20 سے زائد کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے تین اہم کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔
یہ انفلوئنسرز کروڑوں روپے کے اثاثوں، گاڑیوں، کثرت سے بیرون ملک سفر کرنے اور سوشل میڈیا پر پرتعیش طرز زندگی کی نمائش کر رہے ہیں مگر اپنی آمدن اور اثاثوں کو بہت کم ظاہر کرتے
لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل کے مطابق 20 سے زائد ایسے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے ، ایک کیس میں، ایک معروف ٹریول ولاگر نے 2020 سے 2025 کے دوران لگژری غیر ملکی سفر کی دستاویزات شیئر کیں، جن میں سیشلز، دبئی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے دورے شامل تھے۔ اس کے باوجود، اسی عرصے میں اس انفلوئنسر نے اپنی سالانہ آمدن ایک ملین روپے سے کم ظاہر کی، جس نے پوشیدہ آمدن کے حوالے سے سنگین شبہات پیدا کیے۔
ایف بی آر کے مطابق اس انفلوئنسر کے مالیاتی گوشواروں میں پانچ سال کے دوران صرف 4 لاکھ 90 ہزار 800 روپے سے 8 لاکھ 16 ہزار 800 روپے تک کی آمدن ظاہر کی گئی، جو سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے طرزِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نے ممکنہ طور پر برانڈ کولیبوریشنز، اسپانسرشپس، اور مواد کی مونیٹائزیشن سے حاصل ہونے والی آمدن چھپائی۔
==========

=============
ایک اور کیس میں تفتیش کاروں نے جنوبی پنجاب کے ایک سیاسی خاندان کے فرد کے ساتھ منسلک 18 کروڑ 5 لاکھ روپے کے پوشیدہ اثاثوں کا پتہ لگایا، جن میں لگژری گاڑیاں جیسے <>Lexus LX 570، BMW i7، اور Suzuki Hayabusa شامل تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی گاڑی ان کے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئی تھی۔
تیسرے کیس میں ایک ٹیکس دہندہ کے پاس 19 قیمتی گاڑیاں پائی گئیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 62 کروڑ 40 لاکھ روپے تھی، جن میں ٹویوٹا لینڈ کروزر، لینڈ روور اور شیورلیٹ شامل تھیں مگر یہ سب اثاثے سرکاری ریکارڈ سے غائب تھے۔
===========
==============
courtesy hum news urdu























