صحافی کا قتل۔۔

تحریر: ڈاکٹر توصیف احمد خان۔۔

عزیز میمن کی نوشہرو فیروز کے مضافاتی علاقے سے لاش مل گئی۔ انھوں نے اپنے قتل سے قبل ایک وڈیو کے ذریعہ ارباب اختیار سے التجاء کی تھی کہ ان کی جان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ عزیز میمن کی ایک رپورٹ سندھی زبان کے چینل سے نشر ہوئی تھی جس کے بعد انھیں قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

پولیس ان کی جان کا تحفظ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی،لہذا ان کی التجاء پرکسی نے توجہ نہیں دی۔ عزیز میمن کی لاش ملنے کے بعد پولیس کے دو تھانوں میں حدود کا جھگڑا پیدا ہوا اور ایف آئی آر درج نہ ہوسکی۔ نوشہرو فیروز کے ایس ایس پی کا دعویٰ تھا کہ پولیس عزیز میمن کے لواحقین کے انتظار میں ہے۔ مقتول کے بھائی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔حکومتی اراکین نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ اس صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس تجویز کو صوبائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا، یوں قومی اسمبلی میں ایک مختصر ہنگامہ کے بعد یہ معاملہ ملتوی ہوا، جب کہ سندھ حکومت کے وزراء نے عزیز میمن کے لواحقین سے تعزیت کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

سندھ سمیت پورے ملک میں صحافیوں کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ نائن الیون کی دہشت گرد ی کے بعد امریکا اور اتحادی افواج نے افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تو دہشت گردی کی جنگ پشاور اورکوئٹہ سے ہوتی ہوئی کراچی اورگوادر تک پہنچ گئی۔ اس دہشت گردی کا بڑا نشانہ صحافی بنے۔ ان رپورٹوں کے مطابق امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغواء اور قتل کی جامع تحقیقات ہوئیں اور قتل کے الزام میں متعدد افرادگرفتار ہوئے۔ انھیں خصوصی عدالتوں نے سزائیں دیں ۔ اسی طرح کراچی کے صحافی ولی خان بابرکے قاتلوں کی تحقیقات سنجیدہ انداز میں ہوئیں اور پولیس نے اس صحافی کے قتل میں ملوث ملزمان کوگرفتارکیا، ملزمان کو عدالت سے سزائیں ہوئیں۔کراچی کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ولی خان بابرکے بھائی نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بھرپورکوشش کی۔ باقی بیشتر قتل ہونے والے صحافیوں کے قاتلوں کو پولیس تلاش نہ کرسکی۔

گزشتہ ہفتہ ضلع نوشہرو فیروزکے ملحقہ گوٹھ میں صوبائی اسمبلی کی رکن شہناز انصاری کو قتل کر دیا گیا۔ شہناز انصاری نے بھی اعلیٰ حکام کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔شہناز انصاری سندھ کے پبلک سیفٹی کمیشن کی رکن تھیں مگر پولیس حکام نے شہناز انصاری کی عرض داشت پر توجہ دینا ضروری نہ سمجھا، یوں ایک اہل رکن اسمبلی کی جان چلی گئی۔معاملہ صرف ایک صحافی اور ایک منتخب رکن کے قتل تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے سندھ میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ کراچی کا کوئی بھی خاندان محفوظ نہیں ہے۔ شہرکے مختلف علاقوں میں کیمرے نصب ہیں، بعض اوقات یہ کیمرے کام نہیں کرتے۔ اگر ان کیمروں میں جرم کی فوٹیج محفوظ ہوتی ہے تو پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرتی۔

اس وقت سندھ پولیس ایک بحران سے گزرہی ہے۔ سندھ پولیس کے سربراہ ڈاکٹر کلیم امام کو سندھ کی حکومت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سندھ کی کابینہ ایک قرارداد کے ذریعہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کرچکی ہے کہ آئی جی کا تبادلہ کیا جائے اور سندھ کی فراہم کردہ فہرست میں سے کسی ایک افسر کو اس عہدے پر معمور کیا جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ایک ملاقات میں صوبائی حکومت کی تجویز پر اتفاق کیا تھا ، اس کے بعد سندھ حکومت کی درخواست کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا۔ کابینہ نے اس درخواست کو مؤخر کردیا اور ڈاکٹر کلیم امام دوبارہ اپنے عہدہ پر جم گئے۔

آئی جی نے وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے سیفٹی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی اور کرپٹ پولیس افسروں کی فہرست پیش کی اور یہ استدعا کی کہ حکومت سندھ ان بدعنوان افسروں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ سندھ کی پولیس کا معیار بہتر ہوسکے، مگر سندھ حکومت نے ابھی تک آئی جی کی عرضداشت پر غور نہیں کیا البتہ پولیس اور حکومت سندھ کے درمیان فاصلے بڑھنے سے پولیس کی کارکردگی پر منفی اثرات برآمد ہونے لگے۔ اگرچہ آئی جی سندھ کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی کی سفارش کے بغیر پولیس افسروں کے تبادلے کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔وفاقی حکومت کو اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے۔ ریٹائرڈ پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ صوبے کا انسپکٹر جنرل پولیس حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے تعاون کے بغیر اپاہج ہوجاتا ہے۔ اس کی زیر نگرانی کمانڈ انارکی کا شکار ہوتی ہے۔ پولیس افسران آئی جی اور سندھ کی حکومت دونوں کو خوش کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یوں مافیاز کو اپنا دائرہ اثر بڑھانے کا اچھا موقع مل جاتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر کلیم امام ایک ایماندار پولیس افسرکی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار پولیس سروس کے پروفیشنل افسران میں ہوتا ہے مگر جب صوبہ کی حکومت انھیں قبول نہیں کرنا چاہتی تو ڈاکٹر کلیم امام کو اپنے تبادلہ کی درخواست رضاکارانہ طور پر دینی چاہیے اور وفاقی حکومت کو حکومت کے پسندیدہ افسر کو آئی جی مقرر کرنا چاہیے تاکہ پولیس اور حکومت سندھ میں دوریاں ختم ہوں اور پولیس کو ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا کوئی جواز نہ مل سکے۔

ڈاکٹر امداد چانڈیو بین الاقوامی تعلقات کے استاد ہیں۔ نوجوانی میں کئی سال فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں جیلوں میں گزارے۔ ڈاکٹر امداد چانڈیو آج کل انسانی حقوق کی تنظیم HRCP کے حیدرآباد زون کے نگراں ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ عزیز میمن کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ ایک ایسے ادارہ کا قتل ہے جو آگہی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کو ان پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جنھوں نے عزیز میمن کی عرضداشت پر توجہ نہیں دی۔ ڈاکٹر امداد چانڈیو سندھ کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومتی جماعت اور اپوزیشن میں جاگیرداروں کی اجارہ داری ہے۔عزیز میمن کے قتل کی یہی وجہ ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں نے اسلام آباد میں عزیز میمن کے قتل کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں سابق وزیر اعظم پرویز اشرف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سندھ کی حکومت اس قتل کی تحقیقات کرائے گی۔ سندھ کی حکومت جتنی جلدی سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کی درخواست کرے گی اتنی جلدی اس کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہونگے ، صحافی کا قتل ایک ادارہ کا قتل ہے۔(بشکریہ ایکسپریس)۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں