**نیشنل بینک آف پاکستان پر 12 ملین پاؤنڈ کے نقصان کے سنگین الزامات** ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی طرف سے ایک خط میں کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

**نیشنل بینک آف پاکستان پر یو کے بینک کی فروخت میں 12 ملین پاؤنڈ کے نقصان کے سنگین الزامات**

**کراچی:** نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) پر یونائیٹڈ نیشنل بینک لمیٹڈ، یو کے (UNBL) میں اپنی حصص داری فروخت کرنے کے معاملے میں مالی بدانتظامی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔

یہ الزامات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) میں داخل کی گئی ایک رسمی شکایت میں سامنے آئے ہیں۔ بدعنافی کے خلاف کام کرنے والے اس عالمی ادارے نے ان الزامات پر این بی پی کے صدر کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے۔

شکایت کا محور این بی پی کا یو کے کی بڑی تجارتی گروپ بستی وی گروپ کو اپنی 45 فیصد حصص داری فروخت کرنا ہے۔

**عائد کردہ الزامات درج ذیل ہیں:**

1. **کم قیمت پر فروخت سے 12 ملین پاؤنڈ کا نقصان:** الزام ہے کہ این بی پی نے PPRA کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے حصص محض 22.9 ملین پاؤنڈ میں فروخت کیے۔ بینک نے کھلی مقابلہ کی بجائے بغیر ٹender کے ایک ویلیوایٹر اور قانونی فرمز کو خدمات کے لیے رکھا۔ یو این بی ایل کی جائیدادوں اور اثاثوں کی قیمت، جو براہ راست حصص کی قیمت کا تعین کرتی ہے، محض 25 ملین پاؤنڈ لگائی گئی جبکہ اس کی اصل مالیت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا قوی امکان تھا۔ اس غلط عمل کے نتیجے میں این بی پی کو حصص کی مسابقتی قیمت نہ مل سکی جس سے تخمیناً 12 ملین پاؤنڈ (آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق تقریباً 3.45 ارب روپے) کا نقصان ہوا۔

2. **22.9 ملین پاؤنڈ کی رقم پاکستان نہ لانے کی ناکامی:** اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی واضح ہدایات کے باوجود فروخت سے حاصل ہونے والی 22.9 ملین پاؤنڈ (8.1 ارب روپے سے زائد) کی مکمل رقم پاکستان نہیں لائی گئی۔ اسٹیٹ بینک نے مارچ 2024 میں اپنی حتمی منظوری قوانین کی پابندی اور رقم کی واپسی کی شرط پر مشروط کی تھی۔ اگرچہ بستی وی گروپ نے یہ رقم جولائی 2024 میں این بی پی کے بحرین برانچ کے کھاتے میں جمع کرا دی تھی، لیکن یہ رقم اب بھی بیرون ملک موجود ہے۔ بینک کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم این بی پی نیویارک برانچ بند کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بحرین میں رکھنا چاہتی ہے، جو اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے برعکس ہے۔

**قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی:**

ٹی آئی پی کے خط میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسلسل این بی پی کو مقامی اور بین الاقوامی قوانین بشمول زرمبادلہ کے ضوابط کی پابندی کی ہدایت کی تھی۔ PPRA قواعد 2004 کے رول 20 کے تحت، جو کہ خریداری کا بنیادی طریقہ کھلی مقابلہ کی بولی کو قرار دیتا ہے، اس اعلٰی قیمت کے معاہدے کے لیے مشیروں کی تقرری میں اس کی خلاف ورزی کی گئی۔

معاملے کے ایک اور متنازعہ پہلو کا تعلق این بی پی کی اپنی انتظامیہ کے اس اعتراض سے ہے جس میں بستی وی گروپ کے بینکاری کے کاروبار چلانے کے تجربے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، اس کے باوجود این بی پی کے بورڈ نے دسمبر 2023 کی ایک ایمرجنٹ میٹنگ میں اس فروخت کی منظوری دے دی۔

**جواب دہی کا مطالبہ:**

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا خط ریاستی ملکیت کے اس عظیم بینک سے جواب دہی کا ایک رسمی اقدام ہے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس سے کارپوریٹ گورننس میں سنگین خامیوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ میں ناکامی کی نشاندہی ہوتی ہے۔

نیشنل بینک آف پاکستان نے ان مخصوص الزامات کے حوالے سے ابھی تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی ریاستی ملکیت میں چلنے والے اداروں کے بڑے بین الاقوامی معاہدوں کے نگرانی اور مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہدایات پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتی ہے۔