اسٹیڈیم کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے

یاسمین طہٰ
پی ایس ایل کے کراچی میں انعقاد سے کراچی کے عوام ایک بار پھر شدید اذیت کا شکار ہیں۔شہر بھر میں شدید ٹریفک جام نظر آرہا ہے۔اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکوں کی بندش نے قرب و جوار میں رہنے والے رہائشیوں کا گھر سے نکلنا دوبھر کردیا ہے۔اسٹیڈیم کا اطراف ہی نہیں پورا شہر اس ٹورنامینٹ سے متاثر ہے لیکن سندھ حکومت نے سیکیور سٹی،سیکیور کرکٹ کے بینر لگاکر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔اور شہریوں کی پریشانی کا کوئی خیال نہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ اسٹیڈیم کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔دنیا کوکراچی کا بہتر امیج پیش کرنے کے لئے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔گذشتہ ہفتے دو سیاسی جماعتوں کے رہنما انتقال کر گئے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کی عمران خان سے طویل رفاقت تھی ۔ مرحوم اپنے لیڈر کی خاطر آخری وقت تک ڈھال بنے رہے،عوام کو یقین تھا کہ عمران ان کے جنازے پر کراچی ضرور آئیں گے،لیکن عمران خان نے نمازہ جنازہ میں شرکت نہ کر کے سیاست دانوں کی روایتی بے حسی کا ثبوت دیا ۔اور سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر پیغام ڈال کے بری الذمہ ہوگئے، وزیر اعظم نے کہا کہ نعیم الحق کا شمار ان 10لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور میرے ساتھ سب سے زیادہ وفادار رہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی 23سالہ جدوجہد میں وہ میرے ساتھ کھڑے رہے۔ اپنی جدوجہد کے دوران جب ہم مایوس ہو جاتے نعیم الحق ہمیں سپورٹ کرتے۔آخری وقت تک نعیم الحق پارٹی امور میں سرگرم رہے۔اس کے باوجود کپتان اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر ان کے جنازے پر کراچی نہ آسکے۔بلکہ مبینہ طور پر انھیں زبردستی علاج کے لئے کراچی بھجوایا گیا۔گاؤں مراد کھوکھر میں نوشہروفیروز سے خواتین کی نشست پر منتخب پی پی پی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کو زمینی تکرار پر مبینہ قاتل وقار کھوکھر نے پستول سے فائرنگ کرکے قتل کردیاگیا،مرحومہ بھی اپنی پارٹی کی وفادار اور قیادت سے مخلص تھی لیکن ان کے جنازے میں بھی پارٹی قیادت نے شرکت نہ کی،یہ قیادت اندرون سندھ ضمنی انتخابات کے لئے تو وقت نکال سکتی ہے،لیکن پارٹی کے وفاداروں کا جنازہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے شہر محراب پور میں ایک سندھی روزنامے کے مقامی رپورٹرعزیز میمن کو مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا گیا۔وہ سیاست، انسانی حقوق اورعوامی مسائل پر رپورٹنگ کرتے تھے۔مارچ 2019 میں ایک رپورٹ پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔جس میں عزیز میمن نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ٹرین مارچ کے دوران محراب پور میں استقبال کے لیے آنے والوں کو کرائے پر لایا گیا تھا۔ عزیز میمن دھمکیاں دینے والوں کے خلاف شکایات لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی گئے تھے لیکن ان کی فریاد نہ سنی گئی۔ اس پر انہوں نے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا لیکن ان کے خدشات کے باوجود بھی انہیں تحفظ نہ مل سکا۔سندھ حکومت نے قاتلوں اور قتل میں معاونت کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اس قتل کی پی پی پی نے شدید مذمت کی ہے اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کلیم امام اور کو تنقید کا نشانہ بناکرعوام کی توجہ اس رپورٹ سے ہٹانے کی کوشش کی ہے جس میں ٹرین مارچ کی کوریج کے بعد مرحوم صحافی کو دھمکیاں دی گئی تھی۔کراچی کے مصائب کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔بارشوں کے خاتمے کے بعد گیس بحران کا شکار شہریوں پر ایک نئی آفت گیس اخراج کی صورت میں نازل ہوگئی ہے جو حسب معمول حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔اور اب تک کیماڑی میں گیس اخراج سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد کا تعین نہیں ہوسکا۔ محکمہ صحت سندھ نے 14افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جبکہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 19 تک جا پہنچی ہے کیماڑی کے واقعے پر جامعہ کراچی کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق واقعہ سویابین ڈسٹ کی وجہ سے پیش آیا ہے۔رپورٹ کے پیش نظر بندرگاہ پر سویابین لوڈ کرنے کے لیے لنگر انداز امریکی جہاز ’ہرکولیس‘ کو پورٹ قاسم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم سمندر کی سطح آب کم ہونے پر جہاز کی روانگی فی الحال روک دی گئی ہے۔ آئندہ کے لیے سویابین کو کراچی بندرگاہ پر آف لوڈنگ سے بھی منع کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو معاملات کی مزید چھان بین کرے گی۔دریں  اثناء محکمہ قرنطینہ نے امریکی سویابین کو محفوظ قرار دیتے ہوئے زہریلی گیس کے پھیلا ؤکا سبب بننے کا امکان مسترد کردیا۔ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن کا کہنا ہے کہ سویابین میں کسی قسم کے حشرات یا مضر گیس کے اثرات نہیں ملے، قرنطینہ عملے نے ہرکولیس جہاز پر جاکر امریکا سے درآمدی سویا بین کا تجزیہ کیا اور قرنطینہ جانچ کی، تاہم اس کے نمونوں میں کسی قسم کے زرعی حشرات نہیں پائے گئے۔ پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سویابین کارگو سے جان لیوا زہریلی گیس کے اخراج کی پرزور تردید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ یہ بات قابل غور ہے کہ سویابین کارگو کے جہاز پر کم و بیش 600مزدوروں نے کا م کیا مگر کوئی ایک بھی اس دوران زہریلی گیس سے متاثر نہیں ہوا۔پچھلے کئی سالوں سے یہی کارگو کراچی بندرگاہ میں آتا رہا ہے آج تک کوئی ایک بھی اس نوعیت کا واقعہ رونما نہیں ہوا،سویابین کھانے کا تیل بنانے کیلئے امپورٹ کیا جاتا ہے جو کہ زرعی جنس ہے اور یہ کسی بھی قسم کی کیمیائی اثرات سے پاک ہے۔جب کہ حکومت سندھ نے کراچی کے علاقے کیماڑی میں سانس کی تکلیف سے ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی بیماری کی وجہ ’سویا ڈسٹ‘ کو قرار دیا ہے۔ محکمہ صحت نے ایک ایڈوائزری میں اس کی تصدیق کی ہے۔ انٹرنینشل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنس کی رپورٹ کے مطابق 80 فیصد لوگوں میں سویا ڈسٹ الرجی پائی گئی ہے۔ادھر اہلکاروں کے مطابق، مریضوں کے مختلف ٹیسٹ اور ہلاک ہونے والے شہریوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹوں سے گیس کاسراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق الپائن شپنگ کمپنی کا جہاز سویابین لے کر کراچی آیا۔ ایک ماہ قبل ہرکولیس نامی جہاز پر سویابین لوڈ کیا گیا۔جہاز میں موجود سویابین میں کیڑا لگا ہوا تھا۔محکمہ پلانٹ پروٹیکشن نے مبینہ طور پر رشوت لے کر جہاز لنگر انداز کرایا۔ جہاز لنگر انداز ہونے سے قبل تھرڈ پارٹی سروئیر سے کھلے سمندر میں جہاز کا معائنہ نہیں کرایا گیا۔فیومیگیشن کرنے کے لئے کنٹینر کی سیلیں توڑی گئیں۔کیڑا لگی ہوئی سویابین پر پیسٹی سائیڈ اسپرے کرایا گیا۔اسپرے کرنے کے 12 گھنٹے بعد ہی کنٹینر کھول دئیے گئے۔ کنٹینر وقت سے قبل کھولے جانے کے باعث زہریلی گیس پھیلی۔ جب کہ فیومیگیشن کرنے والا شخص بھی واقعہ میں جاں بحق ہوچکا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مذکورہ جہاز تحویل میں لے لیا ہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری اور بیالوجی اور سائینس اینڈ ٹیکنولوجی کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بھی سویابین ڈسٹ کی تصدیق کردی تھی ۔اور اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس سانحہ کی وجہ سویا بین ڈسٹ ہی ہے۔ اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے سویابین ڈسٹ سے اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی بڑی تعداد ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔گذشتہ چھہ ماہ سے کراچی کے شہری کتوں کا شکار ہورہے ہیں اور ان سندھ حکومت کو ہوش آیا ہے سندھ حکومت نے کراچی میں 15 لاکھ آوارہ کتوں کی نس بندی اور ٹیکے لگانے کیلئے 97 کروڑ روپے کی رقم مختص کردی ہے مگر ان کتوں کا ریکارڈ کا کوئی نظام متعارف نہیں کیا۔سندھ حکومت نے کتوں کی نس بندی کیلئے محکمہ بلدیات کو 97 کروڑ روپے بجٹ دیا ہے جس کے تحت رواں 2 لاکھ 50 ہزار کتوں کی نس بندی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ آخر تصدیق کیسے ہوگی کہ کتوں کی نس بندی ہوئی اور ٹیکے لگے ہیں۔اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ یہ رقم واقعی کتوں کی نس بندی پر خرچ کی جائے گی،کیوں کہ سندھ حکومت کا ماضی کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں