
سہیل دانش
20-10-2025
==========
ہم نے پہلی بار آپ کو اس وقت دیکھا جب آپ کے پیش رو جنرل باجوہ فوج کی کمان آپ کے سپرد کر رہے تھے۔ ایک فرض شناس پروفیشنل کمانڈر کی حیثیت سے فوج کے تمام اہم کلیدی عہدوں پر آپ کا ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ آپ اپنے اظہار میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے۔ ابتدائی زندگی سے لے کر آج تک ایک گرمجوش ایمانی قوت اور خداوند کریم کے فضل و کرم پر بھروسہ آپ کا قیمتی اثاثہ رہا ہے۔ اس لئے آپ کی قوت فیصلہ میں بروقت اور دو ٹوک ایکشن کا رنگ نمایاں ہے۔ آپ نے ایک طویل پروفیشنل ‘ہشاش بشاش اور رواں دواں زندگی گزاری ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ نہ تقریر کرنے کا شوق ہے اور نہ آپ کبھی ذاتی شہرت کے خواہاں رہے ہیں۔فوج کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہنے کے دوران یقینا آپ کے گرد بہت سی اہم شخصیات کا ہجوم رہا ہو گا آپ کی شخصیت میں مجھے ایک جگمگاتا مذہبی نگار خانہ سجا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لئے آپ اپنی بات بغیر لگی لپٹی کہہ جاتے ہیں۔ اللہ پاک کی نصرت سے بہت سی آزمائشوں‘ رکاوٹوں اور چیلنجوں کو پھلانگ جاتے ہیں۔ ہم وطنوں کے لئے یہ بات کتنی اہم اور قابل فخر ہو گی کہ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت صدر امریکہ آپ کو اپنی پسندیدہ شخصیت کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ آپ کے وژن جس میں مجھے مادروطن کی حفاظت کا عزم اللہ کے کلام سے رہنمائی حاصل کرنے کا جذبہ‘ اور معاشی و اقتصادی ترقی کے امکانات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنے کی صلاحیت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ فوج کی سپہ سالاری کے گزرے تین سال میں آپ نے اپنے ہونے کا دلیرانہ ثبوت دیا ہے۔ آپ یہ کہتے ہوئے نہیں ہچکچاتے کہ فوج کے سپہ سالار کے بعد آپ کو کسی اور عہدے کی خواہش نہیں بس یہی وہ عہدہ ہے جس کی حیثیت میں آپ کا ایک حکم کراچی کے چار کروڑ لوگوں کے لئے ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ایک دیرینہ مطالبہ’سرکولر ریلوے کی بحالی‘ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔ جب آپ کے سامنے افغانستان کے ساتھ تنازعہ ہو، بھارتیوں کی دھمکیاں ہوں،اندرونی سیاسی استحکام کا سر اٹھاتا جیسے معاملات ہوں، دنیا بھر میں ہونے والے واقعات،بدلتے منظر اور پاکستان کی خارجہ امور پر پالیسیاں ہوں، جب آپ ان تمام معاملات پر فرنٹ سے لیڈ کر رہے ہیں تو پھر اس شہر کے ایسے معاملے پر آپ کو ضرور کردار ادا کرنا چاہیے جو نہ صوبائی حکومت کے بس کی بات ہے نہ یہ ریلوے کی وزارت کی اہلیت ہے۔ نہ اس سلسلے میں کبھی وفاقی حکومت نے کوئی سرگرمی دکھائی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس اہم منصوبے کو دوبارہ ایکٹو کرنے میں کسی بھی حکومت اور ادارے کی دلچسپی نہیں ہے۔ آپ خود اندازہ کیجیے یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے چند سال پہلے یہ ریل چلتی تھی۔ اس کا ٹریک موجود ہے۔ اس کے اسٹیشن موجود ہیں ۔گزشتہ سالوں میں جب سے یہ ٹرین سروس بند کی گئی اس کے اطراف میں تجاوزات کی بھر مار ہو گئی۔ مافیاز نے ریلوے کی زمین پر قبضہ کر لیا ۔گھر بن گئے، اپنے اپنے مقاصد اور مفادات کے لئے قبضے ہو گئے۔ ریلوے وزارت کی غفلت اور نا اہلی پولیس اور دیگر اداروں کی مافیاز کے ساتھ ملی بھگت‘ صوبائی حکومت کی مجرمانہ عدم توجہی اور ہر غلط کام کی پردہ پوشی‘ آپ سے زیادہ اس حقیقت کو کون جانتا ہے کہ یہ شہر وطن عزیز کی ٹرین کا انجن ہے۔ ریونیو کلیکشن میں اس شہر کا حصہ 65فیصد ہے۔ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے یاد ہے کہ وہ ایک ڈھلتی شام تھی جب فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف بابائے قوم کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لئے پہنچے تھے۔ انہوں نے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ہم مزار قائداعظم کے احاطے کے اندر اور اس کے اطراف کی تزئین و آرائش اور باغات کی تعمیر کے لئے فوری کوئی ماسٹر پلان تشکیل دیں۔ پھر انہوں نے اپنے بائیں جانب کھڑے کور کمانڈر کراچی کو ہدایت کی کہ آج سے کور 5قائد اعظم کے مزار اور اس کے اطراف کے تمام احاطوں کی نگرانی کی ذمہ داری کی پابند ہو گی۔انہوں نے بعد میں ایم کیو ایم کی قیادت سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ مزار کے اطراف میں موجود لائنز ایریا کی آبادی کو ہم مناسب متبادل رہائشی سہولت فراہم کر دیں تو مزار کے چاروں اطراف ایک گرینڈ جناح پارک بنایا جا سکتا ہے۔ پھر اس خواہش کی تکمیل کے حوالے سے مزار قائد کے اندرونی حصے میں خوبصورت باغات اور دوسرے انفراسٹرکچر کی تعمیر کی گئی۔ اسی حوالے سے حکومت اور ایم کیو ایم کی کوششوں سے مزار قائد کے عقب سے صدر تک سڑک کی تعمیر ممکن ہو سکی۔ اس سے قبل یہ سب رہائشی علاقہ تھا۔ گو کہ مزار کے اطراف میں کھلے میدانوں پر کوئی ترقیاتی کام نہ ہو سکا لیکن فوج کی نگرانی کے سبب اس میں کوئی انکروچمنٹ بھی نہ ہو سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسٹیڈیم روڈ سے لے کر کئی ایسے منصوبے پلان کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچے جو ان کی مداخلت کے بغیر ناممکن تھے۔ شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ کورنگی کی آباد کاری کے منصوبے میں ایوب خان کے دور میں جنرل اعظم کے سخت گیر کردار نے ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ مجھے یاد ہے بھٹو دور میں شاہراہ فیصل کے توسیعی منصوبے میں بھی نو کمپرومائز اور کسی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کام کیا گیا۔ کراچی میں سرکولر ریلوے کے منصوبے کو دوبارہ ایکٹو کرنے کے لئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹریک کی بندش کے بعد ٹریک کے دونوں جانب جو تجاوزات قائم ہو چکی ہیں ،دونوں اطراف 60-60فٹ تک کم از کم تمام تجاوزات کو بغیر دبائو اور کمپرومائیز کے گرا دیا جائے۔ بندش کے دور میں چند اوورہیڈ نے اس ٹریک کے راستے میں مسئلہ کیا ہے۔ یقین جانیے اگر آپ اسی قسم کا ایک حکم 5کور کو دیں ۔ اس پروجیکٹ پر ایک ایسا ایماندار آفیسر تعینات کریں جو نہ کوئی دبائو قبول کرے نہ کسی کمپرومائیز کا قائل ہو، اس پراجیکٹ کے اس مرحلے کے بعد نئے سرے سے ٹریک ڈالنا اور اسٹیشنز اور دوسرا نظام ریلوے اور وفاقی حکومت بآسانی ڈیزائن کر کے اسے آپریٹ کر سکتی ہے۔ ریلوے کے پاس ایسی اراضی موجود ہے جسے اپنی مدد آپ کے تحت آکشن کر کے اس اہم منصوبہ کو ایکٹو کیا جا سکتا ہے جو کراچی جیسے وسیع و عریض شہر کے ٹرانسپورٹ کے مسئلے کو حل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر جنرل عاصم منیر اس مسئلے میں مداخلت کریں تو یقین جانیں کراچی کے عوام انہیں اپنے محسن کے طور پر یاد رکھیں گے۔























