پاکستان نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنے ہوائی اڈوں اور سرحدی راستوں پر سکریننگ کا عمل مزید سخت کر دیا ہے

اس وقت 300 کے قریب پاکستانی پاک ایران سرحد پر موجود پاکستان ہاؤس میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں موجود ہیں۔ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ 14 دن سے پہلے یہاں سے نہیں نکل سکتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ہال ان کے لیے قید خانہ بن چکا ہے۔
ہزاروں زائرین ایران میں بھی موجود ہیں تاہم سرحد سیل کر دی گئی ہے۔ یوں نہ صرف زائرین بلکہ کاروباری افراد اور ڈرائیور بھی سرحد کے اس پار پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر تفتان نےکو بتایا کہ ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کی واپسی کی درخواست کی تھی جس کے نتیجے میں 307 ایرانی شہریوں کو سرحد پار جانے دیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس جانب سے کوئی اور پاکستانی ملک نہیں لوٹا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی آئے گا اسے قرنطینہ میں 14 دن گزارنے ہوں گے۔
خیال رہے کہ بہت سے پاکستانی زائرین ایران سے آگے شام، عراق اور سعودی عرب بھی جاتے ہیں۔ یہ زائرین اس وقت کوئٹہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔
یہ پاک ایران سرحد پر زائرین کے لیے موجود پاکستان ہاؤس ہے جسے 2017 میں بنایا گیا تھا۔ اس عمارت میں وسیع ہال ہیں لیکن اس وقت اس کے مرکزی گیٹ کو بند کر دیا گیا ہے اور اسے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان ہاؤس میں موجود ایک قافلے کے سالار اور ان کے ساتھ موجود زائر نے اندر کی صورتحال اور مسائل سے آگاہ کیا۔ جسے انھیں کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہم اس وقت ایسے ہی ہیں جیسے ایک جیل میں ہیں۔ انھوں نے باہر تالا لگا رکھا ہے ہم باہر نہیں جا سکتے نہ ہی کوئی اندر آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر آئیں گے آپ کو چیک کریں گے کھانا آپ کو یہیں ملے گا۔
حالانکہ کہ پہلے جب ہماری سکریننگ ہوئی تو انھوں نے کہا تھا کہ آپ میں سے کسی میں بھی کرونا وائرس کی علامات نہیں ہیں۔
ہم 23 جنوری کو گھر سے نکلے تھے پھر تفتان سرحد کراس کر کے قم میں گئے پھر کربلا گئے پھر شام سے واپس مشہد لوٹے۔ ہم 19 فروری کو واپس پاک ایران سرحد پر تفتان پہنچے۔
یہاں تین سو لوگ اکھٹے ہو چکے ہیں جن میں دو بچے اور تقریباً سو کے قریب خواتین ہیں۔ ایران میں تو ہمیں کسی نے کچھ نہیں بتایا ہم یہاں پہنچے تو ہماری تیاری تھی اگلی صبح گھر واپسی کا سوچ رکھا تھا۔
یہاں سرحدی حکام نے ہمیں کہا کہ آپ کو ایک دو دن میں یہاں سے نکالا جائے گا لیکن پھر انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم آئے گی آپ کو چیک کرے گی ابھی وائرس آیا ہوا ہے۔ آپ کو جانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔
ڈاکٹرز کی ٹیم تو نہیں آئی ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے ہماری سکریننگ کی۔ پھر کہا کہ ابھی آپ کو 14 دن ادھر ہی رہنا ہے۔
پھر حکام نے ہمیں کہا کہ پاکستان ہاؤس کے باہر ڈاکٹر موجود ہیں وہ آپ کو دیکھنے آئیں گے۔ مگر ابھی تک تو کوئی نہیں آیا۔
انھوں نے باہر (ٹینٹ) لگائے ہیں ان میں دو دو بیڈ بھی لگائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر زائرین میں سے کوئی بیمار ہوا تو اسے وہاں شفٹ کیا جائے گا۔
ابھی یہاں ایک خاتون دل کی مریضہ ہیں۔ ایک اور مریض کی ٹانگ سوج رہی تھی انھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو ڈاکٹر نے چھ سات فٹ دور سے انھیں دیکھا اور دوا ان کی جانب دور سے پھینک دی۔ یہ کوئی طریقہ علاج تو نہیں ہے۔

دوسرا مریض ابھی بھی دوا کا منتظر ہے۔
انھوں نے ہم میں سے کسی کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک ماسک تک نہیں دیا۔
یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ 100 کے قریب زائرین کو یہاں سے نکال دیا گیا ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
پہلے دو تین دن تو ہم اپنے پیسوں سے کھانا خرید رہے تھے لیکن پھر کل سے انھوں نے مفت میں کھانا دینا شروع کیا ہے۔
یہاں سردی کی شدت تو نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم 14 دن یہاں کیسے رہیں گے؟
یہاں ہال موجود ہیں جن میں کارپٹ بچھی ہوئی ہے اور ہم اس پر بستر لگا کر سوتے ہیں۔ بستر ہم نے 50 روپے روزانہ کرائے پر لیے ہوئے ہیں۔
ہمیں وضو کرنے میں پریشانی ہے اور نہانے کا تو ہم سوچ نہیں سکتے کہ بیمار ہی نہ ہو جائیں۔
ابھی یہاں جتنے بھی لوگ موجود ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ہاں ایک دن یہاں زائرین نے شور مچایا احتجاج کیا تھا کہ جانے دیا جائے۔
ابھی ہم نے کوئٹہ کا سفر `10 سے بارہ گھنٹے میں طے کرنا ہے۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے ایران سے اپنے بعد پہنچنے والوں سے بھی میل جول کیا تو پھر آپ کے 14 دن دوبارہ سے شروع ہو جائیں گے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ 22 کے بعد بھی بائی ائیر آنے والوں کو تو ملک کے مختلف حصوں میں جانے دیا گیا ہمارے لیے پابندی کیوں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں