کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد کراچی کے میڈیکل سٹورز سے ماسک غائب چھ پاکستانی کمپنیوں نے 36 لاکھ ماسک چین برآمد کئے

کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد کراچی کے میڈیکل سٹورز سے ماسک غائب ہو گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی تصدیق سے قبل ماسک کا ایک ڈبہ 300 سے 400 میں فروخت ہو رہا تھا جس کی قیمت اب ہزاروں روپے میں لی جا رہی ہے۔ زیادہ قیمت این 95 ماسک کی بڑھی ہے تاہم قیمت میں اضافہ کے باوجود ماسک مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔
حکومت پاکستان نے چھ کمپنیوں کو ماسک چین برآمد کرنے کی اجازت دی ہے جو اب تک 36 لاکھ سے زائد ماسک چین بھیج چکے ہیں۔ تاہم روشنیوں کے شہر کراچی میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ماسک میڈیکل سٹورز سے غائب ہو گئے ہیں۔ واضح رہے ایک ہی دن میں پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کرتا ہوں، دونوں مریضوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انکا علاج جاری ہے
انھوں نے کہا کہ دونوں مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور حالات قابو میں ہیں۔ انکا مزید کہنا ہے کہ تمام ترحالات قابو میں ہیں، میں تافتان سے واپسی پر اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کرونگا۔

واضع رہے کہ اس سے قبل کراچی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت سندھ کا کہنا تھا کہ مریض کی شناخت 22 سالہ یحییٰ جعفری کے نام سے ہوئی ہے جس کو علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔
بتایا گیا تھا کہ یحییٰ جعفری ایران سے بس کے ذریعے پاکستان پہنچا تھا اور اسکے ساتھ اہل خانہ بھی موجود تھے جنکا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالےسے ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر مبین کا کہنا تھا کہ مذکورہ مریض کو فوری طورپر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں