پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے انسانی تہذیب اور ثقافت کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ یہ محض ایک مشین نہیں تھی، بلکہ علم اور معلومات کے پھیلاؤ کا انقلاب تھی، جس نے سماجی، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں گہرے اثرات ڈالے۔
پاکستان میں پرنٹنگ پریس کی ابتدا ایک طویل اور دلچسپ سفر کی داستان ہے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون روڈ پر سال 1843 میں پہلا پرنٹنگ پریس قائم ہوا۔ آج وہی عمارت ایک میوزیم میں تبدیل کر دی گئی ہے، جہاں قدیم اور نایاب پرنٹنگ مشینیں محفوظ ہیں۔
اس میوزیم میں گورنر ہاؤس کے قریب قائم ایشیا کے پہلے پرنٹنگ پریس عجائب گھر میں طباعت کے مختلف ادوار کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہاں رکھی مشینیں صرف پرانی نہیں، بلکہ ان میں ابھی بھی وہ کارآمد قابلیت موجود ہے کہ اگر چاہا جائے تو انہیں آج بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
میوزیم میں 1830 سے 1954 تک کی نایاب پرنٹنگ مشینیں اپنی اصل حالت میں رکھی گئی ہیں۔ ہر مشین کی ایک کہانی ہے، جو پرنٹنگ کی دنیا میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر، 175 سال کے دوران استعمال ہونے والی 56 مشینیں پہلی بار محفوظ کر کے عوام کے لیے پیش کی گئی ہیں۔
تقریباً 20 ہزار مربع فٹ کے ہال میں مختلف ادوار کی مشینوں اور ریکارڈز کے لیے علیحدہ سیکشن بنایا گیا ہے، تاکہ شائقین پرنٹنگ کی قدیم دنیا سے جدید دور تک کے سفر کو قریب سے دیکھ سکیں۔
عجائب گھر میں یوہانس گوٹنبرگ کا مجسمہ بھی موجود ہے، جنہیں پرنٹنگ مشین کا موجد مانا جاتا ہے۔ یورپ میں کتابوں کی چھپائی میں انقلاب اسی ایجاد کے بعد آیا۔
جنوبی ایشیا میں طباعت کا آغاز اگرچہ پرتگالیوں نے سولہویں صدی کے وسط میں کیا، لیکن بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے خطے میں پرنٹنگ پریس کے جال کو پھیلا دیا، جس نے علم کے پھیلاؤ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
یہ میوزیم نہ صرف پرانی مشینوں کا خزانہ ہے، بلکہ ایک تعلیمی سفر بھی ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے ایک چھوٹی سی ایجاد نے انسانی تہذیب کے افق کو بدل کر رکھ دیا۔























