
تحریر: سہیل دانش
18 اکتوبر سے 27 دسمبر 2007 تک جیسے موت محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعاقب کررہی تھی۔ وہ 18 اکتوبر کو 10 سال کی جلا وطنی کے بعد جب ایمریٹس ایئرلائن کی خصوصی پرواز کے ذریعے کراچی ایئرپورٹ پہنچیں تو لاکھوں کا پُرجوش ہجوم اُنہیں خوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھا۔ جلوس دوپہر سے مغرب تک آہستہ آہستہ اپنی منزل شاہراہِ قائدین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ابھی زردی مائل آسمان نے سیاہ چادر اوڑھی ہی تھی کہ کارساز کے مقام پر جلوس کو بائیں سڑک سے دائیں سمت موڑدیا گیا، سڑک پر اسٹریٹ لائٹ آف تھیں جس کے سبب اندھیرے کا احساس کچھ زیادہ ہی محسوس ہورہا تھا۔ اچانک دو خوفناک خود کش دھماکے ہوئے۔ اور آناً فاناً میں 200 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے 500 افراد زخموں سے گھائل ہوگئے، بے نظیر بھٹو جو بم پروف ٹرک میں موجود تھیں اِس حادثے میں بال بال بچ گئیں، اُنہیں فوری طور پر بلاول ہاؤس پہنچایا گیا دوسرے دن صبح میرے لئے یہ حیرانگی کے لمحات تھے جب رات کو موت کو اپنے قریب سے دیکھنے والی بے نظیر بھٹو اپنے زخمی کارکنوں کی عیادت کے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کررہی تھیں۔ اِس جلوس میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب ایک شخص ہجوم میں ٹرک کے قریب پہنچ کر بار بار بے نظیر بھٹو سے التجا کررہا تھا کہ وہ قریب سے اُنہیں دیکھنا چاہتا ہے اُس کی گود میں ایک معصوم بچہ بھی تھا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے حفاظتی حصاور بنانے والے گارڈز سے کہا کہ اسے آنے دو۔ لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ وہ ٹرک کے قریب نہیں پہنچ سکا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو نے اِس خدشے کا اظہار کیا کہ وہ غالباً ایک خود کش بمبار تھا۔ بے نظیر اس کے بعد حیدرآباد اور کئی دوسرے مقامات پر عوامی اجتماعات میں خطاب کے بعد 27 دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک کامیاب جلسے میں خطاب کرکے جلسہ گاہ سے باہر آئیں تو عوامی جوش و خروش کو دیکھ کر اُنہوں نے اپنی گاڑی کی چھت کی کھڑکی سے سر نکال کر لوگوں کے نعرہ تحسین کا جواب دینے کی کوشش کی اِس کے ساتھ فائرنگ اور دھماکوں کی آواز کے ساتھ بے نظیر کار میں اپنی نشست پر گرپڑیں انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگئیں وہ ایک تاریک رات تھی اُن کی موت کی خبر نے پورے ملک کو احتجاج اور صدمے سے دوچار کردیا پھر نہ جانے کتنے کمیشن بنے، کس کس طور پر تحقیقات ہوئیں اِس دوران پیپلز پارٹی برسراقتدار رہی، لیکن آج تک اِس کا جواب نہ مل سکا کہ کراچی میں اُن پر حملہ کرنے اور راولپنڈی میں شہادت کا ذمہ دار کون تھا۔
Load/Hide Comments























