برطانوی پارلیمنٹ میں 17 ہویں صدی کا خفیہ دروازہ دریافت

برطانوی دارالعوام میں 350 سال پُرانا خفیہ دروازہ دریافت ہوا ہے۔

اس دروازے سے ماضی کی عظیم شخصیات گزری ہوں گی جن میں 17 ہویں صدی میں رکن پارلیمنٹ رہنے والے سیموئل پیپس اور برطانیہ کے پہلے باضابطہ وزیراعظم رابرٹ والپول بھی شامل ہیں
یہ خفیہ راہداری پارلیمنٹ میں جاری تزئین و آرائش کے کام کے دوران دریافت ہوئی، پارلیمنٹ کی تزئین و آرائش پر تقریباً 4 ارب پاؤنڈ کے اخراجات آئیں گے۔

اس دروازے کی اصل بنیاد 1660 میں برطانوی بادشاہ چارلس دوم کی تاج پوشی کی تقریب کے لیے رکھی گئی تھی تاکہ نئے بادشاہ کے جشن کی تقریب میں مہمان اس دروازے کے ذریعے شریک ہوسکیں۔

بعد میں پارلیمنٹ کے ارکان نے اس دروازے کو دارالعوام میں آنے جانے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ اس وقت ویسٹ منسٹر پیلس میں موجود تھا لیکن 19 ویں صدی میں لگنے والی آگ نے پوری عمارت کو جلادیا تھا تاہم صرف وہ حصہ ہی آگ سے محفوظ رہا تھا جہاں یہ دروازہ دریافت ہوا ہے
پارلیمنٹ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو اس حصے کو بھی پارلیمنٹ میں شامل کرلیا گیا لیکن گزشتہ 70 برسوں کے دوران یہ دروازہ نظروں سے اوجھل رہا اور لکڑی کے تختوں کے پیچھے چھپا رہا جبکہ اس سے متصل جگہ پر لیبر پارٹی کے دفاتر بھی موجود رہے۔

برطانوی دارالعوام کے اسپیکر لنزے ہوئل کا کہنا تھا کہ یہ ناقابلِ یقین بات لگتی ہے کہ ماضی کے بڑے بڑے لوگ اس میں چلتے پھرتے رہے ہیں، مجھے اپنے عملے پر فخر ہے جنہوں نے یہ دروازہ دریافت کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں