کورونا وائرس : 23 ممالک کے سائنسدان کراچی میں سر جوڑیں گے

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ دنیا کے 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے سائنسدان دو مارچ کو کراچی میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور کورونا وائرس کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔’ ٹوئٹر‘ پرجاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی تعاون کے ذریعے ہی اس بڑے چیلنج کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی وفاقی وزارت صحت نے کورونا وائرس کے ممکنہ اثرات سے متاثرہ افراد کے حوالے سے ماہ رواں کے آغاز میں باقاعدہ رپورٹنگ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔—-چیئرمین پاکستان ریڈ کریسنٹ ابرار الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ایسے کیمیکلز ہی موجود نہیں ہیں جن کے ذریعے کرونا وائرس کی تشخیص کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں کہ وہ ہمیں بھی ایسے کیمیکل مہیا کرے جن کی مدد سے مرض کی تشخیص ممکن ہو۔ انہوں ںے کہا کہ پڑوسی ملک میں جان لیوا انتہائی خطرناک کرونا وائرس سے متعدد اموات ہوچکی ہیں جب کہ ہزاروں اس سے متاثر ہیں۔
ابرارالحق نے کرونا وائرس کی ہولناکی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی دوا موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اس حوالے سے پاکستان میں خصوصی انتظامات کررہی ہے۔پاکستان نے چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے جان لیوا کرونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ قومی ادارے صحت کی محنت کے نتیجے میں پاکستان نے کرونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس کامیابی پر قومی ادارہ صحت کی قیادت اور ٹیم کو سخت محنت پر داد دیتا ہوں۔

یاد رہے گزشتہ روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ملک بھر سے آنے والے مشتبہ نمونوں کی تصدیق قومی ادارہ صحت اسلام آباد کریگا۔ سندھ میں آغا خان اسپتال اور پنجاب میں شوکت خانم اسپتال میں بھی کرونا وائرس کے نمونوں کی تشخص کی جائیں گیں۔
انہوں نے کہا کہ 14 وائرسز کی تصدیق کے لیے پاکستان میں کٹیں موجود ہیں۔ کرونا کی فیملی سے چار امراض کی تصدیق بھی ہم کر سکتے ہیں۔ کچھ نمونے ہم نے بیرون ممالک تصدیق کے لیے بھجوائے ہیںاس وقت چین اور ایران سمیت دنیا کے 30 ممالک اس وبا کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو ٹریس کرنے کے لیے ان کے نمبر اور نام لے رہے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ تفتان بارڈد پر جائیں گے۔
ایک سوال پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن افراد میں علامات پائی گئی ہیں ان کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں