مقبول بٹ شہید کی قربانی رایٗیگاں نہیں جائیگی۔ کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔

مقبول بٹ شہید کی قربانی رایٗیگاں نہیں جائیگی۔ کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ۱۱ فروری کو سرکاری سطح پر منانے اور عام تعطیل کے اعلان کیساتھ ساتھ مقبول بٹ کی تصویر دوسرے راہنماوٗں کی تصاویر کیساتھ حکومتی دفاتر میں لگنی چاہیے کیونکہ وہ کشمیری قوم کا ہیرو اور شہید کشمیر ہے. ان خیالات کا اظہار مقررین نے جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز کی طرف سیمقبول بٹ شہید کی برسی کے حوالے سے جدہ کے مقامی ریسٹورنٹ میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شکیل احمد مجاہد تھے اور صدارت جے کے سی او کے چیٗرمین سردار اشفاق نے کی۔ تقریب کی نظامت سردار وقاص نے کی۔
مقررین نے کہا کہ مقبول بٹ نے جس نظریے کا پرچار کیا آج اس کی گونج کشمیر کیساتھ ساتھ دینا کے ہر کونے میں پہنچ چکی ہے۔ مقبول بٹ شہید کی قربانی رایٗیگاں نہیں جایٗے گی۔ کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔ ۱۱ فروری کی سرکاری سطح پر منانے اور عام تعطیل کا اعلان کیساتھ ساتھ مقبول بٹ کی تصویر دوسرے راہنماوٗں کی تصاویر کیساتھ حکومتی دفاتر میں لگنی چاہیٗے۔ کشمیر کے اندر ہونے والے مظالم پر اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیٗے۔ کشمیری اپنی آزادی کے لیے ہر قربانی دیتے آرہے ہیں ان کی یہ قربانیاں ان کو اپنی آزادی کی منزل تک لیکر جایٗیں گی۔ مقبول بٹ کی جلائی گیٗ شمع اپنی منزل تک پہنچ کر دم لے گی۔ پاکستان کا اور کشمیریوں کا دشمن ایک ہے ہمیں سب سے پہلے اس دشمن سے چھٹکارا پانا ہوگا اس کے لیے ہمیں سب کو مل کر استصواب رائے کے حق کے لیے جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا ایک دفعہ بھارت سے جان چھوٹ جائے تو پاکستان اور کشمیری مل فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے کیسے رہنا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی کچھ مجبوریاں اور اس کا عدم استحکام تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوا ہے اس لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر مضبوط پاکستان کشمیر کی جلد آزادی کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔ جے کے سی اومقبول بٹ شہید اور دوسرے شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ ان قربانیوں کے طفیل کشمیر کو جلد از جلد آزادی کی نعمت سے مالا مال فرمائے.
تقریب سے جن راہنماوٰں نیخطاب کیا ان میں سردار آصف، ارشد بٹ، سردار غلام مصطفی خان، انجینیر عبدالصبور، چوہدری خورشید متیال شامل تھے۔
Amir-Mohammad-Khan-report-from-Jeddahتلاوت کلام پاک کی سعادت ارشد بٹ نے حاصل کی۔ تقریب کے آخر پر شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں