توہم پرستی عام طور پر کم علم افراد سے جوڑی جاتی ہے، جیسے کالی بلی کا راستہ کاٹ جانا، آنکھ پھڑکنا یا جادوئی برتنوں پر یقین رکھنا۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی کبھی کبھار ایسے خرافات کا شکار بن جاتے ہیں۔
بھارت میں ایک انوکھی واردات کے دوران حیدرآباد دکن کی ایک لیڈی ڈاکٹر پرینکا رقم دگنی کرنے والی مبینہ “جادوئی ہانڈی” کے جھانسے میں آ کر کروڑوں روپے گنوا بیٹھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تین نوسربازوں نے ڈاکٹر پرینکا کو یقین دلایا کہ ان کے پاس ایسا برتن ہے جس میں رقم رکھنے سے وہ خودبخود دوگنی ہو جاتی ہے۔ سائنس کی تعلیم یافتہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر لالچ میں آ کر یہ ہانڈی خریدنے پر رضامند ہو گئیں اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ بھارتی روپے (تقریباً پانچ کروڑ پاکستانی روپے) ملزمان کے حوالے کر دیے۔
ملزمان نے وعدہ کیا کہ وہ چند دنوں میں ہانڈی فراہم کر دیں گے، تاہم چھ ماہ گزر جانے کے باوجود جب جادوئی برتن نہ ملا تو ڈاکٹر کو دھوکے کا احساس ہوا اور انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ان کے قبضے سے صرف دو لاکھ بیالیس ہزار روپے اور ایک کار برآمد ہوئی۔























