مضبوط جماعت کے نمائندہ ہیں نا ان کے پاس وسیع عوامی مینڈیٹ ہے ایسے شخص کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانا دراصل ایک ایسی سیاسی مہم جوئی تھی جس کا انجام آج عوامی
بے چینی اور سیاسی خلفشار کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔یہ بات درست ہے کہ اگر ماضی میں سردار تنویر الیاس کی حکومت کو محض اصلاحاتی عمل کے ذریعے مضبوط کیا جاتا اور سیاسی انجینئرنگ سے گریز کیا جاتا تو شاید حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ کشمیر کی سیاست میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ بیرونی ترجیحات اور عجلت میں کیے گئے فیصلے عوامی نمائندگی کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوامی اعتماد بتدریج ختم ہوتا جاتا ہے اور اقتدار کی کرسی ایک کھیل تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔اب جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر میں “ڈیرے” ڈال دیے ہیں تو یہ بات کسی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ پیپلز پارٹی خطے میں اپنی حکومت کے قیام کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکی ہے ان کا یہ قیام محض وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المیعاد حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھ چکی ہے کہ کشمیر کی آئندہ سیاست کا فیصلہ اب میدان میں عوامی موجودگی اور سیاسی قوت کے اظہار سے ہی ممکن ہے محض اسمبلی کے اندر سے نہیں یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو خود عوام کے درمیان گئے، ان کے مسائل سنے اور پارٹی کو متحرک کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں دوسری جانب آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت کے لیے یہ حالات کسی سیاسی زلزلے سے کم نہیں اقتدار کے ایوانوں میں خوف و بے یقینی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں وزارتیں اور عہدے وقتی آسائش بن چکے ہیں جبکہ عوامی اعتماد بری طرح متزلزل ہے اب جب کہ پیپلز پارٹی اپنی قوت منوانے کے لیے صف بند ہو چکی ہے دیگر جماعتوں کے پاس یا تو مفاہمت کا راستہ باقی ہے یا مکمل پسپائی تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کا حکومت سازی کا فیصلہ تاخیر کا شکار رہا اگر یہی عمل پہلے کیا جاتا تو اس کی افادیت اور عوامی تاثر کہیں زیادہ ہوتا اب حالات کسی حد تک بگڑ چکے ہیں اور اس تبدیلی کے اثرات بھی محدود رہنے کا اندیشہ ہے لیکن سیاست امکانات کا کھیل ہے اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ موقع اب بھی “نیا آغاز” ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اسے محض اقتدار کی تبدیلی کے بجائے عوامی بھلائی، گورننس کی بہتری اور شفاف قیادت کے لیے استعمال کرے۔آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے نظریاتی تسلسل کی علامت ہیں ان کی سرزمین پاکستان کے بیانیے اور کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کا بیس کیمپ کہلاتی ہے اس بیس کیمپ کو سیاسی کھینچا تانیوں اور ذاتی مفادات کی نذر کر دینا ایک خطرناک عمل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں کی سیاست کو قومی مفاد اور خطے کی استحکام سے جوڑا جائے،اختلافات اپنی جگہ مگر کشمیریوں کا پاکستان سے تعلق ان کا جذبہ، وفاداری اور آزادی کی جدوجہد کے لیے اُن کا عزم کسی طور کمزور نہیں ہونا چاہیے۔اگر سیاسی قیادت نے اب بھی ماضی سے سبق نہ سیکھا تو عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
وقت آگیا ہے کہ آزاد کشمیر کے فیصلے مظفرآباد کے عوام کی امنگوں سے طے ہوں نہ کہ اسلام آباد کے دفتروں میں۔
آزاد کشمیر میں آنے والے دنوں میں جو کچھ ہونے والا ہے وہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی منظرنامے کی ازسرِنو تشکیل ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا دورہ اور پیپلز پارٹی کی حکمتِ عملی اس خطے میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔فرق صرف اتنا ہوگا کہ یہ باب عوامی خدمت سے لکھا جاتا ہے یا محض اقتدار کے کھیل سے، فیصلہ وقت کرے گا وقت ہمیں بتا رہا ہے کہ کشمیر میں سیاست کا موسم بدلنے کو ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=hQrgXHyloa0

https://www.youtube.com/watch?v=3TYKCHHyWLE

https://www.youtube.com/watch?v=Og1oCCN140c

https://www.youtube.com/watch?v=WQhlhKgdnoc

https://www.youtube.com/watch?v=zF992qgrdRg