سندھ کے 20 تاریخی مقامات پر آثار قدیمہ کا کام جاری

سندھ کے 20 تاریخی مقامات پر آثار قدیمہ کا کام جاری

قدیم نوادرات سے آراستہ متعدد نئےمیوزیم فنکشنل ہو چکے ہیں ڈائریکٹر جنرل

سیاحوں اور محققین کو بہترین معلومات فراہم کرنا اولین فرض ہے منظور احمد قناصرو

کراچی(رپورٹ )محکمہ آثار قدیمہ ونوادرات سندھ کی تاریخی شناخت بحال کرنے کیلئے متحرک ہوگیا. سندھ کے 20 تاریخی مقامات پر آثار قدیمہ کی جانب سے کنزرویشن پرزرویشن اور ریسٹوریشن کا کام جاری ہے جبکہ قدیم نوادرات سے آراستہ متعدد نئےمیوزیم فنکشنل ہو چکے ہیں
ان خیالات کا اظہار محکمہ ثقافت و نوادرات کے ڈاٸریکٹر جنرل منظور احمد کناسرو نے اطالوی محققین سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس وقت چانہوں جو دڑو اور بھنبھور کی ساٸٹس کی ایکسکیویشن کا کام بھی چل رہا۔ جبکہ برہمن آباد کے تاریخی مقام کی بہت جلد کھداٸی کام شروع کیا جاۓگا۔ اس حوالے سے محکمہ ثقافت و نوادرات کے ڈاٸریکٹر جنرل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ کوئی بھی قوم اپنی ثقافت اور تہذیب سے کٹ کر دنیا میں اپنی پہچان قاٸم نہیں رکھ سکتی۔ سندھ ثقافت اور قدیم تہذیب کے حوالے سے اپنی جداگانہ پہچان رکھتا ہے ان کامزید کہنا تھا کہ اس وقت ہم سندھ کی تہزیب و ثقافت کو بچانے اور آنیوالی نسل کو ان قدیم اثاثوں سے روشناس کرانے کیلئےہمہ تن مصروف ہیں اس وقت 20 ساٸٹس پر کنزرویشن ریسٹوریشن اور پرزرویشن کا کام ہو رہا جن میں مین جاقبہ حیدرآباد. ستین جو آستان روہڑی۔ مکلی۔ چوکنڈی کا قبرستان ۔بھنبھور اور چاںہوں جو دڑو شامل ہیں جبکہ ہم نٸے عجائب گھر بھی قاٸم کر رہے ہیں جن میں ان قدیمی آثاروں سے ملنے والے نوادرات رکھے جاٸینگے۔ اس وقت جو نئےمیوزیم فنکشنل ہو چکے ہیں ان ميں مکلی میوزیم ٹھٹھہ۔ مکھی ہاؤس میوزیم حیدرآباد۔ آرٹ ایڈ کرافٹس میوزیم سیوہن۔ آمری آرکیالوجیکل میوزیم اور اسٹیٹ میوزیم خیرپور شامل ہیں اور کچھ عجائب گھروں کی عمارتوں کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے ہماری کوشش ہیکہ سیاحوں اور محققین کو بہترین معلومات و سہولت فراہم کرے تاکہ ہم وطن عزیز اور سندھ کا مثبت چہرہ دنیا کا سامنے لاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں